محمد بن سلمان آل سعود

محمد بن سلمان آل سعود

سعودی عرب کے ولی عہد از 21 جون 2017ء اور وزیر اعظم از 27 ستمبر 2022ء؛ شاہ سلمان بن عبد العزیز کے صاحبزادے؛ 2015ء سے 2022ء تک وزیر دفاع رہے اور 2016ء میں اعلان کردہ «سعودی ویژن 2030» کے بانی ہیں؛ انھوں نے سماجی و معاشی اصلاحات کی قیادت کی جن سے ان کے ملک میں مذہبی ادارے کا کردار محدود ہوا؛ وہ ولی عہد ہیں، بادشاہ نہیں، لہٰذا اس ریکارڈ میں ان کے لیے کوئی بادشاہت کی جانشینی درج نہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
arabia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عروج

    2009ء سے اپنے والد کے مشیر رہے، 2015ء میں نائب ولی عہد اور وزیر دفاع بنے، 21 جون 2017ء کو والد نے انھیں محمد بن نایف کی جگہ ولی عہد مقرر کیا، اور 27 ستمبر 2022ء کو وہ وزیر اعظم بن گئے۔ 1

    اصلاحات اور موقف

    اپریل 2016ء میں انھوں نے «سعودی ویژن 2030» کا اعلان کیا تاکہ ملکی معیشت کا تیل پر انحصار کم ہو، اور وسیع سماجی اصلاحات کی قیادت کی، جن میں 2018ء میں خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی کا خاتمہ اور عوامی زندگی میں وہابی مذہبی ادارے کے کردار کی تحدید شامل ہے۔ 25 اپریل 2021ء کے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں انھوں نے وہابی عقائد سے وابستگی پر تنقید کی اور کہا کہ «کوئی مقررہ مکاتبِ فکر نہیں» — یہ مذہبی پالیسی کا بیان ہے، ذاتی وابستگی کی گواہی نہیں۔ 1

    موقف اور تنقید

    امریکہ کے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر کے ایک جائزے کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے 2018ء میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا تھا؛ محمد بن سلمان نے حکم دینے سے انکار کیا ہے، البتہ ملک کے قائد کی حیثیت سے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ بات منسوب صورت میں درج ہے جیسا کہ ماخذ میں درج ہے۔ 1

    ریکارڈ پر نوٹ

    سنی قرأت ایک ہی ڈھانچہ جاتی قدر پر قائم ہے: انگریزی مقالے کے صندوقِ معلومات کا مذہب خانہ «اسلام سنی»۔ اس کی تائید اس کے اپنے ڈھانچہ جاتی خاندان میں بھی نہیں — عربی مقالے کے صندوق میں مذہب «الاسلام» عمومی ہے اور ویکی ڈیٹا کی قدر بھی صرف اسلام ہے — جبکہ عربی و اردو زمرے «مسلمون سنة سعوديون» درجہ بندیاں ہیں جو گواہی نہیں ہوتیں، اور کوئی متن ان کے لیے مکتب بیان نہیں کرتا۔ لہٰذا ان کا مذہب «نامعلوم» درج ہے اور قرأت یہاں محفوظ ہے۔ وہ ولی عہد ہیں، بادشاہ نہیں، لہٰذا اس ریکارڈ میں ان کے لیے کوئی بادشاہت کی جانشینی درج نہیں۔ 1 2 3

    مآخذ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    سلمان بن عبدالعزیز آل سعود
    Member of
    آل سعود

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود· عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود· آل سعود· سلمان بن عبدالعزیز آل سعود· فہد بن عبدالعزیز آل سعود· فیصل بن عبدالعزیز آل سعود· خالد بن عبدالعزیز آل سعود· سعود بن عبدالعزیز آل سعود

    ماخذ

    1. Mohammed bin Salman — English Wikipedia
    2. Mohammed bin Salman — Arabic Wikipedia
    3. Mohammed bin Salman — Wikidata Q6892571
    4. Mohammed bin Salman — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد بن سلمان آل سعود”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohammed-bin-salman/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود

    سعودی عرب کے چھٹے بادشاہ (2005ء–2015ء)، شاہ عبد العزیز کے دسویں صاحبزادے، والدہ فہدہ بنت عاصی الشریم؛ 1961ء میں مکہ کے امین اور 1962ء سے نیشنل گارڈ کے کمانڈر رہے جس کی ذمہ داریاں 2010ء میں اپنے بیٹے کو منتقل کیں؛ 13 جون 1982ء سے ولی عہد اور 1995ء میں شاہ فہد کے فالج کے بعد عملی حکمران؛ 1 اگست 2005ء کو بادشاہ بنے اور 23 جنوری 2015ء کو ریاض میں وفات تک حکومت کی۔