ایک نظر میں
- کردار
- عالم · فقیہ · sufi · writer
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
sunni-hanafi (مستند) · sufi (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
اشرف علی تھانوی (1863ء–1943ء)، جو حکیم الامت کے لقب سے مشہور ہیں، تھانہ بھون (ضلع مظفر نگر) کے حنفی عالم، دیوبندی بزرگ اور چشتی صوفی تھے۔ 1 2 3 دار العلوم دیوبند سے فارغ ہو کر انھوں نے کانپور میں چودہ برس پڑھایا، پھر 1315ھ میں اپنے قصبے لوٹ کر اپنے مرشد امداد اللہ مہاجر مکی کی خانقاہ آباد کی اور مدرسہ اشرفیہ قائم کیا، جہاں وہ زندگی کے آخر تک تدریس، تزکیۂ نفس اور اصلاح میں لگے رہے۔ 4 1
ان کی تصانیف تقریباً آٹھ سو ہیں؛ مشہور ترین میں اردو تفسیر «بیان القرآن»، «بہشتی زیور» — جو جنوبی ایشیا کی خواتین کے لیے عقائد و عبادات اور روزمرہ زندگی کی رہنما کتاب ہے — اور فتاویٰ کا مجموعہ «امداد الفتاویٰ» شامل ہیں۔ 1 3
ولادت اور تعلیم
اشرف علی 19 اگست 1863ء کو تھانہ بھون میں پیدا ہوئے — یہ تاریخ انگریزی مضمون، عربی مضمون کے معلوماتی خانے اور وکی ڈیٹا کی ہے؛ اردو سوانح ان کی ولادت 5 ربیع الثانی 1280ھ بتاتی ہے جو تقریباً 19 ستمبر 1863ء بنتی ہے، یعنی ہجری سال 1280ھ پر سب متفق اور مہینے میں اختلاف ہے۔ 4 1 5 ان کے والد شیخ عبد الحق — انگریزی مضمون انھیں «منشی عبد الحق» لکھتا ہے — صاحبِ جائیداد رئیس اور فارسی کے اچھے انشاء پرداز تھے۔ 4 1
ابتدائی تعلیم میرٹھ میں ہوئی: فارسی کی ابتدائی کتابیں وہیں پڑھیں اور حافظ حسین دہلوی سے قرآن حفظ کیا؛ پھر تھانہ بھون آ کر مولانا فتح محمد سے عربی کی ابتدائی اور فارسی کی اکثر کتابیں پڑھیں۔ 1 ذوالقعدہ 1295ھ میں دار العلوم دیوبند گئے اور پانچ سال تعلیم پا کر فارغ ہوئے — انگریزی مضمون فراغت 1883ء، عربی مضمون 1299ھ/1882ء اور اردو سوانح پانچ سالہ دور 1301ھ تک بتاتی ہے۔ 1 4 2 TDV کے مطابق دیوبند میں انھوں نے منطق، فلسفہ، فقہ اور اصولِ فقہ محمود حسن دیوبندی سے، ریاضی اور فرائض سید احمد دہلوی سے، اور حدیث و تفسیر یعقوب بن مملوک علی (محمد یعقوب نانوتوی) سے پڑھیں۔ 3
کانپور اور تھانہ بھون
فراغت کے بعد والد اور اساتذہ کی اجازت سے کانپور گئے اور مدرسہ فیضِ عام میں چودہ سال پڑھایا — TDV کانپور کے اس مدرسے کا نام «جامع العلوم» بتاتی ہے۔ 4 3 اسی دور میں حج کی سعادت ملی اور مکہ میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے ہاتھ پر بیعت کی؛ پھر 1310ھ میں دوبارہ جا کر چھ ماہ ان کی خدمت میں رہے تو انھوں نے خلافت عطا کی اور نصیحت کی کہ تھانہ بھون جا کر بیٹھ جائیں اور سختیوں میں جلدی نہ کریں۔ 1 3
1315ھ میں کانپور چھوڑ کر تھانہ بھون آ گئے — TDV حتمی واپسی 1897ء بتاتی ہے — مرشد کی خانقاہ از سرِ نو آباد کی، مدرسہ اشرفیہ قائم کیا، اور آخر دم تک تدریس، تزکیۂ نفوس، اصلاحِ معاشرہ اور خطوط کے ذریعے آنے والے سوالات کے جوابات میں مصروف رہے۔ 4 1 اس واپسی پر امداد اللہ مہاجر مکی نے انھیں خط لکھا کہ «بہتر ہوا کہ آپ تھانہ بھون تشریف لے گئے؛ امید ہے کہ خلائقِ کثیر کو آپ سے فائدہ ظاہری و باطنی ہو گا اور آپ ہمارے مدرسہ و مسجد کو از سرِ نو آباد کریں گے؛ میں ہر وقت آپ کے حال میں دعا کرتا ہوں»۔ 4 انگریزی مضمون کے مطابق انھوں نے قریباً ایک ہزار افراد کو بیعت کی اجازت دی؛ ان کے مشہور تلامذہ و مریدین میں سلیمان ندوی، شبیر احمد عثمانی، ظفر احمد عثمانی، عبد الحئی عارفی، اطہر علی بنگالی، عبد المجید دریا آبادی، محمد شفیع اور محمد طیب قاسمی شامل ہیں۔ 4
تصانیف
«بیان القرآن»: اردو ترجمہ و تفسیر، TDV کے مطابق بارہ جلدوں میں؛ انگریزی مضمون اسے 1908ء کی تصنیف بتاتا ہے۔ 3 4 «بہشتی زیور»: عقائد، عبادات اور زندگی کے احکام کی تعلیمی کتاب جو اصل میں طالبات کے لیے لکھی گئی، TDV کے مطابق دس حصوں میں؛ اس کا انگریزی ترجمہ «Requisites of Islam» کے نام سے دلی سے 1972ء میں شائع ہوا۔ 3 دوسری مشہور کتابوں میں «امداد الفتاویٰ»، «نشر الطیب» (1912ء)، «حفظ الایمان»، «آداب المعاشرت»، «حیات المسلمین»، «اصلاح الرسوم»، «کلیدِ مثنوی» — جو رومی کی مثنوی کی شرح و رہنمائی ہے — اور «المصالح العقلیہ» شامل ہیں۔ 4 تصانیف کی تعداد میں بھی اختلاف ہے: اردو سوانح، TDV اور عربی مضمون قریباً آٹھ سو بتاتے ہیں، جبکہ انگریزی مضمون آکسفورڈ انسائیکلوپیڈیا کے حوالے سے «ایک ہزار سے زیادہ» لکھتا ہے۔ 1 3 4
آرا اور تنقید
یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مختلف مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔
تھانوی مسلم لیگ کے مضبوط حامی تھے: انگریزی مضمون کے مطابق انھوں نے قیادت سے — جن میں محمد علی جناح بھی تھے — خط و کتابت رکھی، جناح کو مشورہ دینے کے لیے علماء کے وفود بھیجے، اور دار العلوم دیوبند کی مجلسِ انتظامیہ سے اس کے کانگریس نواز موقف پر استعفیٰ دیا؛ ان کے شاگرد ظفر احمد عثمانی اور شبیر احمد عثمانی پاکستان کے قیام کی دینی حمایت کے اہم کردار تھے۔ 4 آکسفورڈ کے مداخل انھیں اپنے عہد کے «نمایاں سنی مرجع» بتاتے ہیں، اور محمد اقبال رومی کی تعلیمات کے باب میں انھیں سب سے بڑا زندہ مرجع سمجھتے تھے۔ 4 TDV کے مطابق انھوں نے زندگی بھر مسلمانوں کے طرزِ زندگی پر غیر مسلم اثرات روکنے کی کوشش کی، ساتھ یہ بھی کہا کہ غیر مسلموں کے علم سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور علم و دین میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ 3
ان کا انتقال تھانہ بھون میں 20 جولائی 1943ء کو ہوا — اردو سوانح اسے 16 رجب 1362ھ سے جوڑتی ہے — نمازِ جنازہ ظفر احمد عثمانی نے پڑھائی اور وہ قصبے کے قبرستان میں دفن ہوئے؛ TDV وفات 6 رجب 1362ھ یعنی اس کے حساب سے 9 جولائی 1943ء بتاتی ہے۔ 4 1 3
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
- Taught
- عبد الماجد دریابادی· سید سلیمان ندوی
- Studied under
- محمود حسن دیوبندی
- Member of
- الديوبندية· چشتیہ طریقہ
- Influenced
- شبير أحمد العثماني
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
محمود حسن دیوبندی· حسین احمد مدنی· الديوبندية· کفایت اللہ دہلوی· محمد الیاس کاندھلوی· محمد زکریا کاندھلوی· عبیداللہ سندھی· چشتیہ طریقہ
ماخذ
- Ashraf Ali Thanwi — Urdu Wikipedia
- Ashraf Ali Thanwi — Arabic Wikipedia
- Ashraf Ali Thanwi — TDV İslâm Ansiklopedisi
- Ashraf Ali Thanwi — English Wikipedia
- Ashraf Ali Thanwi — Wikidata Q348127
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “اشرف علی تھانوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ashraf-ali-thanwi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.