روشن آرا بیگم

روشن آرا بيغوم

3 ستمبر 1617 عیسوی · 1026 ھ – 11 ستمبر 1671 عیسوی · 17 جمادی الاول 1082 ھ† †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

دلهي

روشن آرا بیگم (3 ستمبر 1617ء – 11 ستمبر 1671ء) مغل شہزادی اور شاعرہ تھیں، شہنشاہ شاہ جہاں اور ممتاز محل کی تیسری صاحبزادی۔ انھوں نے اپنے بھائی اورنگزیب کو والد کی سازش سے خبردار کر کے بچایا، تو تخت نشینی پر اورنگزیب نے انھیں اپنی بہن جہاں آرا کی جگہ «پادشاہ بیگم» بنایا اور وہ سلطنت کی سب سے طاقتور خاتون بن گئیں — یہاں تک کہ وہ عنایت سے گر گئیں، ان کے اختیارات چھن گئے اور انھیں دہلی کے باہر اپنے باغیچہ محل میں عبادت و اعتکاف کی زندگی کا حکم ہوا، جہاں وہ اپنے بنوائے ہوئے روشن آرا باغ میں دفن ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
princess · شاعر
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1575عیسوی1600عیسوی1625عیسوی1650عیسوی1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی تقریباً
إمبراطوريات البارود ہم عصر: الحصكفي محمد بن علي · بهادر نظام شاه · إبراهيم الكوراني · جہاں آرا بیگم · ما موان

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    روشن آرا بیگم (3 ستمبر 1617ء – 11 ستمبر 1671ء) مغل شہزادی اور شاعرہ تھیں، شہنشاہ شاہ جہاں اور ممتاز محل کی تیسری صاحبزادی 1۔ جنگِ جانشینی میں انھوں نے اپنے بھائی اورنگزیب کو بچایا — اور ایک دہائی کے لیے پادشاہ بیگم کی حیثیت سے سلطنت کی سب سے طاقتور خاتون بن گئیں، یہاں تک کہ عنایت سے گر کر انھیں اعتکاف کا حکم ہوا 1 2۔ اردو مضمون ان کی ولادت ہجری صورت میں 2 رمضان 1026ھ دیتا ہے، وہی تاریخ جسے انگریزی مضمون 3 ستمبر 1617ء کہتا ہے 2۔ دہلی انھیں روشن آرا باغ سے یاد کرتی ہے، وہ باغ جو انھوں نے خود طراحی کر کے بنوایا اور جس میں وہ دفن ہیں 1۔

    وہ انتباہ جس نے انھیں بنایا

    جب جانشینی کا بحران بن رہا تھا تو شاہ جہاں نے اورنگزیب کو دہلی بلایا — حقیقت میں، جیسا کہ انگریزی مضمون بیان کرتا ہے، اسے پکڑ کر قتل کرنے کے لیے 1۔ روشن آرا کو اس منصوبے کی خبر ہو گئی اور انھوں نے قاصد بھیج کر اپنے بھائی کو آنے سے خبردار کیا 1 2۔ اردو مضمون بھی اسی پر زور دیتا ہے کہ وہ اورنگزیب کو اس کے خلاف ہر درباری سازش سے آگاہ کرتی رہیں، اور مورخین اس کی کامیابی کا بڑا حصہ ان کی بیدار مغزی کو دیتے ہیں 2۔ انھوں نے دارا شکوہ کے قتل پر بھی زور دیا، اس خوف سے کہ وہ دوبارہ اقتدار میں نہ آ جائے 1۔

    پادشاہ بیگم

    1658ء میں اورنگزیب نے انھیں ان کی بڑی بہن اور حریف جہاں آرا کی جگہ پادشاہ بیگم بنایا 1۔ وہ نشانات جاری کر سکتی تھیں، منصبدار کا عہدہ رکھتی تھیں، پردے کے پیچھے سے مجلس میں بولتی تھیں، اور 1662ء میں اورنگزیب کی شدید بیماری کے دوران اس تک رسائی پر مکمل قابض رہیں، یہاں تک کہ اس کی مہر کی انگوٹھی بھی لے لی 1۔ انھوں نے ایک جامع مسجد کی تعمیر کی سرپرستی بھی کی 1۔ اردو مضمون ریکارڈ کا دوسرا رخ پیش کرتا ہے — ایک دیندار، صحیح العقیدہ خاتون جس نے اپنی دولت کا بیشتر حصہ غریبوں اور محتاجوں پر خرچ کیا اور کبھی شادی نہیں کی 2۔

    زوال اور اعتکاف

    بدعنوان طریقوں سے جمع کی گئی دولت اور اختیارات کے غلط استعمال کی شکایات جمع ہوتی گئیں، اور ان کے گھرانے کی آزادانہ زندگی کی شہرت نے ان کے سخت گیر دیندار بھائی کو ناراض کیا 1۔ 1667ء/8ء میں دکن سے واپسی پر اورنگزیب نے ان کے اختیارات چھین لیے، انھیں دربار سے نکال دیا اور حکم دیا کہ وہ شہر کی فصیل کے باہر اپنے باغیچہ محل میں پرہیزگارانہ اعتکاف کی زندگی گزاریں 1۔ وہیں وہ 11 ستمبر 1671ء کو انتقال کر گئیں، اور اورنگزیب نے انھیں روشن آرا باغ میں دفن کرایا 1 3۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Sibling of
    جہاں آرا بیگم· مراد بخش· أورنكزيب عالمكير
    Child of
    شاهجهان
    Died in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جہاں آرا بیگم· شاهجهان· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· اكتمال الجامع المسجد بدلهي· افتتاح القلعة الحمراء بدلهي· زیب النساء· أورنكزيب عالمكير

    ماخذ

    1. Roshanara Begum — English Wikipedia
    2. Roshanara Begum — Urdu Wikipedia
    3. Roshanara Begum — Wikidata Q7368827
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “روشن آرا بیگم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/roshanara-begum/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جہاں آرا بیگم

    جہاں آرا بیگم (1614ء – 16 ستمبر 1681ء) مغل شہزادی تھیں، شہنشاہ شاہ جہاں اور ممتاز محل کی سب سے بڑی زندہ بچ جانے والی صاحبزادی، جنھوں نے 1631ء میں والدہ کی وفات کے بعد شاہی مہر اور «پادشاہ بیگم» کا لقب سنبھالا اور دربار کی سب سے طاقتور خاتون قرار پائیں۔ وہ صوفی مصنف بھی تھیں — 1641ء سے سلسلہ قادریہ میں ملا شاہ بدخشی کی مرید، اور معین الدین چشتی کی سوانح «مونس الارواح» اور اپنے مرشد کی سوانح «رسالہ صاحبیہ» کی مصنف۔