ایک نظر میں
- کردار
- جرنیل · سیاست دان
- خطہ
- egypt-nile · africa
- شناختیں
- Wikidata
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں
عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات2004
اعزازات
- شاہ فیصل انعام · service-to-islam · جیتا · 2004
ڈیجیٹل نقش
ویکیپیڈیا پر ان زبانوں میں:ararzcacsdeeneseufafifrheitkakonoplptrusvtgtruz (2026-11-07 کو پڑھا گیا)
ویکی ڈیٹا:Q307451
خلاصہ
ابتدائی زندگی اور فوج
وہ 1934ء میں ام درمان کے ایک دین دار خاندان میں پیدا ہوئے اور الابیض میں پلے بڑھے اور پڑھے؛ ویکی ڈیٹا الابیض کو جائے پیدائش بتاتا ہے۔ 1954ء میں سوڈانی ملٹری کالج میں داخل ہو کر 1958ء میں سیکنڈ لیفٹیننٹ بنے، پھر برطانیہ (سینڈہرسٹ)، امریکا، مصر اور اردن میں تربیت پائی، اور اردن سے عسکری علوم میں ماسٹرز کیا (1970ء)۔ 1 3
قطر اور واپسی
1972ء میں ملازمت سے ہٹائے جانے پر وہ قطر میں فوجی مشیر بنے، جہاں مضمون کے مطابق انھوں نے پولیس کو مسلح افواج سے الگ کرنے میں حصہ لیا۔ 1975ء کے آخر میں سوڈان لوٹ کر نائب کمانڈر انچیف (1982ء) اور چیف آف اسٹاف بنے، اور 10 مارچ 1985ء کو کمانڈر انچیف اور وزیرِ دفاع۔ 1
اپریل کی تحریک اور عبوری دور
مہنگائی پر مظاہرے بڑھے تو 6 اپریل 1985ء کو انھوں نے ریڈیو ام درمان پر آئین معطل کرنے اور صدر جعفر نمیری اور ان کی حکومت کی برطرفی کا اعلان کیا، عبوری فوجی کونسل کے سربراہ بنے، اور ایک سال میں منتخب حکومت کو اقتدار سونپنے کا وعدہ کیا۔ 1986ء میں انتخابات ہوئے اور انھوں نے صادق المہدی کی حکومت کو اقتدار سونپ دیا؛ مضمون اسے عرب دنیا میں فوجی انقلابوں کی تاریخ کی ایک نظیر کہتا ہے، اور یہ بھی بتاتا ہے کہ بعض لوگ اس کے رضاکارانہ ہونے میں شک کرتے ہیں۔ 1 3
دعوتی اور خیراتی کام
اس کے بعد وہ سیاست سے الگ ہو گئے اور 1987ء میں خرطوم کی اسلامی دعوت تنظیم کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے سربراہ بنے؛ انعام کے صفحے کے مطابق وہ قاہرہ کی عالمی کونسل برائے اسلامی دعوت کے نائب صدر بھی رہے۔ انعام کے صفحے کے مطابق انھوں نے سوڈان، افریقہ اور مشرقی یورپ کے کچھ حصوں میں ہزاروں مساجد اور کنووں، اور اسکولوں، اسپتالوں اور یتیم خانوں کی تعمیر کی نگرانی کی، صومالیہ اور جنوبی سوڈان میں مصالحتی کوششوں میں حصہ لیا، اور ایسٹ نائل یونیورسٹی کالج قائم کیا۔ 1 3
اعزاز اور وفات
2004ء میں انھیں خدمتِ اسلام کا شاہ فیصل انعام ملا۔ 3 وہ 18 اکتوبر 2018ء کو ریاض کے فوجی اسپتال میں فوت ہوئے اور اپنی وصیت کے مطابق مدینہ منورہ کے بقیع میں دفن ہوئے۔ 1 2
ڈیجیٹل موجودگی
7 نومبر 2026ء کو ویکی ڈیٹا کے مطابق ان پر ویکیپیڈیا کے چوبیس نسخوں میں مضامین تھے، جن میں سادہ انگریزی بھی ہے۔ 2
مراجع
تعلقات
- Buried in
- بقيع الغرقد
- Awarded
- شاہ فیصل انعام
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
حافظ سخاوی کی مدینہ میں وفات اور بقیع میں تدفین، 28 شعبان 902ھ/1497ء· عبدالرحمٰن السمیط· عبدو ضیوف· عبداللہ احمد بداوی· عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود· عبد اللہ بن عمر نصیف· عبدالمجید ثانی· ابو الحسن علی حسنی ندوی
ماخذ
- عبد الرحمن سوار الذهب — Arabic Wikipedia
- Abdel Rahman Swar al-Dahab — Wikidata Q307451
- شاہ فیصل انعام یافتگان کے صفحات (سرکاری ویب سائٹ) , field-marshal-abd-ar-rahman-m-siwar-adh-dhahab
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عبد الرحمٰن سوار الذہب”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdel-rahman-swar-al-dahab/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-07.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON