خالدہ ادیب ادیوار

خالدة أديب أديوار

–

إسطنبول

ترک ناول نگار اور مصنفہ (1884–1964)، ترک ادبی نشاۃ اور قومی تحریک کی نمایاں شخصیت؛ اپنے ناولوں میں ترک خواتین کی حالت پر تنقید اور ترک قوم پرستی کی حمایت کی، پہلی عالمی جنگ میں شام و لبنان میں مدارس کی مفتش رہیں — انطورة کے یتیم خانے کا متنازع انتظام بھی اسی دور میں تھا — پھر جنگِ آزادی میں شامل ہوئیں، انادولو ایجنسی کی شریک بانی بنیں، اور بعد میں استنبول یونیورسٹی میں انگریزی ادب کی پروفیسر اور رکنِ پارلیمان رہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
novelist · writer · teacher · سیاست دان
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحمید خان بھاشانی · علاؤالدین خان · علی المیرغنی · علی فواد جیبےسوئے · عطیہ فیضی

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    موجز

    خالدہ ادیب ادیوار (11 جون 1884 – 9 جنوری 1964) ترک ناول نگار، معلمہ اور قوم پرست و نسوانی مفکر تھیں، جدید ترک ادب اور ترک قومی تحریک کے نمایاں ناموں میں سے ایک۔ 1 2

    ان کے ناولوں نے ترک خواتین کی پست حیثیت پر تنقید کی؛ جنگِ آزادی میں ان کی خدمات پر انہیں «عریف خالدہ» کہا گیا، اور ایک طویل یورپی جلاوطنی کے بعد وہ استنبول یونیورسٹی میں انگریزی ادب کی پروفیسر اور رکنِ پارلیمان بنیں۔ 1 2

    زندگی

    وہ قسطنطنیہ (استنبول) کے ایک راقي گھرانے میں پیدا ہوئیں؛ والد سلطان عبد الحمید دوم کے سیکرٹری تھے۔ گھر پر اروپی و عثمانی ادب، انگریزی، فرانسیسی اور عربی پڑھی، امریکن کالج برائے طالبات سے 1901 میں فارغ التحصیل ہوئیں۔ 1

    1908 سے تعلیم اور خواتین کے مسائل پر لکھنا شروع کیا، پہلا ناول «سویہ طالب» 1909 میں چھپا، وزارتِ تعلیم نے انہیں لڑکیوں کے اسکولوں کی اصلاح پر مقرر کیا؛ 1917 میں دوسری شادی ڈاکٹر عدنان ادیوار سے ہوئی اور 1918 میں استنبول یونیورسٹی میں ادب کی لیکچرر بنیں۔ 1

    1916–1917 میں وہ دمشق، بیروت اور انطورة (جبلِ لبنان) میں مدارس کی عثمانی مفتش رہیں؛ انطورة کے یتیم خانے کا انتظامی دور ان کی زندگی کا سب سے متنازع باب ہے (نیچے «مواقف اور تنقید» دیکھیں)۔ 1

    سمیرنا پر یونانی قبضے کے خلاف سلطان احمد مظاہروں میں ہزاروں سے خطاب کیا، اناطولیہ جا کر قومی تحریک میں شامل ہوئیں، 31 مارچ 1920 کو صحافی یونس نادی کے ساتھ انادولو ایجنسی کی بنیاد رکھی، اور جنگ میں عریف و سارجنٹ کے عہدے پائے۔ 1

    1926 میں شوہر پر غداری کے الزامات کے بعد دونوں یورپ چلے گئے اور 1939 تک فرانس و برطانیہ میں رہے؛ امریکا و ہندوستان میں تدریس و خطبات دیے اور «اندرونِ ہند» لکھی۔ 1939 میں واپس آ کر استنبول یونیورسٹی میں پروفیسر بنیں اور 1950–1954 میں رکنِ پارلیمان رہیں۔ 1

    تصانیف

    ان کے موضوعات میں مضبوط خودمختار خواتین کے کردار اور ترک قوم پرستی و طورانیت نمایاں ہیں: «سویہ طالب» (1910)، «ہاندان» (1912)، «ینی توران» (1912)، «آتشتن گوملک» (1922)، «فورون قہپہ یہ» (1926)، «سینکلی بقال» (1936)، یادداشتیں «مذكرات خالدہ ادیب» (1926) اور «ترک آزمائش» (1928)۔ 1

    مواقف اور تنقید

    یہ حصہ مآخذ میں منقول الزامات و آراء کی رپورٹ ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    انگریزی مقالہ لکھتا ہے کہ انطورة میں آرمینی نسل کشی کے یتیم بچوں کو جبری انضمام ثقافتی کا نشانہ بنایا گیا اور خالدہ ادیب نے چھ ماہ اس یتیم خانے کا انتظام سنبھالا؛ ان کے بقول ان کی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ وہ جبری انضمام کو اخلاقی نہیں سمجھتی تھیں اور ان کا مقصد بچوں کی جانیں بچانا تھا۔ 1

    محقق کیتھ ڈیوڈ واٹنپا کے نزدیک انطورة میں جو ہوا وہ 1948 کے نسل کشی کنونشن کے تحت نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے؛ یتیم خانے کے زندہ بچ جانے والے کارنگ پانیان اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ مزاحمت کرنے والے بچوں کو مارا اور بھوکا رکھا جاتا تھا اور آرمینی بولنے کی سزا تلووں پر ضرب تھی۔ 1

    اس کے مقابل خالدہ ادیب نے 21 اکتوبر 1918 کو اخبار «وقت» میں قتلِ عام کی مذمت کرتے ہوئے لکھا: «ہم نے بے گناہ آرمینی آبادی کو ذبح کیا»، اور مورخ ہلمار کائزر نے ان کا دفاع کیا کہ قوم پرستی کسی کو قاتل نہیں بناتی اور وہ قتل کی سخت مخالف تھیں؛ جبکہ محقق سلیم درنگیل انہیں انطورة کی ترک سازی و اسلامی سازی میں ذاتی طور پر ملوث قرار دیتے ہیں۔ 1

    9 جنوری 1964 کو استنبول میں ان کی وفات ہوئی اور مرکز افندی قبرستان میں دفن ہوئیں۔ 1 2

    المراجع

    • انگریزی ویکیپیڈیا کا خالدہ ادیب ادیوار پر مقالہ (نظرثانی 1367353072)؛ عربی ویکیپیڈیا کا «خالدة أديب» (نظرثانی 76310352)؛ ویکی ڈیٹا مد Q234289 (یہ 1883 کی پیدائش کی قیمت بھی رکھتا ہے؛ دونوں موسوعات 1884 دیتی ہیں)۔ انطورة کا مواد سخت متنازع ہے اور یہاں گواہوں و محققین سے منسوب کر کے پیش کیا گیا ہے۔ کوئی ماخذ ان کا مسلک بیان نہیں کرتا؛ ویکی ڈیٹا صرف اسلام درج کرتا ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    إسطنبول
    Died in
    إسطنبول
    Lived in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا

    ماخذ

    1. Halide Edib Adıvar — English Wikipedia
    2. Halide Edib Adıvar — Arabic Wikipedia
    • Halide Edib Adıvar — Wikidata Q234289
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “خالدہ ادیب ادیوار”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/halide-edib-adivar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.