عمر رشدی پاشا

عمر رشدي باشا

–

إسطنبول

عمر رشدی پاشا (1843ء – 23 جولائی 1922ء)، کوتاہیہ سے تعلق رکھنے والے عثمانی مشیر؛ نصف صدی سے زائد فوج میں رہے، دمشق میں پانچویں فوج اور 1897ء کی جنگ میں احتیاطی افواج کی کمان کی، اور 1908ء میں وزارتِ جنگ کے قیام پر اس کے پہلے وزیر بنے، بعد ازاں مجلسِ اعیان کے رکن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
military · وزیر
خطہ
anatolia-balkans
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: دلی فواد پاشا · حسن رامی پاشا · جماعت علی شاہ · محمد خليل البنكلاني · عمر پاشا وریونی دوم

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عمر رشدی پاشا (1843ء – 23 جولائی 1922ء)، کوتاہیہ سے تعلق رکھنے والے عثمانی مشیر؛ نصف صدی سے زائد فوج میں رہے۔ دمشق میں پانچویں فوج اور 1897ء کی جنگ میں احتیاطی افواج کی کمان کی، چیف آف جنرل اسٹاف بنے، اور 1908ء میں نئی وزارتِ جنگ کے پہلے وزیر بنے؛ بعد ازاں مجلسِ اعیان کے رکن ہوئے۔ 1

    انگریزی ویکیپیڈیا میں ان کا کوئی مضمون نہیں؛ یہ ریکارڈ ترکی مضمون اور ویکی ڈیٹا پر مبنی ہے، جو ان کی پیدائش 1843ء کوتاہیہ میں اور وفات 1922ء استنبول میں ہونے پر متفق ہیں۔ 1 2

    عسکری زندگی

    عمر رشدی، جن کے خاندان کو ایک بزرگ کے مکہ میں طویل قیام کی وجہ سے «مکہ لی زادہ» کہا جاتا تھا، 1860ء میں حربی اکادمی میں داخل ہوئے اور 1866ء میں اسٹاف کپتان بن کر فارغ ہوئے۔ مونٹی نیگرو، بلغاریہ، بوسنیا اور سربیا میں لڑے، 1884ء میں ادرنہ کے حربی کالج کے چیف آف اسٹاف بنے، اور طرابلس فرقے کی کمان کے بعد مشیر بن کر چار برس دمشق میں پانچویں فوج کی کمان ملی۔ 1897ء میں پہلے ایک فرقے اور پھر الاسونیا فوج کی احتیاطی افواج کی کمان کی اور «غازی» لقب کندہ سنہری تلوار پائی۔ 1

    وزیر اور سینیٹر

    1903ء اور پھر 1905ء میں چیف آف جنرل اسٹاف رہے۔ 1908ء کے آئینی انقلاب نے سرعسکرلی ختم کر کے وزارتِ جنگ قائم کی تو وہ سعید حلیم پاشا کی حکومت میں اس کے پہلے وزیر بنے، اگرچہ پہلی کابینہ تبدیلی پر عہدہ چھوڑ دیا؛ پھر مجلسِ اعیان اور 1920ء میں دوسری شورائے سلطنت کے رکن ہوئے جہاں انھوں نے معاہدۂ سیور کی قبولیت کے حق میں ووٹ دیا۔ 23 جولائی 1922ء کو استنبول میں وفات پائی اور ماچکا قبرستان میں دفن ہوئے۔ 1

    عقیدہ

    مشاورت کردہ کوئی ماخذ عمر رشدی پاشا کے لیے شخصاً کوئی مذہب یا مکتب نامزد نہیں کرتا: واحد مضمون، ترکی، میں مذہب کا خانہ نہیں اور ویکی ڈیٹا میں ان کے لیے مذہب کی کوئی قیمت درج نہیں۔ ان کے خاندان کا مکہ سے منسوب لقب خاندانی تاریخ ہے، شہادت نہیں، لہٰذا عجائب گھر کے ڈیٹا میں ان کا عقیدہ نامعلوم درج ہے۔ 1 2

    مصادر

    • مذکورہ بالا معرف ماخذ اکائیاں، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    إسطنبول
    Buried in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا

    ماخذ

    1. Ömer Rüştü Pasha — Turkish Wikipedia
    2. Ömer Rüştü Pasha — Wikidata Q6027690
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عمر رشدی پاشا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/omer-rustu-pasha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.