فیصل دوم

فيصل الثاني

–

بغداد

فیصل دوم (2 مئی 1935ء – 14 جولائی 1958ء) ہاشمی خاندان کے عراق کے آخری بادشاہ تھے۔ وہ 1939ء میں اپنے والد بادشاہ غازی کے قتل کے بعد تین برس کی عمر میں تخت نشین ہوئے، 1953ء میں بالغ ہونے تک اپنے ماموں شہزادہ عبد الالٰہ کی سرپرستی میں رہے، اور 14 جولائی 1958ء کے انقلاب میں بغداد کے قصرِ رحاب میں اپنے خاندان کے افراد سمیت قتل ہوئے؛ اس انقلاب نے بادشاہت ختم کر کے جمہوریہ کا اعلان کیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران · سیاست دان
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود

مکان میں

بغداد

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    دورِ حکومت

    ان کی کم سنی کے دوران ان کے ماموں شہزادہ عبد الالٰہ سرپرست رہے؛ فیصل نے برطانیہ کے ہیرو اسکول میں اپنے چچازاد حسین، بعد کے اردنی بادشاہ، کے ساتھ تعلیم پائی۔ سرپرستی 2 مئی 1953ء کو ان کی تاج پوشی پر ختم ہوئی۔ ان کا دور بڑھتی ہوئی عرب قوم پرستی، معاشی عدم مساوات اور کمیونسٹ تنظیم کے پس منظر میں گزرا، اور انگریزی مقالہ ان کے عہد کو دیگر مذاہب اور اسلامی مکاتب کے ساتھ رواداری اور آبپاشی جیسے عوامی منصوبوں سے متصف کرتا ہے۔ عملی طور پر وہ سرپرست اور تجربہ کار وزیرِ اعظم نوری سعید کے مشورے پر انحصار کرتے تھے۔ 1 2

    قتل اور بادشاہت کا خاتمہ

    14 جولائی 1958ء کو عبد الکریم قاسم اور عبد السلام عارف کی قیادت میں فوجی بغاوت نے بادشاہت کا خاتمہ کیا۔ فیصل بغداد کے قصرِ رحاب میں اپنے خاندان کے افراد سمیت قتل ہوئے اور جمہوریۂ عراق کا اعلان ہوا؛ ان کا مقالہ بادشاہت کے خاتمے پر جانشین عہدے دار کے طور پر مجلسِ اقتدار کے صدر محمد نجیب الرباعی کا نام دیتا ہے۔ وہ بغداد کے شاہی قبرستان میں دفن ہوئے۔ 1 3

    مذہب

    ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔ انگریزی مقالے کا معلوماتی خانہ 2005ء کے ایک خبرنامے کے حوالے سے ان کا مذہب سنی اسلام بتاتا ہے؛ ویکی ڈیٹا صرف اسلام عمومی دیتا ہے، اور عربی مقالہ انہیں «عراقی سنی مسلمان» کے زمرے میں رکھتا ہے مگر اپنے متن میں کوئی مکتب نہیں بتاتا۔ ایک معلوماتی خانہ اور زمرہ بندیاں مکتب کا نام لینے کے لیے عجائب گھر کی دو مصدروں کی شرط پوری نہیں کرتیں۔ 1 4

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    بغداد
    Died in
    بغداد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    المدرسة النظامية ببغداد· بيت الحكمة (خزانة الحكمة)· البيمارستان العضدي· المارستان المقتدري· مارستان السيدة· دار العلم ببغداد (دار العلم السابورية)· جامع القطيعة ببغداد· جامع قطيعة أم جعفر

    ماخذ

    1. Faisal II — English Wikipedia
    2. Faisal II — Urdu Wikipedia
    3. Faisal II — Arabic Wikipedia
    4. Faisal II — Wikidata Q149724
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فیصل دوم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/faisal-ii/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    المدرسة النظامية ببغداد

    The Nizamiyya of Baghdad, first and most famous of the madrasas founded by the vizier Nizam al-Mulk al-Tusi: building began in 457 and sisters rose at Nishapur, Isfahan, Herat, Basra, Mosul and Amid; the Imam al-Haramayn al-Juwayni then Abu Ishaq al-Shirazi taught in it, and it mothered the Sunni institutional model that the later madrasas of Baghdad followed — the caliphs prayed there and Nizam al-Mulk himself visited to inspect its library.