خواجہ حسن نظامی

خواجة حسن النظامي

–

دلهي

ہندوستانی صوفی اور اردو ادیب (1878ء–1955ء)، دہلی میں نظام الدین اولیاء کی درگاہ پر پیدا ہوئے اور وہیں وفات پائی۔ سلسلہ چشتیہ نظامیہ کے بزرگ تھے، پیری مریدی کا سلسلہ جاری رکھا اور انشا، مزاح اور تاریخ پر سیکڑوں تصانیف چھوڑیں، جن میں «بیگمات کے آنسو» مشہور ہے؛ تقسیم کے بعد دہلی کی مجالسِ محرم انھوں نے خود آباد کیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
mystic · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · آغا خان سوم · احمد لطفی سید

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    خواجہ حسن نظامی (پیدائشی نام سید علی حسن؛ 26 دسمبر 1878 – 31 جولائی 1955) ہندوستانی صوفی بزرگ اور اردو کے معروف انشا پرداز، مزاح نگار اور طنز نگار تھے، جن کے مضامین «مخزن» میں چھپتے رہے۔12 وہ دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاء کی درگاہ پر پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد درگاہ سے وابستہ تھے۔1

    ابتدائی زندگی

    ان کے نانا غلام حسن چشتی آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے دوست اور روحانی مشیر تھے اور قلعہ لال میں آتے جاتے رہتے تھے؛ والدہ انھیں مغلیہ خاندان کی کہانیاں سناتی تھیں اور انھوں نے خود ظفر کی صاحبزادی کلثوم زمانی بیگم سے ملاقات کی تھی۔2 اردو مضمون کے مطابق انھوں نے کسی درس گاہ سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی، خود پڑھ کر عربی، فارسی اور اردو میں دسترس حاصل کی، اور ابتدا میں پرانی دہلی سے نئی دہلی پیدل جا کر کتابیں بیچا کرتے تھے۔1

    تصانیف

    انھیں پانچ سو سے زائد کتابوں کا مصنف قرار دیا جاتا ہے، جن میں 1857 کی بغاوت کے واقعات بھی شامل ہیں؛ ان کی مشہور کتابوں میں «بیگمات کے آنسو»، «غدر دلی کے افسانے»، «سیپارہ دل»، «کرشن کتھا» اور ان کی آپ بیتی شامل ہیں۔21 اردو مضمون ان کی تصانیف کی تعداد ایک قول پر چالیس اور ایک تحقیق پر تین سو کے لگ بھگ بتاتا ہے، اور ان کی صحافتی زندگی کا آغاز روزنامہ «رعیت» سے ذکر کرتا ہے۔1

    تصوف اور مریدین

    وہ سلسلہ چشتیہ کے صوفی تھے، حضرت نظام الدین اولیاء کے عقیدت مند تھے اور پیری مریدی کا سلسلہ جاری رکھتے تھے؛ بے شمار لوگ ان کے حلقہ مریدی میں داخل ہوئے۔1 انگریزی مضمون انھیں نظام الدین اولیاء کے معروف سلسلے سے بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ صوفی ہونے کی وجہ سے ان کے تلامذہ بہت تھے۔2

    وفات

    انھوں نے 31 جولائی 1955 کو دہلی میں وفات پائی اور بارگاہ حضرت نظام الدین اولیاء کے احاطے میں دفن ہوئے۔1

    حوالہ جات

    {1} {2} {3} {4}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    دلهي
    Died in
    دلهي
    Buried in
    دلهي
    Member of
    چشتیہ طریقہ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    محمود حسن دیوبندی· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي· نادر شاه يدخل دلهي ويقتل أهلها (١٧٣٩)· افتتاح القلعة الحمراء بدلهي

    ماخذ

    1. Khwaja Hasan Nizami — Urdu Wikipedia
    2. Khwaja Hasan Nizami — English Wikipedia
    3. Khwaja Hasan Nizami — Arabic Wikipedia
    4. Khwaja Hasan Nizami — Wikidata Q20739148
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “خواجہ حسن نظامی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/khwaja-hasan-nizami/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    محمود حسن دیوبندی

    ہندوستانی مسلمان عالم (1851-1920) جو شیخ الہند کے لقب سے مشہور ہیں۔ وہ دار العلوم دیوبند کے پہلے طالب علم اور بعد میں اس کے صدر المدرسین (1890-1915) رہے؛ انہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف تحریکِ ریشمی رومال کی قیادت کی، گرفتار ہو کر مالٹا میں قید رہے (1916-1920)، اور رہائی کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام میں شریک ہوئے اور جمعیت علمائے ہند کی صدارت کی۔ ان کا اردو ترجمۂ قرآن ان کے شاگرد شبیر احمد عثمانی نے اپنے مشہور تفسیر کی صورت میں مکمل کیا۔