مصطفی صادق الرافعی

مصطفى صادق الرافعي

–

مصری شاعر اور نثر نگار (1880-1937)، قلیوبیہ کے گاؤں بہیتم میں پیدا ہوئے اور طنطا میں رہے۔ تیس برس کی عمر میں سماعت سے محروم ہو گئے اور جدید عربی ادب کے محافظ مکتب کے نمایاں ترین نام بن گئے؛ انہوں نے مصری ترانے «اسلمی یا مصر» اور تیونسی قومی ترانے «حماۃ الحمی» کے بیشتر اشعار لکھے، اور ان کی کتابوں میں «وحی القلم» اور «تاریخ آداب العرب» شامل ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · شاعر
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد القادر المغربي · عبد الرحمٰن الشہبندر · عبد العزیز ثعالبی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    مصطفی صادق الرافعی (جنوری 1880 – مئی 1937) مصری شاعر اور نثر نگار تھے، جنہیں «معجزۂ ادبِ عربی» کہا جاتا ہے۔ قلیوبیہ کے گاؤں بہیتم میں پیدا ہوئے، تیس برس کی عمر میں سماعت سے محروم ہو گئے، اور جدید عربی ادب کے محافظ مکتب کے نمایاں ترین نام بن گئے؛ انہوں نے مصری ترانے «اسلمی یا مصر» اور تیونسی قومی ترانے «حماۃ الحمی» کے بیشتر اشعار لکھے، اور ان کی کتابوں میں «وحی القلم» اور «تاریخ آداب العرب» شامل ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ جنوری 1880 میں قلیوبیہ کے گاؤں بہیتم میں اپنے نانا شیخ الطوخی کے گھر پیدا ہوئے؛ نانا حلب سے تعلق رکھنے والے تاجر تھے جن کے قافلے شام اور مصر کے درمیان تجارت کرتے تھے۔ ان کے والد شرعی قاضی تھے جن کا آخری عہدہ طنطا کی شرعی عدالت کی صدارت تھا، اور الرافعی نے اپنی زندگی طنطا میں سرکاری ملازم کی حیثیت سے گزاری۔ تیس برس کی عمر میں ان کی سماعت چلی گئی — فرانسیسی مقالہ اس کی وجہ ٹائیفائیڈ بخار بتاتا ہے — اور یہی حادثہ ان کی ادبی زندگی کا رُخ بدلنے والا ثابت ہوا۔ 3 4 1

    شاعری اور ترانے

    خود آموز ہونے کے باوجود وہ بیسویں صدی کے آغاز کے بڑے عرب شعرا میں شمار ہوئے، اگرچہ احمد شوقی اور حافظ ابراہیم کی حیثیت کو نہ پا سکے۔ انہوں نے مصری قومی ترانہ «اسلمی یا مصر» لکھا جو 1923 سے 1936 تک رائج رہا، اور تیونس کے قومی ترانے «حماۃ الحمی» کے بیشتر اشعار بھی انہی کے ہیں۔ 1926 میں انہیں شاہ فواد اول کا درباری شاعر مقرر کیا گیا۔ 2 4

    نثر اور ادبی معرکے

    انہوں نے شاعری تقریباً ترک کر کے نثر اختیار کی، یہ کہتے ہوئے کہ وزن و قافیہ کی پابندیاں عربی شاعری کو ہر خیال کے اظہار سے روکتی ہیں، اور ان قیود سے آزاد نثری شاعری کی بنیاد رکھی۔ ان کی «تاریخ آداب العرب» (1911) اپنے موضوع پر اولین جدید کتابوں میں سے ہے؛ «حدیث القمر» 1912 اور «المساکین» 1917 میں آئی، اور مضامین کا مجموعہ «وحی القلم» ان کی مشہور ترین کتاب بنی۔ محافظ مکتب کے علم بردار کی حیثیت سے انہوں نے طٰہٰ حسین کی «فی الشعر الجاہلی» کا جواب «تحت رایۃ القرآن» میں دیا اور سلامہ موسیٰ پر اسلام دشمنی کا الزام لگایا — جو ان کے حریفانہ موقف کے طور پر یہاں درج ہے۔ 1 5

    وفات

    ان کا انتقال مئی 1937 میں طنطا میں ستاون برس کی عمر میں ہوا — ویکی ڈیٹا 10 مئی دیتا ہے جب کہ انگریزی مقالے کے معلومات خانے میں 1 مئی درج ہے۔ 4 6 2

    ماخذ

    1. Mustafa Sadiq al-Rafi'i — Urdu Wikipedia
    2. Mustafa Sadiq al-Rafi'i — English Wikipedia
    3. Mustafa Sadiq al-Rafi'i — Arabic Wikipedia
    4. Mustafa Sadiq al-Rafi'i — French Wikipedia
    5. Salama Moussa — Arabic Wikipedia
    6. Mustafa Sadiq al-Rafi'i — Wikidata Q403489
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مصطفی صادق الرافعی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mustafa-sadiq-al-rafii/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔