ایک نظر میں
- کردار
- sultan · شاعر
- خطہ
- persia-central-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
فتح علی شاہ قاجار (5 اگست 1772ء – 24 اکتوبر 1834ء) ایران کے قاجار خاندان کے دوسرے شاہ تھے، 17 جون 1797ء سے اپنی وفات تک حکمران رہے 1 2. انھوں نے زیادہ تر ترک قبائلی خانی کو مرکزی و مستحکم بادشاہت میں بدلا، ریاست و مذہب کے درمیان باہمی مفاد کا تعلق قائم کیا، اور ثقافتی و فنی احیا کی سرپرستی کی — مگر ان کے دور میں ایران کے قفقازی علاقے روس کے پاس ہمیشہ کے لیے چلے گئے 1.
ابتدائی زندگی
وہ بابا خان کے نام سے 5 اگست 1772ء کو دامغان میں پیدا ہوئے، حسین قلی خان قاجار، آغا محمد خان کے بھائی، کے بڑے بیٹے 1 3. والد پر زندوں کے خلاف سازش کے شبے کی وجہ سے پانچ سالہ بابا خان کو شیراز میں کریم خان زند کے دربار میں یرغمال بھیجا گیا، جہاں ان کے چچا آغا محمد خان بھی یرغمال تھے 1. 1777ء میں والد کے قتل اور 1779ء میں کریم خان کی وفات کے بعد وہ چچا کے ساتھ ہو گئے، جنھوں نے ان کی والدہ سے شادی کی، عملی طور پر سوتیلے باپ اور سرپرست بنے، اور 1786ء میں تہران میں تخت نشین ہو کر انھیں ولی عہد و نائب مقرر کیا 1.
تخت نشینی اور دورِ حکومت
چچا کے قتل (1797ء) کے وقت بابا خان فارس کے گورنر تھے؛ 28 جولائی 1797ء کو شیراز میں تخت پر بیٹھے، فتح علی شاہ کا نام اختیار کیا، اور 19 مارچ 1798ء کو تہران میں تاج پوشی ہوئی 1. ان کے دربار کی ثقافت بے مثال سختی و تفصیل کی تھی، ان کی سرپرستی نے فارسی پورٹریٹ اور بڑے آئل پینٹنگ کو عروج تک پہنچایا، اور انھوں نے تختِ خورشید و تاجِ کیانی جیسی شاہی نشانیاں اور ساسانیوں کے ساتھ صخرے کے نقش بنوائے 1. وہ «خاقان» تخلص سے شاعری کرتے تھے 3. 1797ء میں انھیں انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کی تیسری اشاعت کا مکمل سیٹ دیا گیا جسے انھوں نے پورا پڑھا، پس اپنے شاہی لقب میں «انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے عظیم ترین لارڈ و مالک» کا اضافہ کیا 1.
روس سے جنگیں
روس کے جارجیا و داغستان پر قبضے نے 1804ء میں جنگ چھیڑی، جو مضمون کے مطابق شیعہ علما کے دباؤ پر اعلان ہوئی جو روس کے خلاف جنگ پر زور دے رہے تھے 1. جنگ 24 اکتوبر 1813ء کے معاہدہ گلستان پر ختم ہوئی، جس میں جارجیا، قفقاز کی خانات اور طالش کا حصہ چلا گیا؛ دوسری جنگ (1826ء–1828ء)، جس میں ولی عہد عباس مرزا سپہ سالار تھے، فروری 1828ء کے معاہدہ ترکمان چائے پر ختم ہوئی، جس میں ایروان و نخچیوان کی خانات اور باقی طالش بھی گیا 1. 1829ء میں روسی ایلچی گریبوئیدوف کے تہران سفارت خانہ قتل عام میں مارے جانے کے بعد شاہ نے پوتے خسرو مرزا کو رسمی معذرت اور شاہ ہیرے کے ساتھ سینٹ پیٹرزبرگ بھیجا 1.
آخری زندگی اور وفات
جب پسندیدہ بیٹے اور ولی عہد عباس مرزا 25 اکتوبر 1833ء کو وفات پا گئے تو فتح علی نے پوتے محمد مرزا کو ان کی جگہ ولی عہد مقرر کیا 1. وہ اصفہان میں 19 جمادی الآخرہ 1250ھ، 24 اکتوبر 1834ء کو وفات پا گئے اور قم میں فاطمہ معصومہ کے مزار میں، امام موسیٰ کاظم کی بیٹی فاطمہ کے پہلو میں دفن ہوئے 3 1. اپنی تمام تصویروں میں وہ اپنی گھنی سیاہ داڑھی سے فوراً پہچانے جاتے ہیں، جو ان کی پتلی کمر کے نیچے تک پہنچتی تھی 1.
مذہب
کسی بھی پڑھے گئے متن نے ان کے لیے کوئی فقہی مذہب نام لے کر نہیں بتایا۔ وہ روایت جس کے اندر انھوں نے حکومت کی پوری بیان کی جاتی ہے: وہ اثنا عشری شیعہ ایران کے شاہ تھے، ان کی بادشاہت ریاست و مذہب کے باہمی مفاد کے تعلق پر قائم تھی، شیعہ علما نے 1804ء کی جنگ کے لیے ان پر دباؤ ڈالا، ان کے سکوں نے شیعہ امام کے نام پر سکے ڈھالنے کی پرانی روایت توڑی، اور وہ قم میں فاطمہ معصومہ کے مزار میں دفن ہیں 1 3. وکی ڈیٹا کی مذہب قیمت واحد ساختی قیمت «شیعہ اسلام» ہے 4. ریاستی روایت، علما کا دباؤ، سکوں کی روایت اور مزار کی تدفین خاندانی سیاق و عمل ہیں، اور ساختی ڈیٹا کبھی مذہب ثابت نہیں کرتا، اس لیے ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔
محققین کے لیے نوٹس
انگریزی مضمون کا آغاز ان کی وفات 24 اکتوبر 1834ء بتاتا ہے جبکہ اس کا آخری حصہ 23 اکتوبر 1834ء دیتا ہے؛ عربی مضمون کا 19 جمادی الآخرہ 1250ھ تاریخ کو 24 اکتوبر پر ثابت کرتا ہے، اور وکی ڈیٹا کی پہلی قیمت 23 اکتوبر دیتی ہے، اس لیے دن متنازع درج کیا گیا 1 3 4. عربی مضمون کی پیدائش کی ہجری جوڑیاں (1183ھ، اور کہا گیا 1185ھ) 5 اگست 1772ء سے نہیں ملتیں، جو 1186ھ میں پڑتا ہے، اس لیے ان کے ریکارڈ میں پیدائش کا ہجری سال حذف کیا گیا ہے 3.
تعلقات
- Parent of
- عباس مرزا
- Born in
- دامغان
- Died in
- أصفهان
- Successor of
- آغا محمد خان القاجاري
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
جامع أصفهان· معركة أصفهان· ملحمة أصبهان سنة 624هـ· فتح أصبهان· وفاة البهلوان الإلدكزي — فتن أصفهان والري وخروج طغرل· ابن عساکر کا مشرق کی طرف دوسرا بڑا سفر، 529-533ھ/1135-1139ء· ملك عسكر الخليفة أصفهان· التقويم الجلالي بأمر ملكشاه
ماخذ
- Fath-Ali Shah Qajar — English Wikipedia
- Fath-Ali Shah Qajar — Urdu Wikipedia
- Fath-Ali Shah Qajar — Arabic Wikipedia
- Fath-Ali Shah Qajar — Wikidata Q175299
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “فتح علی شاہ قاجار”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/fath-ali-shah-qajar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.