محمد کرد علی

محمد كرد علي

–

دمشق

سوری مؤرخ، ادیب اور صحافی (1876–1953)، دمشق میں عربی زبان اکیڈمی کے بانی اور 1919 سے وفات تک اس کے پہلے صدر، اور شام کے پہلے وزیرِ تعلیم؛ انہوں نے قاہرہ و دمشق میں مجلہ «المقتبس» جاری کیا، اور ان کی مشہور کتب میں «خطط الشام»، «الإسلام والحضارة العربية» اور ان کی یادداشتیں شامل ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · مؤرخ · writer
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · احمد لطفی سید · علی المیرغنی

مکان میں

دمشق

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد کرد علی (1876–1953) سوری عالم، مؤرخ، ادبی نقاد اور صحافی تھے، دمشق میں عربی زبان اکیڈمی کے بانی اور 1919 سے وفات تک اس کے پہلے صدر، اور شام کے پہلے وزیرِ تعلیم۔ انہوں نے قاہرہ و دمشق میں مجلہ «المقتبس» جاری کیا، اور ان کی بائیس کتب میں چھ جلدوں پر مشتمل «خطط الشام»، «الإسلام والحضارة العربية» اور چار جلدوں میں ان کی یادداشتیں شامل ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ 1876 میں دمشق میں پیدا ہوئے — عربی مضمون اس سال کو 1293 ہجری سے جوڑتا ہے۔ ان کے دادا سلیمانیہ سے تعلق رکھنے والے کرد تھے جو انیسویں صدی کے اوائل میں دمشق آئے تھے، اور ان کی والدہ چرکس تھیں۔ انہوں نے کتّاب میں پڑھنا لکھنا سیکھا اور قرآن کا مطالعہ کیا، پھر الرشدیہ سے ابتدائی اور العازریہ سے ثانوی تعلیم مکمل کی۔ ان کے والد خود ناخواندہ تھے لیکن انہیں کتب جمع کرنے کی ترغیب دیتے اور اس میں مدد کرتے تھے۔ وہ اپنے دور کے معروف دمشقی علما — سلیم البخاری، محمد المبارک اور طاہر الجزائری — کی صحبت میں رہے اور ان سے علم و ادب حاصل کیا، اور سولہ سال کی عمر میں اخبارات کے لیے خبری مضامین لکھنے لگے تھے۔ 1 2

    صحافت اور اکیڈمی

    1897 میں انہیں سرکاری ہفت روزہ «الشام» کی ادارت تین سال کے لیے سونپی گئی، پھر انہوں نے مصر کے «المقتطف» کے لیے پانچ سال مراسلت کی جس سے ان کی شہرت مصر تک پھیل گئی۔ قاہرہ میں دس ماہ «الرائد المصري» کی ادارت کے بعد وہ دمشق لوٹے؛ ایک بہتان پر ان کے گھر کی تلاشی ہوئی اور وہ بری ہوئے، تو 1906 میں مصر ہجرت کر کے ماہنامہ «المقتبس» کی بنیاد رکھی اور دو روزناموں کی ادارت بھی کی۔ 1908 میں دمشق واپس آ کر انہوں نے «المقتبس» کو مجلہ و روزنامہ دونوں صورتوں میں دوبارہ جاری کیا اور اس کا مطبع قائم کیا، لیکن سنسرشپ اور نگرانی جاری رہی؛ پہلی جنگِ عظیم میں جمال پاشا کی مہم میں وہ تقریباً پھانسی سے بچے، کیونکہ فرانسیسی قونصل خانے میں ملنے والی ایک دستاویز سے ثابت ہوا کہ انہوں نے فرانسیسی ترغیب کی مزاحمت کی تھی۔ شام کی آزادی کے بعد ان کا دیرینہ خواب پورا ہوا: 8 جون 1919 کو دمشق میں عربی زبان اکیڈمی قائم ہوئی اور وہ اس کے صدر مقرر ہوئے، یہ عہدہ وفات تک ان کے پاس رہا۔ وہ فرانسیسی قبضے کے دور میں دو مرتبہ وزیرِ تعلیم بھی رہے اور بلادِ شام کی وحدت و آزادی کے پرزور داعی رہے۔ ان کا انتقال جمعرات 2 اپریل 1953 کو دمشق میں ہوا — عربی مضمون ان کی زندگی کو 1293–1372 ہجری سے جوڑتا ہے — اور وہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے مزار کے پہلو میں دفن ہوئے۔ 1 2

    ان کے مذہب پر ایک نوٹ

    کوئی ماخذ خود محمد کرد علی کے لیے کوئی مسلک یا وابستگی نامزد نہیں کرتا۔ انگریزی مضمون، رائنر برونر کے حوالے سے، صرف یہ کہتا ہے کہ وہ شیعہ مخالف جدلیات لکھنے کے لیے معروف تھے — یہ دوسری جماعت کے بارے میں مؤقف ہے، ان کے اپنے مسلک کا نام نہیں — اور ویکی ڈیٹا میں مذہب کی کوئی قدر نہیں۔ اس لیے ان کے اندراج میں ایمان «نامعلوم» درج ہے۔ 1 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    دمشق
    Died in
    دمشق
    Buried in
    دمشق
    Studied under
    طاهر الجزائري

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الكهف بقاسيون (كهف جبريل)· قصر هرقل (شمس الملوك)· الجامع الأموي بدمشق· فتنة الحافظ عبد الغني بدمشق سنة 595· حصر الأفضل دمشق وعوده عنها· استيلاء العادل على دمشق· قدوم الغزالي دمشق متزهداً سنة 488· ملك الملك الأشرف مدينة دمشق

    ماخذ

    1. Muhammad Kurd Ali — English Wikipedia
    2. Muhammad Kurd Ali — Arabic Wikipedia
    3. Muhammad Kurd Ali — Wikidata Q3123742
    • Muhammad Kurd Ali — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد کرد علی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-kurd-ali/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الكهف بقاسيون (كهف جبريل)

    The mosque raised inside the cave of Mount Qasyun by Abu al-Faraj Muhammad ibn Abd Allah ibn al-Mu'allim beginning in 370, after a dream in which Jibril bade him build a mosque where God's name would be remembered — he called it Jibril's Cave; a broad prayer-hall floored in white marble, its columns all marble, never empty of the pious at remembrance.