نظیر اکبر آبادی

نظير أكبر آبادي

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

دلهي → آغرا

نظیر اکبر آبادی (1735ء – 1830ء)، اصل نام ولی محمد، ہندوستانی اردو شاعر تھے جنھیں ”نظم کا باپ“ کہا جاتا ہے۔ دہلی میں پیدا ہوئے اور 1757ء میں والدہ اور نانی کے ہمراہ اکبر آباد (آگرہ) منتقل ہو گئے، وہیں عمر گزاری اور عوام کی روزمرہ زبان میں غزلیں اور نظمیں لکھیں جن میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے تہوار، بازار اور مفلسی جیسے موضوعات آئے؛ ان کی نظم ”بنجار نامہ“ سب سے مشہور ہے۔ 1830ء میں تقریباً پچانوے برس کی عمر میں انتقال ہوا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: حمدان خوجة · بيرم الثاني محمد بن محمد · شاہ عبدالعزیز دہلوی · أحمد التجاني · مختار الکُنتی

مکان میں

دلهيآغرا

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    نظیر اکبر آبادی (1735ء – 1830ء)، اصل نام ولی محمد، ہندوستانی اردو شاعر تھے جنھیں ”نظم کا باپ“ کہا جاتا ہے؛ انھوں نے عوام کی روزمرہ زبان میں لکھا اور عوام کے شاعر بن گئے 1۔

    دہلی سے اکبر آباد تک

    ولی محمد دہلی میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد محمد فاروق تھے اور والدہ نواب سلطان خان، قلعہ آگرہ کے حاکم، کی بیٹی تھیں 1۔ بچپن میں 1739ء میں نادر شاہ کا دہلی پر حملہ دیکھا، اور اٹھارہ برس بعد 1757ء میں احمد شاہ ابدالی کے حملے پر والدہ اور نانی کے ہمراہ اکبر آباد یعنی آگرہ منتقل ہو گئے، وہیں عمر گزاری اور وہیں سے ان کی نسبت قائم ہوئی 1۔

    شاعری

    کہا جاتا ہے کہ ان کے اشعار کی تعداد تقریباً دو لاکھ تھی جن میں سے چھ ہزار کے قریب چھپے ہوئے ملتے ہیں 1۔ انھوں نے زندگی کے ہر پہلو پر نظمیں لکھیں: مسلمانوں اور ہندوؤں کے تہوار، عید، شب برات، دیوالی اور ہولی، پھل، پرندے، موسم، مفلسی اور جذام، وہ بھی بازار کی بولی کے قریب زبان میں؛ اسی لیے عوام نے انھیں چاہا اور نقادوں نے دیر سے پہچانا 1۔ ان کی مشہور ترین نظم ”بنجار نامہ“ ہے، اور ان کے ہم عصروں میں سودا، میر تقی میر، انشاء اللہ خان انشاء اور مصحفی شامل تھے 1۔ 1954ء میں حبیب تنویر نے ان کے کلام اور زمانے پر اپنا مشہور ڈراما ”آگرہ بازار“ بنایا 1۔

    مذہب

    پڑھے گئے مصادر میں سے کوئی بھی اس شخص کے لیے خود اس کا کوئی مذهب یا سلسلہ نام نہیں لیتا؛ مسلمانوں اور ہندوؤں کے تہواروں کو یکساں انداز میں لکھنا ان کی شاعری کا موضوع ہے، کسی وابستگی کی شہادت نہیں، اور ویکی ڈیٹا صرف اسلام دیتا ہے 1 2۔ اس لیے ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔

    محققین کے لیے نوٹس

    سالِ ولادت مختلف فیہ ہے: انگریزی مقالہ کہتا ہے کہ تاریخِ ولادت یقینی نہیں مگر اکثر سوانح نگار دہلی میں 1735ء کے قائل ہیں، جبکہ ہندی مقالہ 1740ء دیتا ہے 1 3۔ انگریزی مقالے کا معلوماتی خانہ اپنے ہی متن سے مختلف ہے: ولادت آگرہ اور وفات دہلی لکھتا ہے، جبکہ میوزیم متن اور ویکی ڈیٹا کی پیروی کرتا ہے، ولادت دہلی، وفات آگرہ 1 2۔ ویکی ڈیٹا کی وفات کی یومی درستگی، 16 اگست 1830ء، کسی مقالے کے متن سے ثابت نہیں، اس لیے نہیں لی گئی 2۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    دلهي
    Lived in
    آغرا
    Died in
    آغرا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    میر تقی میر· مرزا غالب· سید احمد خان· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي

    ماخذ

    1. Nazeer Akbarabadi — English Wikipedia
    2. Nazeer Akbarabadi — Wikidata Q3695734
    3. Nazir Akbarabadi — Hindi Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “نظیر اکبر آبادی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/nazir-akbarabadi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    میر تقی میر

    میر محمد تقی، معروف بہ میر تقی میر (1723ء – 20 ستمبر 1810ء)، مغلیہ ہندوستان کے اردو شاعر اور کلاسیکی اردو غزل کے بانیوں میں سے تھے، جنھیں خداے سخن کہا جاتا ہے۔ آگرہ میں پیدا ہوئے، دہلی میں پروان چڑھے جس کی بربادی کا دکھ ان کے کلام میں نمایاں ہے، پھر لکھنؤ میں آصف الدولہ کے دربار سے وابستہ ہو کر بقیہ زندگی وہیں گزاری۔ انھوں نے اپنی سوانح ”ذکرِ میر“ اور غم و اشتیاق سے بھرپور ایک ضخیم دیوان چھوڑا۔