احمد پاشا الجزار

أحمد باشا الجزار

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

عكا

احمد پاشا الجزار (تقریباً 1720ء/1730ء – 1804ء) عکہ میں مقیم عثمانی ایالت صیدا کے گورنر تھے، 1776ء سے وفات تک؛ وقفے وقفے سے دمشق کے بھی گورنر رہے۔ بوسنیا میں ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے، مصر میں اسلام قبول کیا اور علی بے الکبیر کے خاص آدمی بنے؛ اپنے آقا کے قتل کا بدلہ لینے پر «جزار» یعنی قصاب کا لقب پایا۔ 1799ء میں برطانوی بحریہ کی مدد سے نپولین کے خلاف عکہ کے کامیاب دفاع اور عکہ میں اپنی تعمیرات، مسجد جزار اور خان العمدان، کے لیے مشہور ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران · military
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: حمدان خوجة · عبد العزیز بن محمد بن سعود · داماد ملك محمد باشا · میر تقی میر · عبد القادر کان

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد پاشا الجزار (تقریباً 1720ء/1730ء کی دہائی – 1804ء) عکہ میں مقیم عثمانی ایالت صیدا کے 1776ء سے وفات تک گورنر تھے، اور وقفے وقفے سے دمشق کے بھی گورنر رہے 1۔ وہ 1799ء میں نپولین کے خلاف عکہ کے دفاع اور شہر میں اپنی باقی ماندہ تعمیرات، مسجد جزار اور خان العمدان، کے لیے مشہور ہیں 1 2۔

    اصل اور مصر

    الجزار، شاید پیدائشی نام احمد پروان، ہرزیگووینا میں ستولاک کے قریب فاتنیتسا کے پروان خاندان میں پیدا ہوئے؛ عربی مضمون صراحت سے کہتی ہے کہ ان کا خاندان عیسائی تھا 1 2۔ نوجوانی میں بوسنیا سے فرار کی روایتیں مختلف ہیں: وولنے کے بقول سولہ برس کی عمر میں بھاگے، اولیویے کے بقول سترہ برس کی عمر میں ایک عورت کو زخمی کر کے؛ پھر اناطولیہ میں ملاح بن کر گھومے اور خود کو ایک غلام فروش کے ہاتھ بیچا۔ اولیویے کی روایت میں انھوں نے بعد میں مصر میں اسلام قبول کیا، جبکہ عربی مضمون کہتی ہے کہ بابِ عالی کو بکنے کے بعد اپنی مرضی سے مسلمان ہوئے 1 2۔ مصر میں انھوں نے مملوک افسران کی خدمت کی، اور جب بدوؤں نے ان کے آقا عبد اللہ بے کو قتل کیا تو گھات لگا کر ان میں سے تقریباً ستر کو مارا؛ اسی پر «جزار» یعنی قصاب کا لقب پایا، جو بدو حملہ آوروں کو ذبح کرنے والے کے لیے احترام کا لقب تھا 1۔

    علی بے کے پاس، اور علیحدگی

    علی بے الکبیر ان کی وفاداری اور بہادری سے متاثر ہوئے، انھیں اپنا خاص آدمی بنایا اور قاہرہ کا سنجق بے مقرر کیا، جہاں وہ امن و امان کے بڑے نافذ کنندہ بنے 1۔ 1768ء میں ایک اور سابق آقا کے قتل میں شرکت سے انکار پر علی بے سے اختلاف ہوا تو شام بھاگ گئے؛ بیروت کا روسی بحریہ اور ظاہر العمر کے خلاف دفاع کیا، پھر ہتھیار ڈالے، ظاہر کی خدمت اختیار کی اور پھر اس سے بھی پھر گئے 1۔

    عکہ اور دمشق

    عثمانیوں کے ہاتھوں ظاہر العمر کے خاتمے کے بعد الجزار عکہ میں ان کے قلعہ دار بنے، اور 1776ء میں صیدا کے گورنر مقرر ہوئے اور عکہ کو دارالحکومت بنا کر اسے مضبوط قلعہ بند کیا 1۔ 1785ء اور 1804ء کے درمیان چار مرتبہ دمشق کے گورنر بنے اور ہر بار آل عظم کے حریفوں کے مقابلے میں اپنا اثر بڑھایا 1۔ 1799ء میں برطانوی بحریہ کی مدد سے عکہ کا نپولین کے خلاف دفاع کیا اور اسے فلسطین سے پسپا ہونے پر مجبور کیا 1 2۔ ان کے دور میں سڑکوں کا امن بہتر ہوا اور عکہ و بیروت آباد ہوئے، اگرچہ ان کی مہمات اور سخت محصولات نے بڑے پیمانے پر ہجرت کو جنم دیا 1۔

    وفات

    اگست 1803ء سے انھیں ثالثی بخار لاحق تھا، اور انگریزی مضمون کے مطابق ان کی وفات 7 مئی 1804ء کو ہوئی 1۔ عربی مضمون 23 اپریل 1804ء دیتی ہے اور وکی ڈیٹا اسی کی تائید کرتا ہے 2 3۔ عکہ میں ان کے مملوک سلیمان پاشا العادل جانشین ہوئے 1۔

    مذہب

    کسی بھی پڑھے گئے ماخذ نے ان کے لیے کوئی فقہی مذہب نام لے کر نہیں بتایا۔ بوسنیا میں عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے اور اسلام قبول کیا، انگریزی مضمون کی روایت میں مصر میں، عربی کی روایت میں اپنی مرضی سے، اور عثمانی مسلم پاشا کی حیثیت سے زندگی گزاری اور عکہ میں اپنی مسجد بنوائی 1 2۔ پیدائشی مذہب اصل ہے، کسی مذہب کا ثبوت نہیں؛ عام اسلام عجائب گھر کی فہرست کی کسی قدر سے مطابقت نہیں رکھتا، اور وکی ڈیٹا صرف اسلام دیتا ہے 3۔ اس لیے ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔

    محققین کے لیے نوٹس

    سالِ ولادت ان کی زندگی کی سب سے متنازع حقیقت ہے: ایک ماخذ 1720ء دیتا ہے، فیلپ 1730ء کی دہائی کو ترجیح دیتا ہے، عربی مضمون عنوان میں 1734ء اور متن میں 1735ء دیتی ہے، اور وکی ڈیٹا 1722ء دیتا ہے 1 2 3۔ وکی ڈیٹا کی دی ہوئی وفات کی جگہ، دمشق، کسی مضمون سے ثابت نہیں اور اختیار نہیں کی گئی 3۔ علی بے الکبیر کی خدمت ان کے ریکارڈ میں ایک ہی نسبت، رعیت داری، کے طور پر درج ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Patronized by
    علی بیگ الکبیر
    Died in
    عكا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الوقعة الكبرى على عكا· وصول عسكر مصر والأسطول المصري إلى عكا· ملك الفرنج عكا وقتل الأسرى· مقتل كندفري صاحب القدس عند عكا سنة 494· اسعد الشقیری· توفیق ابو الہدی· القاهرة· علی بیگ الکبیر

    ماخذ

    1. Jazzar Pasha — English Wikipedia
    2. Ahmad Pasha al-Jazzar — Arabic Wikipedia
    3. Jazzar Pasha — Wikidata Q2453214
    • Ahmad Pasha al-Jazzar — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد پاشا الجزار”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/jazzar-pasha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الوقعة الكبرى على عكا

    The great battle at Acre — the besieging Franks and the relieving army of Saladin in a slaughter unheard of in those days; charge and counter-charge past counting on both sides.