داتو اوتو

داتو أوتو

منداناؤ میں بویان کے اٹھارویں سلطان (حکومت 1875ء–1902ء)، ولادت کا نام انوار الدین اوتو تھا۔ انہوں نے دریائے پولانگی کے طاس میں اتحاد قائم کیا، 1864ء میں ہسپانویوں سے لڑتے ہوئے ایک آنکھ کھوئی، اور یکے بعد دیگرے ہسپانوی حملوں کے باوجود بویان کو ناقابلِ تسخیر رکھا؛ 1875ء اور 1887ء میں مسلط شدہ امن معاہدے کیے مگر اطاعت نہ کی۔ عروج پر ان کا علاقہ جھیل بولوان سے خلیج سارانگانی تک پھیلا تھا۔ مارچ 1902ء میں ساپاکان میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبادی بانو بیگم · ابائی قنان باولی · عباس حلمی ثانی · عباس محمود العقاد

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    داتو اوتو، ولادت کا نام انوار الدین اوتو اور سلطان اوتو انوار الدین کے لقب سے بھی معروف، منداناؤ کی بڑی سلطنتوں میں سے ایک بویان کے اٹھارویں سلطان تھے، حکومت 1875ء سے 1902ء تک۔ انہوں نے ہسپانویوں کے خلاف بہت سی لڑائیوں میں عسکری قائد کے طور پر نام پیدا کیا: دریائے پولانگی کے طاس کے داتوؤں کا اتحاد بنا کر یکے بعد دیگرے ہسپانوی حملوں کے باوجود بویان کو ناقابلِ تسخیر رکھا، مسلط شدہ امن معاہدے کیے مگر اطاعت نہ کی، اور عروج پر ان کا علاقہ جھیل بولوان سے خلیج سارانگانی تک پھیلا تھا۔ کوئی ماخذ ان کی تاریخِ پیدائش نہیں دیتا؛ مارچ 1902ء میں ساپاکان میں وفات پائی۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور عروج

    وہ بویان کے ساپاکان میں سلطان بانگون مرجانون سا دیداگین اور توان بائی سا بویان کے ہاں پیدا ہوئے؛ انگریزی مضمون کا معلوماتی خانہ ان کی تاریخِ پیدائش «نامعلوم» دیتا ہے، اور اس ریکارڈ کے لیے پڑھے گئے کسی قابلِ اعتماد ماخذ میں اس کی تصدیق نہیں ملتی۔ والد کے عہد میں انہوں نے 1864ء میں تالایان باغیوں کے خلاف ہسپانویوں کی مدد کے لیے بھیجی گئی پانچ سو آدمیوں کی فوج کی قیادت کی — مگر والد کے حکم کے خلاف تالایان داتو کا ساتھ دے کر ہسپانوی فوج کو شکست دی اور تاویران تک اس کا تعاقب کیا۔ اس لڑائی میں ان کی ایک آنکھ جاتی رہی، جس سے «ایک آنکھ والا آدمی» کا نام پڑا، اور وہ بویان میں تسلیم شدہ قائد بن گئے۔ 1872ء میں بانگون کی وفات پر ان کے چچا سلطان بایاو جانشین ہوئے؛ اوتو خود تین برس بعد، 1875ء میں، سلطان بنے۔ 1 3

    انہوں نے اندرونِ ملک قصبے ساپاکان سے حکومت کی اور مگینداناؤ کے سلطان قدرت اللہ اونتونگ کی بیٹی راجا پوتری بائی لابی سے شادی کی۔ 1874ء میں وہ ہسپانویوں کے خلاف سولو کے سلطان جمال الاعظم کے ساتھ مل گئے۔ ہسپانویوں نے بویان کا بڑا قلعہ باکات لے کر اس پر قبضہ کیا، مگر اوتو نے اسے واپس لے کر انہیں مئی 1875ء میں امن معاہدے پر مجبور کیا۔ دریائے پولانگی کے طاس کے سردار ان کی قیادت کی طرف مائل ہوئے؛ ہسپانویوں نے «دوستی اور قرض کے تعلقات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی ان کی مہارت» تسلیم کی، اور انہوں نے دوستی اور شادیوں سے اپنے اتحاد مضبوط کیے — مضمون کے مطابق ان کی بیویاں کل ساٹھ تھیں۔ 1

    جنگ کا تسلسل

    امن زیادہ دیر نہ رہا۔ ہسپانویوں نے 1876ء میں جولو لیا اور کوتاپاتو اور تومباؤ کے سلطانوں کو بویان کے خلاف اتحاد پر آمادہ کیا، اگرچہ 1875ء کے معاہدے نے انہیں خود بویان میں داخل ہونے سے روکے رکھا۔ تاوسوگ اور چینی تاجروں نے غلاموں کے بدلے اوتو کو اینفیلڈ اور اسپینسر رائفلیں فراہم کیں؛ عروج پر ان کے پاس پانچ ہزار غلام تھے۔ 1885ء سے گورنر جنرل ٹیریرو کی مہمات نے باکات کو دوبارہ مسمار کر کے وہاں قلعہ اور ریلوے کا منصوبہ شروع کیا، جو ان کی افواج کی چھڑپوں سے ترک کرنا پڑا۔ 1886ء میں دو ہسپانوی دستوں نے قلعے تباہ کیے مگر ان کا علاقہ نہ کھول سکے؛ ان کے پیروکار بکھرنے لگے اور 10 مارچ 1887ء کو انہوں نے ہسپانویوں کا مسلط کردہ امن معاہدہ کیا۔ 1888ء تک ان کے حلیف الگ ہو گئے اور ان کی ساکھ ختم ہو گئی — یہی وہ سال ہے جسے عربی مضمون کا آغاز، انگریزی مضمون اور ویکی ڈیٹا کے خلاف، ان کی حکومت کا اختتام لیتا ہے — تاہم ہسپانوی مہمات کے اختتام پر بھی اوتو غیر مفتوح رہے۔ 1 3

    آخری زندگی اور وفات

    وہ مقامی سیاست میں مضبوط رہے اور مگینداناؤ کے سلطان کے لقب کے بھی خواہاں رہے، 1888ء سے 1896ء تک خالی مگینداناؤ تخت کے لیے اپنے بہنوئی داتو ماماکو کی حمایت کی، جس کے بعد سلطان مانگیگن وہاں جانشین ہوئے۔ امریکی قبضے کے باوجود وہ 1899ء تک طاقتور شخصیت رہے؛ 1900ء تک سیاسی منظر سے غائب ہو گئے اور دو برس بعد وفات پائی — مارچ 1902ء میں، جیسا کہ انگریزی مضمون کا معلوماتی خانہ دیتا ہے اور ویکی ڈیٹا کا سال اس سے مطابقت رکھتا ہے؛ عربی مضمون کی «تقریباً 1900ء» ایک پرانی قراءت ہے۔ ان کے غیر رسمی جانشینوں، جن میں ان کے چچا زاد بھائی داتو علی بھی تھے، نے مزاحمت جاری رکھی، اب امریکیوں کے خلاف۔ 1 2

    مذہب

    ان کا مذہب «نامعلوم» درج ہے اور معاملہ نشان زد ہے۔ مذہبی قراءت ایک ہی معلوماتی خانے کے خاندان میں موجود ہے: انگریزی مضمون کا معلوماتی خانہ ان کا دین سنی اسلام دیتا ہے، اور عربی مضمون کا معلوماتی خانہ — اسی مضمون کا عربی ترجمہ، اس کے ساتھ ایک ہی ماخذ خاندان — «اہلِ سنت و الجماعت» دیتا ہے۔ ویکی ڈیٹا اسلام عام دیتا ہے۔ کوئی متن ان کا مسلک نہیں بتاتا، اور سلطان کی سربراہی مسلک کی گواہی نہیں دیتی۔ دو ماخذوں کی حد سے ایک خاندان کم ہونے کی بنا پر سنی قراءت ریکارڈ کے نوٹ میں غیر فیصلہ شدہ کھڑی ہے۔ 1 3 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Predecessor of
    داتو علی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    داتو علی

    ماخذ

    1. Datu Uto — English Wikipedia
    2. Datu Uto — Wikidata Q27958592
    3. Datu Uto — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “داتو اوتو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/datu-uto/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    داتو علی

    راجا بویان (1902ء–1905ء) اور منداناؤ میں امریکی حکومت کی مزاحمت کرنے والے آخری بڑے مورو سردار۔ تینونگکوپ کے راجا مودا اور داتو اوتو کے چچا زاد بھائی، جن کے جانشین بنے؛ 1886ء سے ہسپانویوں سے لڑے اور 1903ء سے تقریباً تین ہزار پیروکاروں کے ساتھ امریکا کے خلاف جنگ کی، اپنی خودمختاری چھوڑنے یا 1903ء کے انسدادِ غلامی قانون کے تحت غلام آزاد کرنے سے انکار کیا۔ 22 اکتوبر 1905ء کو دریائے مالالا کی جنگ میں مارے گئے۔