لیاقت علی خان

لياقت علي خان

–

پاکستانی مدبر (1895ء–1951ء) جن کا تعلق کرنال سے تھا، پاکستان کے پہلے وزیر اعظم (1947ء–1951ء) اور تحریک پاکستان میں محمد علی جناح کے دستِ راست۔ علی گڑھ اور آکسفورڈ سے تعلیم پائی اور مسلم لیگ کے اعزازی جنرل سیکریٹری رہے؛ 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران شہید کر دیے گئے اور کراچی میں مزارِ قائد میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس محمود العقاد · عبد القادر المغربي · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد القادر حاج علی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    لیاقت علی خان (1 اکتوبر 1895ء – 16 اکتوبر 1951ء) پاکستانی مدبر تھے، آزادی سے اپنے قتل تک پاکستان کے پہلے وزیر اعظم، اور مسلم لیگ و تحریک پاکستان میں محمد علی جناح کے اولین نائب۔1 انھیں «قائد ملت» اور وفات کے بعد «شہید ملت» کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 1 اکتوبر 1895ء کو پنجاب کے کرنال میں زمیندار نواب رستم علی خان کے چار بیٹوں میں دوسرے نمبر پر پیدا ہوئے۔2 انگریزی مضمون، ان کی شائع شدہ مراسلت اور سوانح نگار کاظمی کے حوالے سے، ان کی بچپن کی دینی تربیت درج کرتا ہے: گھر میں قرآن و حدیث کی تعلیم پانے کے بعد وہ چار سال کی عمر سے رمضان کے روزے رکھتے تھے اور محرم میں تعزیہ جلوسوں میں شریک ہوتے بلکہ ان کی تنظیم و قیادت بھی کرتے تھے۔2 یہ بیان ان کے عمل و عقیدت کی گواہی دیتا ہے؛ اس میں کوئی مسلک نہیں ملتا، اور کسی دوسرے ماخذ میں بھی نہیں۔3 انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور آکسفورڈ سے تعلیم پائی اور بار میں بلائے گئے۔1

    سیاسی زندگی

    1933ء میں انھوں نے اور ان کی اہلیہ رعنا نے لندن میں جناح کو ہندوستان واپس آ کر مسلم لیگ کو منظم کرنے پر آمادہ کیا؛ 1936ء میں وہ لیگ کے اعزازی جنرل سیکریٹری اور مرکزی اسمبلی میں اس کے نائب قائد بنے۔2 15 اگست 1947ء کو آزادی پر وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے اور خارجہ و دفاع کے قلمدان بھی اپنے پاس رکھے؛ ان کی حکومت نے 1949ء میں قراردادِ مقاصد جاری کی، اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک قائم کیے اور سرد جنگ کے آغاز میں پاکستان کو امریکا کے قریب کر دیا۔2

    قتل

    16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں تقریباً ایک لاکھ افراد کے اجتماع سے خطاب کے دوران ان کے سینے میں دو گولیاں ماری گئیں؛ قاتل سعید اکبر بابرک موقع پر پولیس کی گولی سے مارا گیا اور اس کا مقصد کبھی معلوم نہ ہوا۔2 جنازے کے بعد وہ کراچی میں جناح کے مزارِ قائد میں دفن ہوئے، اور ان کے قتل کے پارک کا نام لیاقت باغ رکھ دیا گیا۔2

    حوالہ جات

    {1} {2} {4} {3}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Predecessor of
    خواجہ ناظم الدین· محمد ظفر اللہ خان
    Spouse of
    رعنا لیاقت علی خان

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ابو القاسم فضل الحق· حسین شہید سہروردی· محمد علی بوگرہ· دكا· لاهور· خواجہ ناظم الدین· محمد ظفر اللہ خان· رعنا لیاقت علی خان

    ماخذ

    1. Liaquat Ali Khan — Urdu Wikipedia
    2. Liaquat Ali Khan — English Wikipedia
    3. Liaquat Ali Khan — Wikidata Q295713
    4. Liaquat Ali Khan — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “لیاقت علی خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/liaquat-ali-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ابو القاسم فضل الحق

    بنگالی مدبر (1873ء–1962ء) جو «شیر بنگال» کے لقب سے مشہور ہوئے، بنگال کے پہلے وزیر اعظم (1937ء–1943ء) اور 1940ء میں قراردادِ لاہور کے محرک۔ بیک وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری رہے؛ تقسیم کے بعد مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ، پاکستان کے وزیر داخلہ اور مشرقی پاکستان کے گورنر رہے، اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔