فتح علی خاں قزلباش

فتح علي خان قزلباش

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

لاهور → كربلاء

نواب سر فتح علی خاں قزلباش (1862ء–1923ء) پنجاب کے لاہوری جاگیردار تھے، 1898ء میں اپنے چچا کے بعد قزلباش قبیلے کے سربراہ بنے، پنجاب لیجسلیٹو کونسل اور کونسل آف انڈیا کے رکن رہے، لکھنؤ کے شیعہ کالج کے بانیان میں شامل تھے، 1921ء میں کے سی آئی ای بنائے گئے اور کربلا میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: عبادی بانو بیگم · عبد الرشید ابراہیم · أحمد الحملاوي · أحمد جودت أوران · احمد رضا

مکان میں

لاهوركربلاء

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    shia-twelver (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    نواب سر فتح علی خاں قزلباش (1862ء – 28 اکتوبر 1923ء) برطانوی راج کے دوران لاہور، پنجاب کے جاگیردار تھے۔ وہ 1898ء میں اپنے چچا نواب سر نوازش علی خاں کے بعد قزلباش قبیلے کے سربراہ بنے، پنجاب لیجسلیٹو کونسل اور کونسل آف انڈیا کے رکن رہے، لکھنؤ کے شیعہ کالج کے بانیان میں شامل تھے، 1921ء میں ہندوستانی سلطنت کے نائٹ کمانڈر بنائے گئے اور کربلا میں دفن ہوئے۔ 1 2

    خاندان اور جاگیر

    ان کے والد سردار نثار علی خاں اور دادا علی رضا خاں تھے۔ پنجاب کی جاگیر کے علاوہ وہ ضلع بہرائچ کے تعلقہ نواب گنج علی آباد کے تعلقہ دار بھی تھے، جہاں انھوں نے ترقیاتی کام کرائے اور آم، لیچی و دیگر اثمار کے باغات لگوائے۔ 2

    سرکاری خدمات

    1895ء میں انھوں نے چترال مہم کے دوران حکومت کی مدد کی اور بڑی تعداد میں سرحدی قبائل کو حکومتِ ہند سے دوستی پر آمادہ کیا، جس کے انعام میں انھیں چناب کالونی میں پیروکاروں کے لیے 2000 ایکڑ اراضی ملی۔ وہ پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے لیے منتخب ہوئے اور 1897ء کی قحط کانفرنس میں پنجاب کی نمائندگی کی۔ 1902ء میں وہ شاہ ایڈورڈ ہفتم کی تاجپوشی میں پنجاب کی نمائندگی کے لیے चुنے گئے، اور 1904ء میں کونسل آف انڈیا کے غیر سرکاری رکن منتخب ہوئے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران انھوں نے 22,000 روپے سمیت دیگر عطیات جنگی کوششوں کے لیے دیے۔ 1

    شیعہ کالج اور دینی و تعلیمی کام

    1914ء میں انھوں نے لکھنؤ میں شیعہ کالج کا خیال پیش کیا۔ اردو مقالہ ایک مستقل بہرائچی ماخذ کی بنیاد پر لکھتا ہے کہ وہ کالج کے بانیان میں تھے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام میں مہاراجا سر علی محمد خاں والیِ محمودآباد کے دوش بدوش کام کیا، بہرائچ میں عالی شان امام باڑہ تعمیر کرایا اور لکھنؤ و بہرائچ میں عمارتیں بنوائیں۔ 1 2

    وفات و تدفین

    ان کا انتقال 28 اکتوبر 1923ء کو ہوا اور تدفین کربلا میں ہوئی؛ ویکی ڈیٹا بھی تدفین کی جگہ کربلا ہی بتاتا ہے۔ 2 3

    حوالہ جات

    • مذکورہ بالا معرف ماخذ عناصر، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظر ثانی کی تاریخ درج ہو اور ہر واقعت کی تبدیلی کا ماخذ نامزد ہو۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    لاهور
    Buried in
    كربلاء

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· بناء السور الحصين على مشهد الحائر بكربلاء· عبد اللہ بن حسین· عبد الرحمٰن چغتائی· عبد السلام· ابو الاعلیٰ مودودی· احمد شاہ قاجار

    ماخذ

    1. Fateh Ali Khan Qizilbash — English Wikipedia
    2. Fateh Ali Khan Qizilbash — Urdu Wikipedia
    3. Fateh Ali Khan Qizilbash — Wikidata Q12839455
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فتح علی خاں قزلباش”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/fateh-ali-khan-qizilbash/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مسجد بادشاهي

    A mosque in Lahore, dated to 1671 CE.