مصطفیٰ شوكاي

مصطفى شوكاي

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

إسطنبول

مصطفیٰ شوكاي (1890–1941) قازق سیاست دان تھے جنہوں نے 1917–1918 میں ترکستان خودمختاری (خوکند حکومت) کی سربراہی کی، 1921 سے استنبول، پیرس اور برلن میں جلاوطنی کی زندگی گزاری اور ترکستان کے مقدمے کی وکالت کی، 1941 میں نازیوں کی ترکستان لیجن کی قیادت کی پیشکش ٹھکرا دی اور اسی دسمبر میں برلن میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · activist · writer
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عباس محمود العقاد · عبد القادر المغربي · محمد بن عبد الکریم ختابی

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی

    وہ 25 دسمبر 1890 کو پیدا ہوئے؛ جائے پیدائش میں ماخذ مختلف ہیں: انگریزی مضمون آق مشیت (موجودہ قیزیلوردا) کی بستی بتاتا ہے، جبکہ روسی اور قازق مضامین اسی ضلع کا گاؤں اولیے ترانگل بتاتے ہیں 1 2 3۔ سیردریا کے قبچاق مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے، گاؤں کے ملا سے قرآن سیکھا، طشقند میں تعلیم پائی اور 1917 میں سینٹ پیٹرزبرگ یونیورسٹی سے قانون میں فراغت حاصل کی 1۔ علی خان بوکیخانوف کی سفارش پر وہ ریاستی ڈوما کے مسلم دھڑے کے سیکرٹری اور مترجم بنے 1۔

    ترکستان خودمختاری

    فروری انقلاب کے بعد وہ ترکستان کمیٹی اور علاش تحریک میں سرگرم رہے؛ نومبر 1917 میں خوکند کی چوتھی علاقائی مسلم کانگریس نے ترکستان خودمختاری کا اعلان کیا تو محمد جان تینیشپائیف کے بعد وہ اس کی حکومت کے سربراہ بنے اور فروری 1918 میں بالشویکوں کے خاتمے تک اس عہدے پر رہے 1 2۔ پھر سمے میں علاش حکام کے ساتھ کام کیا، جنوب کی طرف فرار ہوئے اور طفلس میں ماورائے قفقاز کی حکومت میں شریک رہے 1۔

    جلاوطنی

    فروری 1921 میں ماورائے قفقاز کے زوال پر وہ استنبول چلے گئے، ٹائمز اور ترک اخبارات میں لکھا، اور اسی موسمِ گرما میں پیرس منتقل ہو گئے 1۔ 1929 میں برلن سے رسالہ «یاش ترکستان» جاری کیا اور پیرس میں «ملی ترکستان» میں لکھتے اور پرومیتھیس تحریک سے وابستہ رہے 1 2۔ 1941 میں جرمن حملے کے بعد انہیں جنگی قیدیوں کے کیمپوں کے معائنے پر لے جایا گیا اور ترکستان لیجن کی قیادت کے لیے دباؤ ڈالا گیا؛ انہوں نے انکار کر دیا اور برلن کو لکھا کہ وہ ایسی فورس کی کمان نہیں کر سکتے 1۔

    وفات

    27 دسمبر 1941 کو برلن کے ایک اسپتال میں وفات پائی؛ سرکاری رپورٹ کیمپوں سے لگے ٹائیفس کی بنیاد پر خون کی زہرآلودگی بتاتی ہے، اور بعض روایات انہیں زہر دیا گیا مانتی ہیں 1 3۔ ان کے مضمون کا کوئی اردو نسخہ موجود نہیں، اس لیے یہ اردو متن دستیاب ماخذوں سے لکھا گیا ہے۔

    عقیدہ

    انگریزی مضمون کا متن انہیں عامل مسلمان کہتا ہے مگر کوئی مکتب نہیں بتاتا؛ سنی تخصیص روسی اور قازق مضامین کے انفوباکسوں پر مبنی ہے — دونوں ایک ہی انفوباکس خاندان ہیں اور کسی متن سے مستند نہیں — اور ویکی ڈیٹا کی مذہب قدر عمومی اسلام ہے 1 2 3 4۔ اس لیے ان کا عقیدہ نامعلوم درج ہے، نشان زدہ، اور انفوباکس قرأت ریکارڈ کے نوٹ میں محفوظ ہے۔

    Sources

    • The defined source entities cited above, recorded in data/source/.
    • Revisions of this article must be dated, and must name the source that changed each fact.

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Allied with
    علی خان بوکیخانوف· سلطان بیک خوجانوف
    Lived in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا

    ماخذ

    1. Mustafa Shokay — English Wikipedia
    2. Mustafa Shokay — Russian Wikipedia
    3. Mustafa Shokay — Kazakh Wikipedia
    4. Mustafa Shokay — Wikidata Q2996747
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مصطفیٰ شوكاي”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mustafa-shokay/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.