حکیم نابینا انصاری

حكيم عبد الوهاب الأنصاري

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

دلهي

حکیم عبد الوہاب انصاری (1868ء–1941ء)، جو حکیم نابینا انصاری کے نام سے مشہور ہوئے، ہندوستانی طبیبِ یونانی تھے جو بچپن میں بینائی سے محروم ہو گئے تھے اور نبض دیکھ کر تشخیص میں مشہور ہوئے؛ انھوں نے دارالعلوم دیوبند سے تعلیم پائی، رشید احمد گنگوہی سے بیعت کی اور علامہ اقبال کی گردے کی پتھری کا علاج کیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
طبیب · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: عبد القادر المغربي · عبد الرشید ابراہیم · اللہ دیا خان · اشرف علی تھانوی · عمر فخرالدین ترکان

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    حکیم عبد الوہاب انصاری (1868ء–1941ء)، جو حکیم نابینا انصاری کے نام سے مشہور ہوئے، غازی پور اور دہلی کے ہندوستانی طبیبِ یونانی تھے جو بچپن میں بینائی سے محروم ہونے کے باوجود محض نبض دیکھ کر تشخیص میں مشہور ہوئے۔ 1 2 انھوں نے دارالعلوم دیوبند سے تعلیم پائی، رشید احمد گنگوہی سے بیعت کی، کچھ عرصہ نظام حیدرآباد کے خصوصی معالج رہے، اور علامہ اقبال کی گردے کی پتھری کا علاج کیا۔ 1 ان پر انگریزی یا عربی ویکیپیڈیا میں کوئی مضمون موجود نہیں، اس لیے یہ صفحہ اردو مضمون اور وکی ڈیٹا پر قائم ہے۔

    خاندانی پس منظر اور بینائی کا جانا

    وہ 1868ء میں مشرقی اتر پردیش کے ضلع غازی پور کے قصبہ یوسف پور میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد حکیم عبد الرحمان انصاری بھی مشہور اور صاحبِ کمال عالم و طبیب تھے۔ 1 مضمون ان کا سلسلۂ نسب صحابی ابو ایوب انصاری سے ملاتا ہے، اور یہ بات یہاں خاندان کے دعوے کے طور پر مضمون کی روایت کے مطابق درج ہے۔ 1 بچپن میں چیچک نکل آنے کی وجہ سے وہ بینائی سے محروم ہو گئے، چنانچہ «نابینا» وہ لقب بن گیا جس سے ان کا دور انھیں جانتا تھا۔ 1

    تعلیم اور بیعت

    انھوں نے دس سال کی عمر میں قرآن حفظ کیا اور ابتدائی صرف و نحو کی تعلیم اپنے وطن میں پائی۔ 1 مضمون کے مطابق انھوں نے 1882ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت پائی؛ عربی ادب مولانا فیض الحسن سہارنپوری اور مولانا ذو الفقار علی دیوبندی سے اور طب حکیم عبد المجید خان دہلوی سے حاصل کی۔ 1 وہ دارالعلوم دیوبند کے معروف عالم مولانا رشید احمد گنگوہی سے بیعت تھے۔ 1 یہ بیعت صرف اسی ایک مضمون سے ثابت ہے، اس لیے عجائب گھر ان کی وابستگی نامعلوم درج کرتا ہے اور یہ شہادت مکمل طور پر ڈیٹا میں درج ہے۔

    طبی خدمات اور شہرت

    ان کی شہرت نبض شناسی پر قائم تھی: مضمون کی تمہید کے مطابق وہ محض نبض دیکھ کر مریض کی پوری طبی تاریخ سے آگاہ ہو جاتے تھے۔ 1 وہ کچھ عرصہ نظام حیدرآباد کے خصوصی معالج رہے اور حیدرآباد اور دہلی کے امرا اور رؤساء کے خاص معالج تھے؛ خواجہ حسن نظامی نے انھیں «لقمان الملک» کا خطاب دیا۔ 1 علامہ محمد اقبال ان کی معالجانہ سوجھ بوجھ کے بہت معتقد تھے اور انھوں نے اپنے گردوں کی پتھری کا علاج انہی سے کروایا۔ 1 ان کی طبی تصانیف میں سے بیشتر ضائع ہو گئیں؛ ایک کتاب «اسرار شریانیہ مع مجربات انصاریہ» ریختہ کی آن لائن لائبریری میں موجود ہے۔ 1

    وفات اور تدفین

    ان کا انتقال ربیع الثانی 1360ھ، مطابق 1941ء، دہلی میں ہوا، جیسا کہ مضمون تاریخ دیتا ہے، اور وکی ڈیٹا بھی اسی سال کی تصدیق کرتا ہے۔ 1 2 وصیت کے مطابق انھیں گنگوہ میں مولانا رشید احمد گنگوہی کے مزار کے قریب دفن کیا گیا۔ 1

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي· نادر شاه يدخل دلهي ويقتل أهلها (١٧٣٩)· افتتاح القلعة الحمراء بدلهي· حصار دلهي (١٨٥٧)

    ماخذ

    1. Hakim Nabina Ansari — Urdu Wikipedia
    2. Hakim Nabina Ansari — Wikidata Q111549961
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حکیم نابینا انصاری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hakim-nabina-ansari/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    تتويج أورنكزيب بدلهي

    اپنے بھائیوں کے خلاف جانشینی کی جنگ کے بعد اورنگزیب نے 1659ء میں دہلی میں خود کو مغل بادشاہ قرار دیا.