راجح عمر

لوگ زندہ اسلام

راجح عمر

مقديشو

صومالی نژاد برطانوی صحافی اور مصنف، جو 1967 میں موغادیشو میں پیدا ہوئے اور دو سال کی عمر میں برطانیہ آئے۔ 2003 میں عراق پر حملے کے دوران بی بی سی کے بغداد نمائندے کے طور پر شہرت پائی، الجزیرہ انگلش پر «وٹنیس» پیش کیا، اور 2013 سے آئی ٹی وی نیوز کے بین الاقوامی امور کے مدیر ہیں؛ «ریوولوشن ڈے» (2005) اور «اونلی ہاف آف می» (2006) کے مصنف ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
صحافی · presenter · writer
خطہ
east-africa · andalus-europe
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات

    خلاصہ

    راجح عمر (پیدائش 19 جولائی 1967) صومالی نژاد برطانوی صحافی اور مصنف ہیں۔ 2003 میں عراق پر حملے کے دوران بی بی سی کے بغداد نمائندے کے طور پر شہرت پائی، الجزیرہ انگلش پر دستاویزی سلسلہ «وٹنیس» پیش کیا، اور 2013 سے آئی ٹی وی نیوز کے خصوصی نمائندے اور بین الاقوامی امور کے مدیر ہیں۔ 1

    زندگی

    عمر 19 جولائی 1967 کو موغادیشو، صومالیہ میں عبداللہ اور سہرہ عمر کے ہاں پیدا ہوئے؛ ان کے والد محاسب تھے جو بعد میں تاجر بنے اور ملک کا پہلا آزاد اخبار قائم کیا۔ 1 2 خاندان اس وقت برطانیہ منتقل ہوا جب وہ دو برس کے تھے۔ 1 ان کے بڑے بھائی محمد عبداللہ عمر بعد میں صومالیہ کے وزیرِ خارجہ بنے۔ 1 انہوں نے آکسفورڈ کے ڈریگن اسکول اور چیلٹنہم کالج میں تعلیم پائی، اور نیو کالج، آکسفورڈ سے جدید تاریخ پڑھی۔ 1 انگریزی مضمون بتاتا ہے کہ عمر مسلمان ہیں، اور ان کی اپنی 2006 کی کتاب کا عنوان «اونلی ہاف آف می: برطانیہ میں مسلمان ہونا» ان کی دو شناختوں کے امتزاج کو بیان کرتا ہے؛ کسی پڑھے گئے ماخذ نے ان کے لیے کوئی مکتب یا سلسلہ نہیں بتایا۔ 1 2000 میں ان کی شادی جارجیانا مونٹگمری کننگھم سے ہوئی؛ ان کے تین بچے ہیں اور وہ مغربی لندن کے چسوک میں رہتے ہیں۔ 1

    کام

    عمر نے «دی وائس» اخبار میں ٹرینی کے طور پر آغاز کیا، 1991 میں یمن میں فری لانس کام کیا — زیادہ تر بی بی سی ورلڈ سروس کے لیے — اور لندن لوٹ کر بی بی سی کے پروڈیوسر و نشریاتی صحافی بنے، بعد میں بی بی سی کے صومالی لینڈ نمائندے رہے۔ 1 2003 میں عراق پر حملے کی بی بی سی بلیٹنز کے لیے براہِ راست رپورٹنگ نے انہیں امریکہ میں «اسکڈ اسٹڈ» کے لقب سے مشہور کیا، اور جنگ پر ان کی کتاب «ریوولوشن ڈے» (2005) صدام حسین کی حکومت، اقوامِ متحدہ کی پابندیوں اور جنگ کے عراقی شہریوں پر اثرات بیان کرتی ہے۔ 1 بعد میں انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ کوریج — بشمول ان کی اپنی — حکومت اور اسلحہ معائنہ کاروں پر مرکوز رہی اور عراقی عوام کو کم توجہ ملی۔ 1 ستمبر 2006 میں وہ الجزیرہ انگلش سے وابستہ ہوئے، 2010 تک رات کی دستاویزی سیریز «وٹنیس» پیش کی، پھر «دی راجح عمر رپورٹ» پیش کیا۔ 1 ان کی دستاویزی فلموں میں «این اسلامک ہسٹری آف یورپ» (بی بی سی فور، 2005)، «دی لائف آف محمد» (بی بی سی ٹو، 2011) اور «دی عثمانی: یورپ کے مسلم شہنشاہ» (بی بی سی ٹو، 2013) شامل ہیں۔ 1 جنوری 2013 میں وہ آئی ٹی وی نیوز میں خصوصی نمائندے کی حیثیت سے شامل ہوئے، 2014 میں بین الاقوامی امور کے مدیر بنے، اور 2015 میں «آئی ٹی وی نیوز ایٹ ٹین» کے نائب نیوز کاسٹر بنے۔ 1 26 اپریل 2024 کو «نیوز ایٹ ٹین» کی براہِ راست نشریات کے دوران ان کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں طبی امداد ملی؛ 27 جنوری 2025 کو وہ رپورٹنگ کی حیثیت سے پروگرام میں واپس آئے۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے ماخذ کے کيانات، data/source/ کے تحت درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    مقديشو

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبدالرشید علی شرمارکی· احمد حسین· علی یوسف کینادید· آیان ہرسی علی· فرتون عدن· حسن شیخ محمود· حوا عبدی· الحان عمر

    ماخذ

    1. Rageh Omaar — English Wikipedia
    2. Rageh Omaar — Wikidata
    • Rageh Omaar — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “راجح عمر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/rageh-omaar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبدالرشید علی شرمارکی

    صومالی سیاست دان ⁦(1919ء–1969ء)⁩ جن کا تعلق ہراردھیرے سے تھا؛ صومالیہ کے پہلے وزیر اعظم ⁦(1960ء–1964ء)⁩ اور پھر 1967ء کے انتخاب میں آدم عدی کو شکست دے کر اس کے دوسرے صدر ⁦(1967ء–1969ء)⁩ بنے؛ 15 اکتوبر 1969ء کو لاس عنود میں ان کے ایک محافظ نے انھیں قتل کر دیا، اور چھ دن بعد سیاد باری کی بغاوت ہوئی۔