ایک نظر میں
- کردار
- فقیہ · عالم
- خطہ
- persia-central-asia
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
shia-twelver (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
حاج شیخ فضل اللہ نوری (24 نومبر 1843 – 31 جولائی 1909) قاجاری ایران کے اثنا عشری شیعہ فقیہ تھے۔ انہوں نے عراق کے عتبات میں مرزا حسن شیرازی سے تعلیم پائی اور تہران کے سب سے نمایاں عالم و فقیہ بنے؛ پہلے شریعت سے مشروط آئینی انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے خلاف ہو کر سیکولرازم پر استبداد کو ترجیح دی، اور 1909 میں فاتح آئین پسندوں نے انہیں پھانسی دی۔ 1 2
ان کی تاریخِ پیدائش میں دونوں مصادر مختلف ہیں: انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا اسے 2 ذوالقعدہ 1259ھ سے جوڑ کر 24 نومبر 1843 قرار دیتی ہے، جبکہ انگریزی ویکیپیڈیا 24 دسمبر 1843 دیتا ہے۔ یہ ریکارڈ ایرانیکا کی قراءت اختیار کرتا ہے اور متبادل بھی درج کرتا ہے۔ 2 1
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ مازندران کے ضلع کوجور کی بستی لاشک میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد مقامی عالم دین ملا عباس کوجوری تھے۔ کوجور اور تہران میں ابتدائی تعلیم کے بعد وہ کم عمری میں عراق کے شیعہ مقدس شہروں، عتبات، گئے جہاں نامور شیعہ عالم دین مرزا حسن شیرازی سے پڑھا۔ تقریباً 1882-83 میں تہران واپس آ کر وہ بتدریج اس کے سب سے نمایاں عالم و فقیہ بن گئے۔ 2
تہران میں ان کی گزر بسر زیادہ تر شرعی خدمات کی فیسوں پر تھی — نکاح و عقود کرانا، امیروں کی وصیتوں کا انتظام اور شرعی رقوم جمع کرنا — جبکہ شہر کے معززین، تاجر اور اہلکار اپنے قانونی مقدمات ان کے پاس لاتے تھے، وہ باقاعدہ درس دیتے تھے، اور انہوں نے فقہ، اصول اور فلسفے پر کتابیں لکھیں۔ 2 1
سیاست اور آئینی بحران
قاجاری حکومت کی غیر ملکی تاجروں کو دی گئی مراعات نے انہیں سیاست کی طرف کھینچا؛ 1890-91 کی تمباکو مراعت مخالف تحریک میں ان کا حصہ رہا، جو مرزا حسن شیرازی کے تمباکو نوشی کی حرمت کے فتوے اور مراعت کی منسوخی پر ختم ہوئی۔ ان کی دلیل، جو ان کے استاد سے ماخوذ تھی، یہ تھی کہ امامِ زمانہ کی غیبت میں حکومت حاکم اور علماء کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ 2
جب آئینی تحریک آئی تو انہوں نے پہلے ایک ایسی مجلس پر رضامندی ظاہر کی جو اسلامی ادارہ سمجھی جائے۔ انہوں نے وہ تجویز تیار کی جو 1907 کے تکمیلی بنیادی قانون کی دفعہ 2 بنی، جس کے تحت قانون سازی کو شریعت سے مطابقت کے لیے اعلیٰ درجے کے مجتہدوں کی کونسل کے سامنے پیش کیا جانا تھا۔ ان کی اپنی تعریف میں علماء کی مطلوبہ مجلس وہ تھی جس کا مقصد «اثنا عشری شیعہ حکومت کی خدمت و معاونت اور جعفری مذہب کے پیروکاروں کے حقوق کی حفاظت» تھا۔ 2
مگر وہ بہبہانی اور طباطبائی سے الگ ہو گئے، جون 1907 میں اپنے پیروکاروں کے ساتھ شاہ عبد العظیم کے مزار میں پناہ گزیں ہوئے، اور مطبوعہ اعلامیوں کے ذریعے مجلس کے خلاف مہم چلائی، یہ استدلال کرتے ہوئے کہ شریعت حکومت کے تمام ضوابط کو محیط ہے اور عوام نے پیغمبر کے قانون کو پھینک کر اپنا قانون بنا لیا ہے۔ انہوں نے محمد علی شاہ کا ساتھ دیا، پارلیمنٹ کے حامیوں کے خلاف فتوے جاری کیے، اور نجف کے مراجع — آخوند خراسانی، مرزا حسین تہرانی اور عبد اللہ مازندرانی — نے ان پر اضطراب و فتنہ پیدا کرنے کا الزام لگایا۔ 1 2
پھانسی اور اثرات
1909 میں آئین پسندوں کے تہران پر قبضے کے بعد انہیں گرفتار کر کے شیخ ابراہیم زنجانی کی سربراہی میں قائم عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور «زمین میں فساد و فتنہ پھیلانے» کے جرم میں سزا پائی؛ 13 رجب 1327ھ، 31 جولائی 1909 کو انہیں پھانسی دی گئی۔ اسلامی انقلاب دستاویزی مرکز کی روایت ہے کہ انہوں نے روسی سفارت خانے میں پناہ لے کر یا اپنے گھر پر روسی پرچم لگا کر خود کو بچانے کا موقع ٹھکرا دیا۔ 1
1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران میں انہیں شریعت کے مدافع کے طور پر سراہا جاتا ہے اور اسکول کی کتب میں شہید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ مورخین نے آئینی حکومت کی مخالفت اور تشدد پر اکسانے پر ان پر تنقید بھی کی ہے؛ تہران کی ایک بڑی شاہراہ ان کے نام پر ہے۔ 1
مصادر
- اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخ ہو اور ہر تبدیل شدہ امر کا ماخذ نامزد کرے۔
ماخذ
- Fazlollah Nouri — English Wikipedia
- Fazlollah Nouri — Encyclopaedia Iranica
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “فضل اللہ نوری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/fazlollah-nouri/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.