ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · فقیہ · writer
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
ahmadiyya (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
چودھری سر محمد ظفر اللہ خان (6 فروری 1893ء – 1 ستمبر 1985ء) پاکستانی ماہر قانون و سفارت کار تھے، پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ (1947ء–1954ء)، اور واحد پاکستانی جنھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (1962ء–1963ء) اور عالمی عدالت انصاف (1970ء–1973ء) دونوں کی صدارت کی۔1 وہ جماعت احمدیہ کے ممتاز رکن تھے، اس کی لاہور شاخ کی صدارت کی، اور اسلام و احمدیت پر متعدد کتب لکھیں۔1
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ 6 فروری 1893ء کو پنجاب کے سیالکوٹ میں پیدا ہوئے؛ ان کا آبائی گاؤں ڈسکہ تھا اور ان کے والد چودھری نصر اللہ خان وکیل تھے۔1 ان کے والدین دونوں احمدیہ تحریک کے گہرے مذہبی اراکین تھے، اور انھوں نے اپنی والدہ حسین بی بی کو اپنی زندگی کا سب سے طاقتور اثر قرار دیا۔2 انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم پائی اور 1914ء میں کنگز کالج لندن سے وکالت کی ڈگری حاصل کی اور لنکن ان میں بار میں داخل ہوئے۔1
برطانوی ہندوستان میں خدمات
انھوں نے سیالکوٹ و لاہور میں وکالت کی اور 1926ء میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے رکن بنے؛ 1931ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے دہلی اجلاس کی صدارت کی۔1 1930ء–1932ء کی گول میز کانفرنسوں میں شریک ہوئے، 1935ء میں وزیر ریلوے بنے، 1935ء–1941ء میں وائسرائے کی ایگزیکیٹو کونسل کے رکن رہے، اور 1940ء میں وہ یادداشت تیار کی جس کی دو ریاستی تجزیے کو مسلم لیگ نے لاہور اجلاس سے قبل اپنایا۔1 1941ء–1947ء میں وہ وفاقی عدالت ہند کے منصف رہے، اور جولائی 1947ء میں جناح کی درخواست پر ریڈکلف باؤنڈری کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کا مقدمہ پیش کیا۔1
پاکستان کے وزیر خارجہ
اکتوبر 1947ء میں انھوں نے اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کی قیادت کی اور مسئلہ فلسطین پر عالم اسلام کا موقف پیش کیا؛ 27 دسمبر 1947ء کو وہ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ بنے — اس قلمدان میں وہ لیاقت علی خان کے جانشین تھے، جنھوں نے یہ قلمدان اپنی پہلی کابینہ میں خود رکھا تھا — اور 1954ء تک اس عہدے پر رہے۔1 سلامتی کونسل میں انھوں نے کشمیر، لیبیا، اریٹریا، صومالیہ، سوڈان، تیونس، مراکش و انڈونیشیا کی آزادی کی وکالت کی، جس پر عرب ممالک کی دیرپا تحسین حاصل ہوئی۔2
دی ہیگ و اقوام متحدہ
1954ء میں وہ عالمی عدالت انصاف کے منصف بنے، 1958ء–1961ء میں اس کے نائب صدر رہے، پھر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب (1961ء–1964ء) اور جنرل اسمبلی کے سترہویں اجلاس کے صدر رہے۔1 1964ء میں وہ دوبارہ عدالت میں لوٹے اور 1970ء–1973ء میں اس کے صدر رہے — یہ عہدہ سنبھالنے والے پہلے اور واحد پاکستانی۔1
مذہب
مآخذ ان کی اپنی وابستگی کی براہ راست گواہی دیتے ہیں۔ انگریزی مضمون کا مذہبی حصہ بیان کرتا ہے کہ بطور احمدی مسلمان انھوں نے 1919ء سے 1935ء تک جماعت احمدیہ کی لاہور شاخ کے امیر (صدر) کا عہدہ سنبھالا، جماعت کے دوسرے خلیفہ کے مجلس شوریٰ میں معتمد رہے، اور 1924ء کے آل پارٹیز کانفرنس میں جماعت کی نمائندگی کرنے والے وفد کے رکن تھے؛ اس کا ورثہ حصہ مزید کہتا ہے کہ انھوں نے جماعت احمدیہ سے اپنے تعلق کا علانیہ اقرار کیا۔2 اردو مضمون کا مذہبی حصہ مستقل طور پر بیان کرتا ہے کہ وہ احمدیہ جماعت سے تعلق رکھتے تھے، خود مرزا غلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور احمدی خلفاء کے معتمد رہے۔1 ان کی وزارت خارجہ کے دور میں 1953ء کے لاہور فسادات نے ان کے استعفے کا مطالبہ اسی بنیاد پر کیا کہ وہ قادیانی تھے، اور اس شہر میں پاکستان کا پہلا مارشل لا لگا۔1 انھوں نے 1958ء میں سعودی عرب کے شاہی مہمان کے طور پر عمرہ اور 1967ء میں حج ادا کیا۔1 عجائب گھر یہ سیاق غیر جانبداری سے درج کرتا ہے: 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئین میں ترمیم کر کے احمدیوں کو قانون کی اغراض کے لیے غیر مسلم قرار دیا، جبکہ ظفر اللہ خان اور ان کی جماعت اسلام کا اقرار کرتے رہے۔2
کتب و وفات
ان کی متعدد کتب میں «The Excellent Exemplar Muhammad» (1962ء)، «Islam — Its Meaning for Modern Man» (1962ء)، «Islam and Human Rights» (1967ء)، «Muhammad: Seal of the Prophets» (1980ء) اور والدہ پر یادداشت «میری والدہ» شامل ہیں۔1 وہ لاہور میں مقیم ہوئے اور 1 ستمبر 1985ء کو وہیں انتقال ہوا؛ اردو مضمون کے مطابق ان کی تدفین جماعت احمدیہ کے مرکز ربوہ کے بہشتی مقبرہ میں ہوئی۔1
حوالہ جات
تعلقات
- Successor of
- لیاقت علی خان
- Died in
- لاهور
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· عبد الرحمٰن چغتائی· عبد السلام· ابو الاعلیٰ مودودی· اعصام الحق قریشی· الطاف حسین حالی· امین احسن اصلاحی
ماخذ
- Muhammad Zafrullah Khan — Urdu Wikipedia
- Muhammad Zafrullah Khan — English Wikipedia
- Muhammad Zafrullah Khan — Arabic Wikipedia
- Muhammad Zafrullah Khan — Wikidata Q781138
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمد ظفر اللہ خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-zafrullah-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.