ایک نظر میں
- کردار
- عالم · theologian · writer
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
sunni-shafii (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سعید نورسی (1294ھ / 1877ء – 23 مارچ 1960ء)، جنہیں ان کے پیروکار «بدیع الزماں» اور «استاد» کے القاب سے یاد کرتے ہیں، عثمانی ترکی کے کرد عالم تھے اور «رسائلِ نور» کے مصنف تھے، جو چھ ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل قرآن کی تفسیر اور ایمانی مباحث کا مجموعہ ہے۔ 1
انہوں نے اپنی زندگی کو خود تین ادوار میں تقسیم کیا: سیاسی سرگرمیوں والا «سعیدِ قدیم»، سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد رسائل کی تصنیف میں منہمک «سعیدِ جدید»، اور 1949ء سے وفات تک کا تیسرا دور۔ ان کی کتب سے «نور» تحریک پیدا ہوئی، جس نے ترکی میں اسلام کے احیا میں اہم کردار ادا کیا؛ 2008ء کی ایک اشاعت کے مطابق دنیا بھر میں ان کے پیروکاروں کی تعداد پچاس سے ساٹھ لاکھ اور ان کے درس خانوں کی تعداد تقریباً 5,500 ہے۔ 1
زندگی اور تعلیم
وہ صوبہ بدلیس کے گاؤں نورس میں کرد والدین ميرزا اور نوریہ کے ہاں پیدا ہوئے، اور ان کی نسبت اسی گاؤں سے ہے۔ نوجوانی میں وہ مدارس اور مقامی شیوخ کے درمیان مختصر قیام کرتے رہے اور رسمی اجازہ حاصل نہ کیا۔ ماخذ بتاتے ہیں کہ تیرہ، چودہ برس کی عمر میں انہوں نے مدارس کا پورا نصاب — جو عموماً دس سے پندرہ برس میں مکمل ہوتا ہے — تین ماہ میں ختم کر لیا، اور سیرت کے علماء نے انہیں «بدیع الزماں» کا لقب دیا۔ 1 2
1897ء سے 1907ء تک وہ وان کے والی طاہر پاشا کی سرپرستی میں رہے، جہاں انہوں نے اسلامی علوم کے ساتھ تاریخ، جغرافیہ، ریاضی، طبیعیات، کیمیا اور فلسفہ بھی پڑھا۔ انہوں نے مشرقی اناطولیہ میں «مدرسۃ الزہراء» کے نام سے ایک یونیورسٹی کا منصوبہ بنایا، جس میں دینی اور جدید سائنسی تعلیم جمع ہوتی؛ سلطان محمد خامس سے اس کے لیے رقم ملی اور 1913ء میں تعمیر شروع ہوئی، مگر پہلی جنگِ عظیم نے اسے ختم کر دیا۔ 1 2
جنگ، قید اور رسائلِ نور
پہلی جنگِ عظیم میں انہوں نے اپنے شاگردوں کی رضاکار دستہ قائم کر کے قفقاز کے محاذ پر قیادت کی اور لڑائی کے دوران اپنا تفسیر «اشارات الاعجاز» خندقوں میں املا کرایا۔ ٹانگ ٹوٹنے پر وہ گرفتار ہوئے اور روس کے قوسطورما کیمپ میں تقریباً ڈھائی سال قید رہے، پھر فروری کے انقلاب کے بعد فرار ہو کر جون 1918ء میں استنبول لوٹے۔ 1 2
1922ء میں وہ انقرہ گئے، مگر ان کا اسلامی جمہوریہ کا تصور مصطفیٰ کمال کے سیکولر منصوبے سے مختلف تھا، پس وہ 1924ء میں وان لوٹ کر سیاست سے الگ ہو گئے۔ انہوں نے 1926ء میں شیخ سعید کی بغاوت میں شرکت سے انکار کیا، پھر بھی انہیں جلاوطن کر کے بارلا گاؤں بھیجا گیا، جہاں انہوں نے «رسائلِ نور» کا دو تہائی حصہ لکھا۔ یہ رسائل ہاتھ سے عربی رسم الخط میں نقل ہو کر «نور ڈاک» کے ذریعے پورے ترکی میں ان کے شاگردوں تک پہنچتے تھے۔ انہوں نے بیس سال سے زیادہ قید و جلاوطنی میں گزارے، اور ان کی کتابوں کو 1956ء میں چھپنے کی اجازت ملی۔ 1 2
ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے تین دشمن ہیں: جہالت، غربت اور تفرقہ، اور ان کے مقابلے کے تین ہتھیار ہیں: تعلیم، صنعت اور اتحاد۔ ان کا طریقہ «جہادِ معنوی» اور «مثبت عمل» تھا، یعنی تشدد سے پرہیز اور عقل و دلیل سے ایمان کی حفاظت۔ 1
وفات
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
- Lived in
- إسطنبول
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا
ماخذ
- Said Nursi — English Wikipedia
- بديع الزمان سعيد النورسي — ويكيبيديا العربية
- Said Nursi — Wikidata Q198770
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “سعید نورسی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/said-nursi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.