رحمہ الیونسیہ

رحمة اليونسية

–

پاڈانگ پانجانگ سے تعلق رکھنے والی انڈونیشی معلمہ (1900ء–1969ء): 1923ء میں انہوں نے دینیہ پوتری کی بنیاد رکھی، جو جدید نصاب رکھنے والا انڈونیشیا کا پہلا اسلامی لڑکیوں کا مدرسہ تھا، اور اسے کنڈرگارٹن، اساتذہ کی تربیتی درسگاہ اور خواتین کے کالج تک وسعت دی؛ وہ ماشومی پارٹی کی طرف سے مجلس شوری عوامی کی رکن رہیں اور مسلم خواتین کی تعلیم کی بانیوں میں شمار ہوتی ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
teacher · activist · سیاست دان
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحي عارفي · عبد الحمید خان بھاشانی · عبد الماجد دریابادی · شیخ عبد المجید سندھی · عبد الله الموسوي الشيرازي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    رحمہ الیونسیہ (26 اکتوبر 1900ء – 26 فروری 1969ء) مغربی سوماترا کے پاڈانگ پانجانگ سے تعلق رکھنے والی انڈونیشی معلمہ تھیں جنہوں نے 1923ء میں دینیہ پوتری کی بنیاد رکھی اور اسے انڈونیشیا میں لڑکیوں کی جدید اسلامی تعلیم کا حوالہ بنا دیا۔ انہوں نے مزید مدارس اور اساتذہ کی تربیت کا ادارہ بھی قائم کیا، آزادی سے پہلے کی جدوجہد میں قید رہیں، اور بعد میں ماشومی پارٹی کی طرف سے مجلس شوری عوامی میں بیٹھیں۔ ان پر اردو ویکیپیڈیا میں کوئی مضمون نہیں؛ یہ متن انگریزی، انڈونیشی اور عربی مضامین اور ویکی ڈیٹا سے لکھا گیا ہے۔ 1 2 3

    خاندان اور تربیت

    وہ پاڈانگ پانجانگ کے بوکیت سورونگان میں علماء کے خاندان میں پیدا ہوئیں: ان کے والد محمد یونس قاضی تھے اور دادا محمد رشاد عالم تھے جو مقامی نقشبندی شاخ کی قیادت کرتے تھے۔ یہ نسب ان کی سوانح کا حصہ ہے، ان کے اپنے مکتب کا ثبوت نہیں؛ کوئی ماخذ ان کے لیے کوئی مکتب نامزد نہیں کرتا، اس لیے ریکارڈ میں ان کا مکتب ثبوت بیان کر کے نامعلوم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے پاڈانگ پانجانگ کے اصلاحی مدرسی ماحول میں تعلیم پائی اور ابتدا ہی سے طے کیا کہ لڑکیوں کو بھی لڑکوں جیسی منظم دینی و عام تعلیم ملے۔ 1 2 4

    دینیہ پوتری

    1923ء میں انہوں نے دینیہ پوتری کھولا، لڑکیوں کا ایک مدرسہ جس نے قرآنی و اسلامی مطالعے کو عام مضامین کے ساتھ جدید تدریجی نصاب میں جوڑا۔ یہ ایک مدرسے سے بڑھ کر چھوٹا نظام بن گیا: کنڈرگارٹن، پرائمری و ثانوی درجے، اساتذہ کی تربیت اور خواتین کا کالج، اور اس نے ملایو انڈونیشی دنیا بھر سے طالبات کھینچیں۔ مدرسے کی متحف میں کوئی جماعتی اکائی نہیں، اس لیے اس کی تاسیس رشتے کے بجائے نثر میں درج ہے۔ 1 2

    سیاست اور وفات

    آزادی کے آس پاس کے برسوں میں وہ قوم پرست تحریک میں سرگرم رہیں اور ولندیزیوں نے انہیں قید کیا؛ آزادی کے بعد انہوں نے مجلس شوری عوامی میں ماشومی کی نمائندگی کی۔ پارٹی رکنیت وابستگی ہے، مکتب نہیں۔ وہ 26 فروری 1969ء کو پاڈانگ پانجانگ میں وفات پاگئیں۔ لین کی فہرست میں درج وفات کا سال 1964ء انگریزی، انڈونیشی اور عربی مضامین اور ویکی ڈیٹا سب کے خلاف ہے، جو سب 1969ء دیتے ہیں۔ 1 2 3

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرّف ماخذی اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظر ثانی کی تاریخ درج ہو اور ہر تبدیل شدہ حقیقت کا ماخذ نامزد ہو۔

    ماخذ

    1. Rahmah el Yunusiyah — English Wikipedia
    2. Rahmah El Yunusiyah — Indonesian Wikipedia
    3. Rahmah El Yunusiyyah — Wikidata Q13257554
    4. Rahmah el Yunusiyah — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “رحمہ الیونسیہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/rahmah-el-yunusiyah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔