محمد رفعت

محمد رفعت

–

القاهرة

مصری قاریِ قرآن (1882ء–1950ء)، جو قاہرہ کے محلہ مغربلین میں پیدا ہوئے اور بچپن میں بینائی سے محروم ہو گئے۔ وہ 1934 میں مصری ریڈیو کے افتتاح پر قرآن پڑھنے والے پہلے قاری تھے اور 1918 سے جامع فاضل پاشا کے قاری رہے، یہاں تک کہ 1943 میں حلق کی بیماری نے ان کی عوامی تلاوت روک دی۔ انہیں «قیثارۃ السماء» کہا جاتا ہے، اور زکریا پاشا مہران کے گراموفون ریکارڈوں نے ان کا بیشتر صوتی ورثہ محفوظ رکھا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
reciter
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد الحمید خان بھاشانی · مولوی عبد الحق

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد بن محمود رفعت (9 مئی 1882 – 9 مئی 1950) مصری قارئِ قرآن تھے، جنہوں نے 1934 میں مصری ریڈیو کے افتتاح پر سب سے پہلے قرآن پڑھا۔ بچپن میں بینائی سے محروم ہو گئے، 1918 سے قاہرہ کی جامع فاضل پاشا کے قاری رہے، یہاں تک کہ 1943 میں حلق کی بیماری نے ان کی عوامی تلاوت ختم کر دی۔ ان کے مداح انہیں «قیثارۃ السماء» یعنی آسمان کی بربط کہتے ہیں، اور زکریا پاشا مہران کے گراموفون ریکارڈوں نے ان کا بیشتر صوتی ورثہ محفوظ رکھا۔ کوئی اردو مقالہ موجود نہیں؛ یہ متن انگریزی اور عربی ماخذوں سے لکھا گیا ہے۔12

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ پیر 9 مئی 1882 کو قاہرہ کے محلہ مغربلین کی گلی درب الاغوات میں پیدا ہوئے اور تقریباً دو سال کی عمر میں بینائی کھو بیٹھے۔ ان کے والد محمود رفعت، جمالیہ تھانے کے افسر، نے پانچ سال کی عمر میں انہیں مسجد فاضل پاشا سے ملحق بشتاک کُتّاب میں داخل کیا، جہاں ان کے پہلے استاد محمد حمیدہ نے چھ برس میں انہیں قرآن اور احادیث حفظ کرائیں۔ پھر انہوں نے دو سال شیخ عبد الفتاح الہنیدی سے قراءتوں اور تجوید کا علم حاصل کر کے اجازہ لیا۔12

    نو سال کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا تو وہ ماں، خالہ، بہن اور بھائی کے واحد کفیل بن گئے؛ الازہر میں تعلیم کا منصوبہ ترک ہوا اور چودہ سال کی عمر سے وہ قاہرہ اور پھر صوبوں کی محفلوں میں تلاوت کرنے لگے۔1

    جامع فاضل پاشا اور مصری ریڈیو

    1918 میں وہ جامع فاضل پاشا کے قاری مقرر ہوئے؛ وزیرِ اعظم مصطفیٰ النحاس اور شاہ فاروق سمیت بڑے بڑے لوگ انہیں سننے آتے، اور وہ اسی مسجد سے وفاداری میں ریٹائرمنٹ تک وابستہ رہے۔ 31 مئی 1934 کو مصری ریڈیو نے انہی کی تلاوت سے نشریات کا آغاز کیا، جبکہ اس سے پہلے انہوں نے شیخ الازہر محمد الاحمدی الظواہری سے قرآن کی نشریات کے جواز کا فتویٰ حاصل کیا تھا۔ بی بی سی عربی نے ریکارڈنگ کی درخواست کی تو پہلے انہوں نے انکار کیا، پھر امام محمد مصطفیٰ المراغی کی وضاحت کے بعد سورہ مریم ریکارڈ کرائی۔12

    آواز اور شخصیت

    ماخذوں کے مطابق ان کی آواز خوبصورت اور بے مثال تھی؛ وہ پُرسکون آغاز سے بتدریج بلند، مگر قابو میں رہنے والی آواز تک جاتے، حروف کے مخارج کا خاص اہتمام کرتے، اور کہا جاتا ہے کہ ان کی آواز کھلے مقامات پر تین ہزار سے زائد سامعین تک پہنچتی تھی۔ عربی مقالہ انہیں فقیروں پر مہربان، تلاوت کے دوران رو دینے والا، اور اپنے الفاظ میں «صوفی النزعہ، نقشبندی الطریقہ» بیان کرتا ہے؛ انگریزی مقالہ بھی انہیں نقشبندی صوفی سلسلے کا پیروکار کہتا ہے۔ شیخ الشعراوی نے کہا کہ احکامِ تلاوت میں الحصری، آواز کی مٹھاس میں عبد الباسط، لمبی سانس میں مصطفیٰ اسماعیل، اور یہ سب یکجا محمد رفعت ہیں۔12

    تلاوتوں کا تحفظ

    ان کی زیادہ تر نشریات ریڈیو نے ریکارڈ نہیں کیں؛ ان کا زندہ بچ جانے والا ورثہ تقریباً مکمل طور پر ایک مداح، زکریا پاشا مہران، کی بدولت ہے، جس نے انہیں کبھی دیکھے بغیر جرمنی سے دو گراموفون خرید کر نشریات ریکارڈ کیں۔ ان کے اہلِ خانہ نسلوں سے ان ڈسکوں کی مرمت کر رہے ہیں اور ریڈیو کو تیس گھنٹے کی ریکارڈنگ مفت دے چکے ہیں۔ دسمبر 2025 میں الازہر نے ان کی سو نایاب، کبھی نشر نہ ہونے والی ڈسکوں کی بحالی کا اعلان کیا۔12

    خاندان، بیماری اور وفات

    انہوں نے منوفیہ کے گاؤں الفرعونیہ کی زینب سے شادی کی اور ان کے چار بچے ہوئے: محمد (1909)، جو ان کے سکریٹری و منتظم رہے؛ احمد (1911)، جو انہی کے راستے پر چلے اور قراءتوں میں اجازہ لیا؛ بہیہ (1914)؛ اور حسین (1920)، جو نابینا والد کو کتابیں پڑھ کر سناتے تھے۔ 1943 میں حلق کے ورم نے ان کی آواز روک دی؛ انہوں نے علاج پر سب کچھ خرچ کر دیا مگر کسی سے مدد نہ مانگی اور علاج کے لیے جمع کیے گئے تقریباً پچاس ہزار پاؤنڈ قبول کرنے سے اپنے مشہور جملے کے ساتھ انکار کیا: «قارئِ قرآن ذلیل نہیں ہوتا»۔ وہ منگل 9 مئی 1950 کو، اپنی اڑسٹھویں سالگرہ کے دن، قاہرہ میں انتقال کر گئے اور وصیت کے مطابق مسجد سیدہ نفیسہ کے قرب میں دفن ہوئے۔12

    ایمانی ریکارڈ

    عجائب گھر انہیں صوفی، موثق، درج کرتا ہے۔ دو آزاد مقالہ متن ان کے نقشبندی صوفی سلسلے سے ذاتی وابستگی کی شہادت دیتے ہیں: انگریزی مقالہ انہیں نقشبندی سلسلے کا پیروکار کہتا ہے، اور عربی مقالہ انہیں «صوفی النزعہ نقشبندی الطریقہ» لکھتا ہے۔ «سنی» صرف دونوں خانہ معلومات میں آتا ہے، جو ایک ہی منظم روایت ہے، اس لیے کوئی الگ سنی خانہ درج نہیں، اور کوئی متن ان کا فقہی مذہب نامزد نہیں کرتا۔12

    ماخذ

    • اوپر مذکور متعین ماخذ اکائیاں، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مقالے کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہونی چاہیے اور ہر واقعہ بدلنے والے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القاهرة
    Died in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Muhammad Rifat — Arabic Wikipedia
    2. Muhammad Rifat — English Wikipedia
    • Muhammad Rifat — Wikidata Q4166061
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد رفعت”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-rifat/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.