ابراہیم اخضر

لوگ زندہ اسلام

إبراهيم الأخضر

المدينة المنورة

مدینہ منورہ کے سعودی قاری اور امام ⁦(پیدائش 1364ھ/1944ء)⁩، جنھوں نے عبد الفتاح القاضی سے قراءاتِ عشرہ پڑھیں، مسجد حرام اور پھر 1406ھ سے نو برس مسجد نبوی میں امامت کی، اسلامی یونیورسٹی مدینہ میں پڑھایا، اور ان لوگوں میں تھے جنھوں نے ابن باز کو وہاں کلیۃ القرآن کے قیام کی تجویز دی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
reciter · imam · teacher
خطہ
arabia
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

مکان میں

المدينة المنورة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات

    ڈیجیٹل نقش

    ویکیپیڈیا پر ان زبانوں میں:arckbpsur (2026-11-06 کو پڑھا گیا)

    ویکی ڈیٹا:Q12181535

    خلاصہ

    ابراہیم بن الاخضر القیم (پیدائش 1364ھ/1944ء) مدینہ منورہ کے سعودی قاری اور امام ہیں، جنھوں نے مسجد حرام اور پھر مسجد نبوی میں امامت کی، اور اسلامی یونیورسٹی مدینہ میں قراءات پڑھائیں، جہاں ملک کے اندر اور باہر سے بہت سے طلبہ نے ان سے پڑھا۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ مدینہ میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے؛ دار الحدیث، پھر مدرسۃ النجاح، معہدِ علمی اور صنعتی ثانوی اسکول میں پڑھا۔ عمر الحیدری سے قرآن حفظ کیا اور مسجد نبوی کے شیخ القراء حسن بن ابراہیم الشاعر سے روایتِ حفص اور پھر قراءاتِ سبعہ پڑھیں۔ 1

    انھوں نے عامر بن السید عثمان اور احمد بن عبد العزیز الزیات سے بھی پڑھا، عبد الفتاح القاضی سے قراءاتِ عشرہ پڑھیں، اور عبد اللہ بن محمد الغنیمان سے عقیدہ، فقہ اور عربی سیکھی۔ 1

    مناصب

    انھوں نے صنعتی تعلیم میں تدریس سے آغاز کیا، پھر مدینہ کے مدرسہ ابی بن کعب برائے تحفیظ میں پڑھایا، اور مسجد حرام کے امام بنے۔ اسلامی یونیورسٹی کی کلیۃ القرآن اور کلیۃ الدعوہ میں اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے، اور جامعہ امام کے معہدِ دعوت میں پڑھایا۔ 1406ھ سے نو برس مسجد نبوی کی امامت میں شریک رہے۔ 1

    مضمون کے مطابق وہ ان علما میں تھے جنھوں نے عبد العزیز بن باز کو اسلامی یونیورسٹی میں کلیۃ القرآن کے قیام اور قراءات کی تدریس کی تجویز دی۔ 1

    سرگرمیاں

    وہ جماعتِ تحفیظ القرآن، سماجی خدمات کی خیراتی جمعیت، اور وزارتِ اسلامی امور کے قرآنی مقابلے کی مقامی اور بین الاقوامی منصف کمیٹی کے رکن ہیں۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن پروگراموں اور لیکچروں میں شریک رہے، اور ان کی ریکارڈنگز عالمِ اسلام کی دکانوں میں عام ہیں۔ 1

    ڈیجیٹل موجودگی

    6 نومبر 2026ء کو ویکی ڈیٹا کے مطابق ان پر ویکیپیڈیا کے چار نسخوں میں مضامین تھے: عربی، سورانی کردی، پشتو اور اردو۔ 2

    مراجع

    • عربی ویکیپیڈیا مضمون، نظرِ ثانی 14 ستمبر 2023ء۔ 1

    • ویکی ڈیٹا آئٹم Q12181535۔ 2

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    المدينة المنورة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مسجد القبلتين· المسجد النبوي· حرم المدينة· اليهودية في جزيرة العرب قبل الإسلام· المجتمع في المدينة عند الهجرة· سبیل ⁦(سقایہ)⁩· آطام يثرب· إعادة الخطبة العباسية بالحرمين سنة 479

    ماخذ

    1. Ibrahim al-Akhdar — Arabic Wikipedia
    2. Ibrahim al-Akhdar — Wikidata Q12181535
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ابراہیم اخضر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ibrahim-al-akhdar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-07.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مسجد القبلتين

    The Banu Salama mosque of Medina, named 'of the two qiblas' because the qibla was turned in it: Ibn Zabala reports that a man of Banu Salama reached them at dawn prayer with word of the change and they turned mid-prayer to the Kaaba — while al-Zamakhshari and the sira tradition make the change fall at zuhr when the Prophet had prayed two rak'as with his Companions, then turned to face the Mizab, the men and women exchanging places; Ibn Hajar reconciles the reports, and al-Majd notes that on Ibn Zabala's version Quba mosque would better deserve the name. Ibn Zabala ascribes the mosque to Banu Sawad ibn Ghanm of Banu Salama by al-Midhad, against al-Matari's ascription to Banu Haram.