نجم الدین اربکان

نجم الدين أربكان

–

ترک انجینئر اور سیاست دان، «ملی گوروش» (قومی نظریہ) تحریک اور ترکی میں اسلامی سیاسی جماعتوں کے سلسلے کے بانی۔ وہ ترکی کے 23ویں وزیرِ اعظم رہے (1996–1997)، فوج کے دباؤ پر مستعفی ہوئے اور بعد میں سیاست سے پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود · احمد عصمت عبد المجید · احمد بن بیلا · علی حسن موینی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    نجم الدین اربکان (29 اکتوبر 1926 – 27 فروری 2011) ترک انجینئر اور سیاست دان تھے، جو 1996 سے 1997 تک ترکی کے 23ویں وزیرِ اعظم رہے۔ فوج نے انہیں مستعفی ہونے پر دباؤ ڈالا، اور بعد میں آئینی عدالت نے آئین میں درج دین و ریاست کی علیحدگی کی خلاف ورزی کے الزام میں ان پر سیاست کی پابندی لگا دی۔ 1 2

    انہوں نے «ملی گوروش» (قومی نظریہ) تحریک کی بنیاد رکھی، جس کا نظریہ ہے کہ ترکی اپنے دینی اقدار کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی طاقت سے ترقی کر سکتا ہے اور مسلم ممالک سے قریبی تعلقات کے حق میں مغربی ممالک کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اسی فکر کے ساتھ وہ 1970 کی دہائی سے 2010 تک ترکی کی نمایاں اسلامی سیاسی جماعتوں کے بانی و رہنما رہے۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    اربکان سینوپ میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد محمد صبری قاضی تھے۔ انہوں نے 1948 میں استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری لی اور جرمنی کی آخن یونیورسٹی سے انجن انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ حاصل کی، اور جرمنی میں ڈوئٹز کارخانوں کے تحقیق و ترقی کے شعبے میں کام کیا۔ ترکی واپسی پر وہ اسی جامعہ میں استاد اور 1965 میں پروفیسر بنے، اور نقشبندی سلسلے کی اسکندر پاشا جماعت کے رکن تھے۔ 1

    سیاسی سفر

    وہ 1969 میں قونیہ سے رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے اور 1970 میں نیشنل آرڈر پارٹی قائم کی، جو نو ماہ میں عدالتی فیصلے سے کالعدم ہو گئی۔ پھر انہوں نے نیشنل سالویشن پارٹی بنائی، جس نے 1974 میں بولنت اجاوید کی حکومت میں اشتراک کیا اور اربکان نائب وزیرِ اعظم بنے۔ 1980 کی فوجی بغاوت کے بعد ان پر پابندی لگی؛ 1987 میں پابندی اٹھنے پر وہ ویلفیئر پارٹی کے رہنما بنے اور 1995 کے انتخابات میں پارٹی کو حیران کن کامیابی دلائی۔ 1 2

    1996 میں وہ تانسو چلر کی جماعت کے ساتھ اتحاد میں وزیرِ اعظم بنے، عرب ممالک سے تعلقات بڑھانے کی کوشش کی، اور اسلامی سکیورٹی تنظیم و «دینار» نامی اسلامی کرنسی کی تجویز دی۔ فوج کے بڑھتے دباؤ پر وہ 1997 میں مستعفی ہو گئے؛ ویلفیئر پارٹی کالعدم ہوئی اور انہیں «کھوئے ہوئے ٹریلین» مقدمے میں دو سال چار ماہ قید کی سزا ہوئی۔ پابندیوں کے باوجود وہ اپنے سابق ساتھیوں کے مرشد رہے، اور 2001 کے بعد سعادت پارٹی کی قیادت 2010 سے وفات تک سنبھالی۔ 1

    وفات اور اثر

    اربکان 27 فروری 2011 کو انقرہ میں دل کی ناکامی سے وفات پا گئے؛ استنبول کی فاتح مسجد میں نمازِ جنازہ کے بعد انہیں اپنی اہلیہ نرمین کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ 1 ان کے بیٹے فاتح اربکان بھی ملی گوروش کی پیروکار جماعت کے رہنما ہیں۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Necmettin Erbakan — English Wikipedia
    2. نجم الدين أربكان — ويكيبيديا العربية
    • Necmettin Erbakan — Wikidata Q243550
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “نجم الدین اربکان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/necmettin-erbakan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔