ایک نظر میں
- کردار
- reciter · muezzin
- خطہ
- egypt-nile
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں
عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات2016
ڈیجیٹل نقش
ویکیپیڈیا پر ان زبانوں میں:ararzfa (2026-11-06 کو پڑھا گیا)
خلاصہ
راغب مصطفیٰ غلوش (5 جولائی 1938ء – 4 فروری 2016ء) ریڈیو کی بڑی نسل کے مصری قاریِ قرآن تھے؛ 1962ء میں بائیس برس کی عمر میں مصری ریڈیو کے قاری بنے اور اس کے سنہری دور کے کم عمر ترین قاریوں میں تھے۔ 1
ابتدائی زندگی
وہ غربیہ کے ضلع طنطا کے گاؤں برما میں پیدا ہوئے۔ والد انھیں تعلیم دلا کر بڑا افسر بنانا چاہتے تھے، اس لیے وہ اسکول کے بعد مکتب جاتے؛ دس برس سے پہلے قرآن حفظ کر لیا اور اپنے گاؤں کے عبد الغنی الشرقاوی سے تجوید سیکھی۔ 1
چودہ برس کی عمر میں وہ آس پاس کے دیہات میں مشہور ہو گئے اور رمضان 1953ء میں، پندرہ سال کی عمر میں، کفر الشیخ کے محلۃ القصب میں تلاوت کی — اسی علاقے میں جہاں سے مصطفیٰ اسماعیل اور محمود خلیل الحصری اٹھے تھے۔ پھر طنطا کی مسجد احمدی کے معہدِ قراءات میں داخل ہوئے، ابراہیم الطبلیہی سے روایتِ ورش پڑھی، اور عصر کی اذان اور اقامت کے درمیان وہاں روزانہ تلاوت ان کے سپرد ہوئی۔ 1
مسجد حسین اور ریڈیو
1958ء میں وہ سینٹرل سکیورٹی فورس میں بھرتی ہوئے اور مسجد امام حسین آتے جاتے رہے، جہاں کے شیخ حلمی عرفہ سے تعارف ہوا۔ مضمون، المصری الیوم میں ان کی اپنی روایت کے حوالے سے، بتاتا ہے کہ رمضان کی ایک سہ پہر مؤذن طہ الفشنی کو دیر ہو گئی تو غلوش نے عصر کی اذان دی اور تلاوت کی، اور اس دن محمد الغزالی وہاں درس دے رہے تھے؛ یہی مسجد ان کے لیے بڑے حکام اور قاہرہ کی بڑی تعزیتی مجالس کا دروازہ بنی۔ 1
ریڈیو کے ڈائریکٹر محمد امین حماد کی حوصلہ افزائی پر انھوں نے درخواست دی؛ قرآن کی کمیٹی میں محمد ابو زہرہ اور آواز کی کمیٹی میں شاعر محمود حسن اسماعیل شامل تھے، اور وہ تقریباً 160 امیدواروں میں سے کامیاب ہونے والے سات میں تھے۔ نتیجہ 1962ء میں ان کی فوجی خدمت ختم ہوتے وقت آیا اور اخباروں نے «سارجنٹ جو قاری بن گیا» کی خبر لگائی۔ 1
اسفار اور ریکارڈنگز
انھیں کویت، امارات اور سعودی عرب میں سرکاری تقریبات کے لیے بلایا گیا، اور ان کی ایک مرتل ریکارڈنگ خلیجی ریڈیو پر نشر ہوتی ہے۔ مضمون، المصريون (2014ء) کے حوالے سے، بتاتا ہے کہ وہ تیس برس تک ہر رمضان ایران جاتے رہے۔ آخری برسوں میں انھوں نے رمضان مصر میں گزارنا پسند کیا؛ وہ مہینے میں ایک بار مصر کی مشہور مساجد سے فجر کی تلاوت براہِ راست کرتے اور جمعہ اور دینی مواقع پر ریڈیو اور ٹیلی وژن پر پڑھتے رہے۔ 1
وفات
وہ 4 فروری 2016ء کو 77 برس کی عمر میں ایک بیماری کے بعد فوت ہوئے جس کے سبب انھیں اسپتال لے جایا گیا تھا۔ 1
ڈیجیٹل موجودگی
6 نومبر 2026ء کو ان پر ویکیپیڈیا کے تین نسخوں (عربی، مصری عربی اور فارسی) میں مضامین تھے؛ ان سے جڑا ویکی ڈیٹا آئٹم کسی اور شخص کا نام رکھتا ہے، اس لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ 1
مراجع
- عربی ویکیپیڈیا مضمون، نظرِ ثانی 24 اکتوبر 2026ء۔ 1
ماخذ
- Raghib Mustafa Ghalwash — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “راغب مصطفیٰ غلوش”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/raghib-mustafa-ghalwash/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-07.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON