ایک نظر میں
- کردار
- شاعر
- خطہ
- persia-central-asia
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سردار غلام محمد خان طرزی قندھار کے محمدزئی گھرانے کے افغان سردار اور شاعر تھے، جو 30 اپریل 1830ء کو قندھار میں پیدا ہوئے اور 1900ء میں دمشق میں وفات پائی۔ ان کے والد سردار رحیم دل خان اور دادا سردار پائندہ خان تھے۔ جوانی میں سپاہی اور پھر درباری شاعر رہے؛ دوسری اینگلو افغان جنگ میں لڑے، امیر عبدالرحمن خان نے 1881ء میں انہیں جلاوطن کر دیا، اور بقیہ عمر وہ ہندوستان، عراق، سلطنتِ عثمانیہ اور شام کے درمیان اپنے قلمی نام «طرزی» سے شاعری کرتے رہے۔ وہ محمود طرزی کے والد اور ملکہ ثریا کے دادا تھے۔ 1
ابتدائی زندگی اور مقام
ان کا خاندان بارکزئی خاندان کی سب سے طاقتور اور نمایاں شاخ محمدزئی سے تعلق رکھتا تھا۔ جوانی میں وہ سپاہی تھے، پھر شاعری کی طرف آئے، اور امیر دوست محمد خان نے انہیں ریاستی شہزادوں اور علماء کے حلقے میں شامل کیا؛ ان کا دوست محمد اور ان کے جانشین شیر علی خان دونوں سے قرابتی تعلق تھا۔ شواہد بتاتے ہیں کہ وہ جنوبی افغانستان کے سردار تھے اور اپنے والد کے علاقے کا بیشتر حصہ ان کے پاس تھا۔ مضمون ایک ہم عصر برطانوی رپورٹ نقل کرتا ہے جس میں انہیں کسی زمانے کا نمایاں سردار بتایا گیا ہے، مگر اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ اس دور میں ان کے پاس کوئی اہم عہدہ تھا۔ 1
جنگ اور جلاوطنی
طرزی نے دوسری اینگلو افغان جنگ میں حصہ لیا اور اپنے آدمیوں کی قیادت کی۔ جنگ کے بعد وہ ان سرداروں میں شامل ہو گئے جن پر امیر عبدالرحمن خان نے بغاوت کا الزام لگایا، اور 1881ء میں انہیں افغانستان سے نکال دیا گیا۔ 1
جلاوطنی میں شاعر
وہ کراچی اور پھر ہندوستان منتقل ہو گئے۔ وہاں انہوں نے دوبارہ شاعری شروع کی اور کئی بڑے شہروں کا دورہ کیا، جہاں بادشاہت کے مخالفوں نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے «طرزی» (اسلوب شناس، دانشور) قلمی نام اختیار کیا اور دینی، صوفیانہ اور دنیوی شاعری ایک ذاتی اسلوب میں کی جو شام سے ترکستان اور ہندوستان تک مشہور ہوا۔ پھر وہ ہندوستان سے اکتا کر اپنے خاندان کو بغداد لے گئے، جہاں وہ شیخ عبدالقادر جیلانی کے مہمان رہے؛ اس کے بعد خاندان استنبول چلا گیا، جہاں سلطان نے ان پر شاہی عنایات کیں اور انہیں بڑے ماہانہ وظیفے کے ساتھ سرکاری مکان میں ٹھہرایا۔ طویل قیام کے بعد وہ دمشق منتقل ہو گئے۔ طرزی شہر کے عمائدین کے ساتھ فلسفہ اور اخلاقیات پر گفتگو کی محفلوں کے لیے مشہور تھے۔ 1
آخری ایام اور وفات
زندگی کے آخری دور میں طرزی نے امیر عبدالرحمن خان سے دوبارہ رابطہ قائم کیا۔ ان کا نام اور ان کا کلام ایران سے چین تک کے ممالک میں آج بھی مشہور ہے، اور وہ اور ان کے بیٹے محمود طرزی مغربی دنیا میں قیمتی علمی ماخذ بنے۔ 1
ان کی وفات دمشق میں ہوئی؛ مضمون ان کی وفات 8 دسمبر 1900ء بتاتا ہے اور اسی پیرے میں 5 فروری 1901ء کا متبادل بھی دیتا ہے، دونوں میں سے کسی کو حتمی نہیں ٹھہراتا۔ شامی حکام نے ان کی سرکاری آخری رسومات کا انتظام کیا، اور وہ دمشق کے حضرة الدحداح قبرستان میں دفن ہوئے، جہاں دس سے زائد ممالک اور سلطنتوں کے عمائدین نے تعزیت پیش کی۔ 1
ورثہ
طرزی افغان رہنما محمود طرزی کے والد تھے، جو افغانستان کے سفیر اور وزیرِ خارجہ رہے اور خود بھی شاعر تھے۔ انہوں نے پانچ شادیاں کیں اور گیارہ بیٹے اور چھ بیٹیاں چھوڑیں، اور ان کی پوتی ثریا طرزی افغانستان کی پہلی ملکہ زوجہ اور بین الاقوامی خاتون رہنما بنیں۔ 1
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
- Parent of
- محمود طرزی
- Died in
- دمشق
- Buried in
- دمشق
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ثریا طرزی· الكهف بقاسيون (كهف جبريل)· قصر هرقل (شمس الملوك)· الجامع الأموي بدمشق· فتنة الحافظ عبد الغني بدمشق سنة 595· حصر الأفضل دمشق وعوده عنها· استيلاء العادل على دمشق· قدوم الغزالي دمشق متزهداً سنة 488
ماخذ
- Ghulam Muhammad Tarzi — English Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “غلام محمد طرزی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ghulam-muhammad-tarzi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.