خالد بن عبدالعزیز آل سعود

خالد بن عبد العزيز آل سعود

–

الطائف

سعودی عرب کے چوتھے بادشاہ (1913ء–1982ء)، شاہ عبد العزیز اور الجوہرہ بنت مساعد آل سعود کے صاحبزادے۔ 1943ء میں فیصل کے ساتھ امریکا کا دورہ کیا، 1962ء میں نائب وزیر اعظم اور 1965ء میں ولی عہد بنے، اور فیصل کے قتل کے بعد 25 مارچ 1975ء کو تخت نشین ہوئے؛ ان کے دور میں تیل کی خوشحالی اور 1979ء میں حرم پر قبضے کا واقعہ پیش آیا۔ 13 جون 1982ء کو طائف میں وفات پائی، ریاض کے العود قبرستان میں دفن ہوئے اور ان کے بعد ان کے سوتیلے بھائی فہد بادشاہ بنے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
خطہ
arabia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الله بن الصديق الغماري · عبد الحي عارفي · عبد اللطيف تشودري الفلتالي · عبد الله الموسوي الشيرازي · آدم عبد اللہ عثمان

مکان میں

الطائف

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور دور حکومت

    اردو مقالے کے مطابق وہ ریاض میں پیدا ہوئے، مملکت کے اعلیٰ دینی مدارس میں تعلیم پائی، نوجوانی میں شاہ عبدالعزیز کی قیادت میں کئی جنگی مہموں میں حصہ لیا اور 1934ء میں حجاز کے وائسرائے فیصل کے نائب مقرر ہوئے؛ شاہ فیصل کے تخت نشین ہونے کے بعد وہ ولی عہد اور نائب وزیر اعظم بنے۔ 1 انگریزی و عربی مقالے ان کی پیدائش 13 فروری 1913ء ریاض بتاتے ہیں؛ عربی مقالہ اسے 6 ربیع الاول 1331ھ سے جوڑتا ہے، جبکہ ویکی ڈیٹا کی متعارض قدریں (1911ء اور 1912ء) یہاں اختیار نہیں کی گئیں۔ 2 3 ان کے دور میں تیل کی آمدنی سے بڑی ترقی ہوئی اور 1979ء میں حرم مکی پر قبضے کا واقعہ پیش آیا۔ 2

    وفات

    اردو مقالے کے مطابق 1982ء میں 71 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا اور ان کے بعد شاہ فہد بادشاہ بنے؛ انگریزی مقالہ وفات 13 جون 1982ء کو طائف کے گرمائی محل میں بتاتا ہے اور تدفین اسی دن ریاض کے العود قبرستان میں ذکر کرتا ہے۔ 1 2

    ریکارڈ پر نوٹ

    کوئی متن ان کے لیے کوئی مذہبی مکتب بیان نہیں کرتا: عربی مقالے کے معلوماتی خانے میں مذہب «مسلم سنی» درج ہے جو ایک مقالے میں واحد ساختی قدر ہے، انگریزی مقالہ انھیں متدین کہتا ہے، اور ویکی ڈیٹا کی واحد مذہبی قدر اسلام ہے؛ لہٰذا ان کا مذہب «نامعلوم» درج ہے اور سنی قراءت محفوظ رکھی گئی ہے۔ 3 2 4

    مآخذ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Predecessor of
    فہد بن عبدالعزیز آل سعود
    Successor of
    فیصل بن عبدالعزیز آل سعود
    Child of
    عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود
    Member of
    آل سعود
    Died in
    الطائف

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود· آل سعود· عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود· سعود بن عبدالعزیز آل سعود· فہد بن عبدالعزیز آل سعود· فیصل بن عبدالعزیز آل سعود· سلمان بن عبدالعزیز آل سعود· الطائف

    ماخذ

    1. Khalid bin Abdulaziz Al Saud — Urdu Wikipedia
    2. Khalid bin Abdulaziz Al Saud — English Wikipedia
    3. Khalid bin Abdulaziz Al Saud — Arabic Wikipedia
    4. Khalid bin Abdulaziz Al Saud — Wikidata Q208301
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “خالد بن عبدالعزیز آل سعود”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/khalid-bin-abdulaziz/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود

    عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود، المعروف ابن سعود، کنیت ابو ترکی (ولادت: ریاض، 15 جنوری 1876ء – وفات: طائف، 9 نومبر 1953ء)، مملکتِ سعودی عرب کے بانی اور پہلے بادشاہ تھے۔ خاندان کے ساتھ کویت میں جلاوطنی کے بعد انہوں نے 1902ء میں ریاض واپس لیا، نجد و حجاز کو متحد کیا، اور 23 ستمبر 1932ء کو مملکت کا اعلان ہوا۔ ان کے عہد میں 1938ء میں تیل دریافت ہوا۔