حافظ ابراہیم

حافظ إبراهيم

–

القاهرة

مصری شاعر (1872–1932)، جنہیں «شاعر النیل» اور «شاعر الشعب» کہا گیا کیونکہ ان کی شاعری عام مصریوں کے مسائل — خواتین کے حقوق، غربت، تعلیم اور برطانوی قبضے کی مخالفت — کی آواز بنی۔ عربی شاعری کے کلاسیکی احیا کے نمایاں نام، 1911 سے مصر کے قومی کتب خانے کے ادبی شعبے کے سربراہ رہے اور وکٹر ہیوگو کے ناول «بد نصیب» کا عربی ترجمہ کیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · writer · مترجم
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · عبد اللہ جودت · عبد اللہ ہارون · عبدالمجید ثانی

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد حافظ ابراہیم (1872–1932) مصر کے مشہور شاعر تھے، جنہیں احمد شوقی نے «شاعر النیل» کا لقب دیا اور غریبوں کے سیاسی ترجمان ہونے پر «شاعر الشعب» بھی کہا گیا۔ ان کی شاعری عام مصریوں کے مسائل — خواتین کے حقوق، غربت، تعلیم — کو موضوع بناتی اور برطانوی سلطنت و غیر ملکی قبضے پر تنقید کرتی تھی۔ 1 2 وہ ان مصری شعرا میں سے تھے جنہوں نے انیسویں صدی کے اواخر میں کلاسیکی عربی شاعری کو زندہ کیا۔ 2

    ابتدائی زندگی

    ان کی ولادت 24 فروری 1872 کو اسیوط کے قصبے دیروط میں ہوئی؛ والد مصری انجینئر اور والدہ ترک النسل تھیں۔ ولادت کا سال قطعی طور پر طے نہیں: انگریزی اور اردو مقالوں کی سرخی میں ان کی عمر 1871 تا 1932 لکھی ہے اور ویکی ڈیٹا میں بھی 1871 کی ایک قدر موجود ہے، اس لیے عجائب گھر نے سال کو متنازع درج کیا ہے۔ 1 2 3 چار سال کی عمر میں والد کے انتقال کے بعد وہ اپنے ماموں کے پاس طنطا اور پھر قاہرہ میں پلے بڑھے اور تعلیم مکمل کی۔ 1

    زندگی

    1888 میں ملٹری اکیڈمی میں داخل ہوئے اور تین برس بعد لیفٹیننٹ بنے۔ وزارت داخلہ میں تعیناتی کے بعد 1896 میں سوڈان بھیجے گئے، جہاں سوڈانیوں سے بدسلوکی کے خلاف احتجاج میں شریک ہونے پر ان کا کورٹ مارشل ہوا اور مصر واپس بھیج دیا گیا۔ 1 2 1911 میں انہیں مصری قومی کتب خانے (دار الکتب) کے ادبی شعبے کا صدر مقرر کیا گیا اور وزیر تعلیم نے «بیگ» کا خطاب دیا، جس سے ان کی مالی حالت مستحکم ہوئی۔ 1

    ادبی خدمات

    ان کی مشہور نظموں میں «مصر تتکلم عن نفسہا» اور «البسوک الدماء فوق الدماء» شامل ہیں، اور نثر میں سماجی تنقید پر «لیالی سطیح» لکھی۔ وہ وکٹر ہیوگو کے ناول «بد نصیب» (Les Misérables) کے عربی ترجمے (1903) کی وجہ سے بھی معروف ہیں۔ 1 4

    وفات

    ان کا انتقال 21 جون 1932 کو قاہرہ میں ہوا اور سیدہ نفیسہ کے قبرستان میں دفن ہوئے۔ ویکی ڈیٹا میں وفات کی ایک متبادل تاریخ 31 جولائی 1932 درج ہے جو تینوں مقالوں سے متصادم ہے، اس لیے اسے اختیار نہیں کیا گیا۔ 1 4 3 قاہرہ کے جزیرہ زمالک میں فاروق ابراہیم کا بنایا ہوا ان کا مجسمہ نصب ہے۔ 2

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    القاهرة
    Buried in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Hafez Ibrahim — Urdu Wikipedia
    2. Hafez Ibrahim — English Wikipedia
    3. Hafiz Ibrahim — Wikidata Q2993475
    4. Hafez Ibrahim — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حافظ ابراہیم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hafiz-ibrahim/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.