حافظ نور اللہ (لکھنؤ کے خطاط)

حافظ نور الله (خطاط لكهنؤ)

لكهنؤ

نوابانِ اودھ آصف الدولہ اور سعادت علی خان کے عہد میں لکھنؤ کے استادِ نستعلیق، آقا عبد الرشید کے شاگرد عبد الرحیم فرمان نویس کے شاگرد؛ نواب کے لیے سعدی کی «گلستان» مکمل کرنے سے پہلے فوت ہوئے 1۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
calligrapher
دور
العصر الاستعماري
خطہ
south-asia

arts-of-the-book

خلاصہ

«تاریخِ خط و خطاطین» کے مطابق لکھنؤ میں خطاطی نے نواب آصف الدولہ کے عہد میں فروغ پایا جب اجڑتی دہلی کے اہلِ علم و فن وہاں پہنچے، اور اس دور کے مشہور خطاط حافظ نور اللہ اور قاضی نعمت اللہ لاہوری تھے۔ حافظ نور اللہ اپنے دور کے باکمال استاد تھے؛ انہوں نے آقا عبد الرشید دیلمی کے شاگرد عبد الرحیم فرمان نویس سے خطاطی سیکھی، اور جنہوں نے انہیں براہِ راست عبد الرشید کا شاگرد لکھا وہ غلطی پر ہیں۔ لکھنؤ پہنچے تو نواب نے ان کی قدر افزائی کی اور انہیں دفترِ انشا و مراسلات کا افسرِ اعلیٰ مقرر کیا۔ 2 1

نامکمل گلستان

نواب سعادت علی خان نے فرمائش کی کہ ان کے لیے سعدی کی «گلستان» لکھیں۔ اس دور کے بڑے خطاط قطعات اور وصلیاں تو لکھتے مگر پوری کتاب لکھنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے؛ وہ انکار نہ کر سکے اور اسّی رِم کاغذ، سو قلم تراش چاقو اور ہزاروں قلموں کے نَے منگوانے کو کہا؛ نواب حیران ہوئے مگر انتظام کر دیا۔ سات باب لکھے تھے کہ انتقال ہو گیا، اور آٹھواں باب ان کے بیٹے حافظ ابراہیم نے لکھ کر مکمل کیا اور نواب کی خدمت میں پیش کیا۔ 1 3

شہرت

کتاب کے مطابق ان کی شہرت ان کی زندگی ہی میں پھیل گئی تھی: ان کی معمولی وصلیاں ایک ایک اشرفی میں بکتی تھیں۔ غلام محمد ہفت قلمی، جنہوں نے لکھنؤ کا سفر کیا اور ان سے ملے، ان کے اخلاقِ کریمانہ اور عجز و انکسار کی تعریف کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ان کی روش آقا رشید سے مشابہ ہے، اور بتاتے ہیں کہ وہ اس زمانے میں نواب آصف الدولہ کے لیے مشہور مرثیہ «ہفت بندِ کاشی» لکھ رہے تھے۔ ان کے شاگردوں میں ان کے بیٹے حافظ ابراہیم، وجیہ الدین اور محمد عباس وغیرہ ہیں؛ ان کے خط کے نمونے مسجدِ آصفی کی کارنس اور محراب کے اوپر قطعات کی صورت میں اب بھی موجود ہیں۔ 1

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Parent of
حافظ ابراہیم بن نور اللہ (لکھنؤ کے خطاط)
Taught
حافظ ابراہیم بن نور اللہ (لکھنؤ کے خطاط)
Lived in
لكهنؤ
Exemplifies
خطِ نستعلیق

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

خطِ نستعلیق· حافظ ابراہیم بن نور اللہ (لکھنؤ کے خطاط)· عبد الرحیم خوارزمی «انیسی»· سلطان علی مشہدی· تاریخِ خط و خطاطین· عباسی قلعی دار لعاب والے ظروف· احمد نگر کی مصوری· خطِ منسوب اور اقلامِ ستہ

ماخذ

  1. سيد محمد سليم، تاريخ خط وخطاطين، ترتيب سيد عزيز الرحمن (كراتشي: زوار أكاديمي پبليكيشنز، 1422هـ/2001م) , p. 264
  2. سيد محمد سليم، تاريخ خط وخطاطين، ترتيب سيد عزيز الرحمن (كراتشي: زوار أكاديمي پبليكيشنز، 1422هـ/2001م) , p. 263
  3. سيد محمد سليم، تاريخ خط وخطاطين، ترتيب سيد عزيز الرحمن (كراتشي: زوار أكاديمي پبليكيشنز، 1422هـ/2001م) , p. 265
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “حافظ نور اللہ (لکھنؤ کے خطاط)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hafiz-nurullah-lucknowi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
متعلقہ

خطِ نستعلیق

ایک نفیس فارسی خط جو چودہویں صدی کے دوسرے نصف میں شیراز اور تبریز میں نسخ و تعلیق کے امتزاج سے بنا؛ «عروس الخطوط» کہلایا، فارسی شاعری کا خط بنا اور مغل ہند اور عثمانی ترکی تک پھیلا ۔