مختار احمد انصاری

مختار أحمد الأنصاري

–

دلهي

ہندوستانی طبیب اور قوم پرست رہنما (1880ء–1936ء)، مدراس، لندن اور ایڈنبرا سے تعلیم یافتہ، یورولوجی کے ابتدائی ماہر جراح۔ انھوں نے انڈین نیشنل کانگریس (1927ء) اور مسلم لیگ کی صدارت کی، بلقان جنگوں میں ہندوستانی طبی مشن کی قیادت کی، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی اور حکیم اجمل خان کے بعد اس کے شیخ الجامعہ (1928ء–1936ء) رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
طبیب · سیاست دان · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد الحفیظ بن الحسن · عبد القادر المغربي · عبد الرحمٰن الشہبندر

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور طب

    وہ 25 دسمبر 1880ء کو ضلع غازی پور کے محمد آباد میں پیدا ہوئے؛ ان کا خاندان، یوسف پور کے انصاری قاضی اور زمیندار، مضامین کے مطابق ہرات کے صوفی بزرگ عبد اللہ انصاری کی نسل سے تھا جو بابر کے ساتھ ہندوستان آئے تھے 12۔ وکٹوریہ اسکول اور حیدرآباد میں تعلیم کے بعد انھوں نے مدراس میڈیکل کالج سے طب کی ڈگری لی اور وظیفے پر انگلستان گئے؛ 1905ء میں ایم ڈی اور ایم ایس اور 1910ء میں ایڈنبرا سے ماسٹر آف سرجری کیا 1۔ لندن کے لاک اسپتال اور چیرنگ کراس اسپتال میں کام کیا — جہاں آج بھی ’انصاری وارڈ‘ ان کے نام پر ہے — اور جراحت کے ہندوستانی اولین ماہرین میں سے ہوئے 1۔ زندگی کے آخری عشرے میں انھوں نے غدود پیوندکاری کے سینکڑوں آپریشن کیے اور اپنے نتائج ’ری جنریشن آف مین‘ کے نام سے شائع کیے 1۔

    قوم پرست سیاست

    انھوں نے 1898ء میں طالب علم کی حیثیت سے اپنا پہلا کانگریس اجلاس دیکھا اور 1927ء میں مدراس اجلاس کی صدارت کی؛ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکرٹری بھی کئی بار رہے 1۔ 1916ء کے لکھنؤ معاہدے کی گفت و شنید میں حصہ لیا، 1918ء اور 1920ء میں مسلم لیگ کے صدر رہے، بلقان جنگوں میں زخمی ترک فوجیوں کے لیے ہندوستانی طبی مشن کی قیادت کی، اور مارچ 1920ء میں خلافت وفد لے کر انگلستان گئے جس نے لائیڈ جارج سے ملاقات کی 1۔ لیگ کی سیاست علیحدگی کی طرف جھکنے پر وہ گاندھی اور کانگریس کے قریب آتے گئے، اور 1927ء میں کانگریس صدر بننے پر اپنی تقریباً ساری دولت تحریک پر خرچ کر دی 1۔ ان کا دہلی کا مکان ’دار السلام‘ کانگریس کی سرگرمیوں کا مرکز تھا اور گاندھی وہاں اکثر مہمان ہوتے تھے 1۔

    جامعہ اور وفات

    انصاری جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں سے تھے اور اس کے پہلے شیخ الجامعہ حکیم اجمل خان کی 1927ء میں وفات کے بعد 1928ء سے اپنی وفات تک شیخ الجامعہ رہے 31۔ وہ 10 مئی 1936ء کو مسوری سے دہلی آنے والی ٹرین میں دل کے دورے سے وفات پا گئے اور دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احاطے میں دفن ہوئے 12۔

    دین جیسا کہ ذرائع ثابت کرتے ہیں

    مضامین خاندان کے ہرات کے صوفی سے نسب کے دعوے کو ثابت کرتے ہیں — جو خاندانی پس منظر ہے — اور ان کی خلافت کی حمایت اور لیگ و کانگریس کی صدارتوں کو درج کرتے ہیں — جو سیاست ہے؛ کوئی مقالہ انصاری کے لیے خود کوئی مکتب بیان نہیں کرتا اور ویکی ڈیٹا ان کا مذہب صرف ’اسلام‘ بتاتا ہے 4۔ اس لیے عجائب گھر کا ریکارڈ ان کا مکتب نامعلوم رکھتا ہے اور شواہد جوں کے توں پیش کرتا ہے۔

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذی ادارے، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہو اور ہر تبدیل شدہ واقعے کا ماخذ نام لے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    دلهي
    Buried in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي· نادر شاه يدخل دلهي ويقتل أهلها (١٧٣٩)· افتتاح القلعة الحمراء بدلهي· حصار دلهي (١٨٥٧)

    ماخذ

    1. Mukhtar Ahmed Ansari — English Wikipedia
    2. Mukhtar Ahmed Ansari — Arabic Wikipedia
    3. Mukhtar Ahmed Ansari — Urdu Wikipedia
    4. Mukhtar Ahmed Ansari — Wikidata Q3595718
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مختار احمد انصاری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mukhtar-ahmed-ansari/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    تتويج أورنكزيب بدلهي

    اپنے بھائیوں کے خلاف جانشینی کی جنگ کے بعد اورنگزیب نے 1659ء میں دہلی میں خود کو مغل بادشاہ قرار دیا.