نکولس سعید

نيكولاس سعيد

تقریباً 1836 عیسوی · 1252 ھ –

کانوری سیاح اور مصنف، جو محمد علی بن سعید کے نام سے تقریباً 1836 میں سلطنتِ بورنو کے کوکاوا میں پیدا ہوئے اور جنرل بارکا گانا کے بیٹے تھے۔ لڑکپن میں غلام بنا کر صحارا پار طرابلس لے جائے گئے، عثمانی آقاؤں اور پھر روسی شہزادے منشیکوف کی خدمت کی، 1855 میں ریگا میں بپتسمہ لے کر آرتھوڈوکس مسیحی ہوئے اور نکولس نام اختیار کیا۔ انہوں نے کئی زبانیں سیکھیں، پانچ براعظموں کا سفر کیا، پھر امریکا ہجرت کی، خانہ جنگی میں 55ویں میساچوسٹس رجمنٹ میں سارجنٹ رہے اور اپنی خودنوشت لکھی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
traveler · writer
خطہ
west-africa-sahel · andalus-europe · americas-oceania
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1790عیسوی1800عیسوی1810عیسوی1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی1910عیسوی1920عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: عبد القادر الجزائري · ابو بکر، سلطان جوہر · عبد الهادي نجا الأبياري · شهاب الدين الحلواني أحمد بن أحمد · أحمد الناصري السلاوي

کہانی میں مقام

    عیسائی (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    نکولس سعید (تقریباً 1836 – 1882) کانوری سیاح، مترجم، سپاہی اور مصنف تھے، جو محمد علی بن سعید کے نام سے سلطنتِ بورنو کے کوکاوا میں پیدا ہوئے اور مشہور جنرل بارکا گانا کے بیٹے تھے۔ لڑکپن میں غلام بنا کر صحارا پار لے جائے گئے، عثمانی آقاؤں اور پھر ایک روسی شہزادے کی خدمت کی، 1855 میں ریگا میں بپتسمہ لے کر مسیحی ہوئے، امریکا ہجرت کی، امریکی خانہ جنگی میں 55ویں میساچوسٹس رجمنٹ میں سارجنٹ کی حیثیت سے لڑے، اور پانچ براعظموں پر محیط اپنی زندگی کی خودنوشت لکھی۔ 1 2

    بورنو اور غلامی

    وہ جھیل چاڈ کے قریب کوکاوا (کوکا) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بارکا گانا زبردست قوت کے جنرل تھے، جو بادشاہ محمد الامین الکانمی کی خدمت میں تھے اور سوکوٹو خلافت کے خلاف ان کی بہادری کے گواہ سیاح ڈکسن ڈینہم تھے؛ ان کی والدہ داليا ماندارا خاتون تھیں، جنہوں نے ان کی پرورش کی۔ تقریباً بارہ برس کی عمر میں انہوں نے جرمن محقق ہائنرش بارتھ کو فیزان سے آئے ایک قافلے کے ساتھ کوکاوا پہنچتے دیکھا اور اس سے بھاگے، کیونکہ سنا تھا کہ گورے آدم خور ہوتے ہیں۔ پھر طوارق نے انہیں پکڑ لیا — فرانسیسی مضمون اس گرفتاری کی تاریخ 1851 بتاتا ہے — اور وہ کاتسینا کے ایک کانمبو تاجر کو فروخت ہوئے، صحارا عبور کر کے مرزق اور پھر طرابلس پہنچے، اور اپنے ایک آقا کے ساتھ حج کے لیے مکہ گئے، پھر عثمانی اشرافیہ میں کئی بار فروخت ہوئے، جن میں وزیر مصطفی رشید پاشا بھی شامل تھے۔ 1 2

    روس اور تبدیلیِ مذہب

    قسطنطنیہ میں روسی سفیر شہزادہ الیگزینڈر منشیکوف نے انہیں آزاد کرنے کے لیے خریدا، اور روس پہنچنے پر، جہاں غلامی ختم ہو چکی تھی، وہ آمد پر ہی آزاد تھے۔ شہزادہ نکولائی تروبتسکوئی کے گھر میں انہوں نے روسی سیکھی، اور وہیں 31 اکتوبر 1855 کو ریگا میں بپتسمہ لیا، اپنا نام محمد علی سے بدل کر نکولس رکھا اور آرتھوڈوکس مسیحی بن گئے۔ انگریزی مضمون بھی، ان کی خودنوشت کی پیروی میں، ریگا میں اسلام سے مسیحیت کی طرف ان کی تبدیلی درج کرتا ہے۔ پھر انہوں نے انگریزی، جرمن، اطالوی اور فرانسیسی سیکھیں، اور اپنی یادداشتوں کے وقت تک کانوری، ماندارا، عربی، ترکی، روسی، جرمن، اطالوی اور فرانسیسی میں واقفیت یا روانی، اور کچھ ارمنی کا ذکر کرتے تھے۔ 1 2

    امریکا اور خانہ جنگی

    وہ 1860 میں امریکا پہنچے اور 1863 میں 55ویں میساچوسٹس رضاکار رجمنٹ میں بھرتی ہوئے — فرانسیسی مضمون 54ویں کا بھی ذکر کرتا ہے — اور یونین فوج میں سارجنٹ تک ترقی پا کر 1865 تک خدمت کی۔ اس فوج کے بیشتر افریقی امریکیوں کے برعکس، نہ وہ خود اور نہ ان کا کوئی بزرگ امریکا میں غلام رہا تھا: وہ اپنی مرضی سے ہجرت کر کے آئے تھے اور لڑنے کے لیے رضاکار بنے تھے۔ جنگ کے اختتام کے قریب انہوں نے طب کی تعلیم کے لیے شعبۂ اسپتال سے منسلک ہونے کی درخواست کی۔ ان کی وردی میں تصویر محفوظ ہے۔ 1 2

    آخری برس

    1867 کی ایک روایت کے مطابق انہوں نے ایک امریکی خاتون سے شادی کی؛ وہ الاباما کے سینٹ اسٹیفنز میں آباد ہوئے، جہاں انہوں نے اپنی یادداشتیں لکھیں — ایک خودنوشت جس میں انہوں نے اپنے وطن بورنو پر عثمان دان فودیو کی جارحیت کی مذمت کی اور اپنے حج، سفروں اور تبدیلی کا حال بیان کیا۔ چونکہ وہ تعمیرِ نو کے دور کے جنوب میں رہ رہے تھے، اس لیے انہوں نے یادداشتوں میں یونین فوج میں اپنی خدمت ظاہر نہیں کی۔ ان کے آخری برس واضح نہیں؛ ایک روایت کے مطابق ان کی وفات 1882 میں ٹینیسی کے براؤنزویل میں ہوئی، اور فرانسیسی مضمون سال اور مقام دونوں کو سوالیہ نشان کے ساتھ درج کرتا ہے۔ 1 2

    عقیدہ

    سعید کی زندگی دو عقیدوں کو عبور کرتی ہے، اور عجائب گھر اس پورے سفر کو درج کرتا ہے، اسے ہموار نہیں کرتا۔ وہ بورنو میں مسلمان پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے، اور نوجوان غلام کی حیثیت سے مکہ کا حج کیا۔ پھر دو آزاد مضامین مختلف ماخذوں سے ایک ہی موڑ درج کرتے ہیں: 1855 میں ریگا میں بپتسمہ لے کر انہوں نے مسیحی نام اختیار کیا اور اس کے بعد آرتھوڈوکس مسیحی کی حیثیت سے زندگی گزاری — روس میں، امریکا میں، اور اپنی خودنوشت میں، جو یہ تبدیلی ان کے اپنے الفاظ میں پیش کرتی ہے۔ اس لیے ان کی درج وابستگی مسیحیت ہے، ان کے دستاویزی بپتسمے اور بعد کی زندگی کی بنیاد پر، اور ان کی مسلمان پیدائش و پرورش یہیں محفوظ ہے۔ 1 2

    ماخذ

    1. Nicholas Said — English Wikipedia
    2. Nicholas Said — French Wikipedia
    • Nicholas Said — Wikidata Q62088432
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “نکولس سعید”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/nicholas-said/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔