ایک نظر میں
- کردار
- حکمران
- خطہ
- arabia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سلمان بن حمد آل خلیفہ (1894ء–1961ء) 20 فروری 1942ء کو اپنے والد حمد بن عیسیٰ کی وفات سے 2 نومبر 1961ء کو اپنی وفات تک بحرین کے حاکم رہے۔ والد کی سرپرستی میں ولی عہد کے طور پر پرورش پا کر ان کے جانشین بنے اور اپنے دو دہائیوں کے دور کو صحت اور تعلیم کے لیے وقف کر دیا — موتی غواصوں کے لیے پیشہ ورانہ کلینک، توسیع شدہ اسپتال، اور اپنے آخری سال میں شہریوں اور زائرین کے لیے مفت علاج — جب کہ ذاتی طور پر ریاستی بجٹ اور تیل کی آمدنی کا جائزہ لیتے رہے۔ وہ اسی نام کے موجودہ ولی عہد (ولادت 1969ء) نہیں ہیں۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور جانشینی
سلمان 10 اکتوبر 1894ء کو پیدا ہوئے — انگریزی سوانح کا متن ان کی پیدائش 1895ء بتاتا ہے، جس روایت کو ڈیٹا ریکارڈ محفوظ رکھتا ہے مگر مطلع، عربی مقالے اور وکی ڈیٹا کی پیروی کرتا ہے — اور والد کی دیکھ بھال میں پرورش پائی، قرآن اور دینی علوم سمیت مختلف مضامین اپنے والد کے لائے ہوئے اساتذہ سے پڑھے۔ والد اور آل خلیفہ کے نمایاں افراد نے انھیں ولی عہد منظور کیا، اور وہ کئی سرکاری مواقع پر والد کی نمائندگی کرتے رہے۔ 20 فروری 1942ء کو حمد کی وفات پر سلمان حاکم بنے؛ ان کی تخت نشینی کی تقریب 6 اپریل 1942ء کو ہوئی۔ 1 3
دورِ حکومت
سلمان کا حاکمانہ شغف عوامی بہبود تھا۔ موتی تجارت کی بیماریوں سے واقف ہو کر انھوں نے روایتی اشرافیہ کی مزاحمت کے باوجود غواصوں کے حالاتِ کار میں اصلاحات کو فروغ دیا اور اسپتالوں کی فنڈنگ بڑھائی، یہ استدلال کرتے ہوئے کہ صحت بالآخر تعلیم ہی سے ممکن ہے؛ اپنے دور کے آخری سال میں حکومت نے شہریوں اور زائرین دونوں کو مفت علاج فراہم کیا۔ وہ سالانہ بجٹ کا ذاتی طور پر جائزہ لیتے اور مشیروں پر تیل کی آمدنی کے کوٹہ نظام اور غیر ملکی تیل کی ڈیوٹی فری ریفائننگ پر دباؤ ڈالتے، جسے وہ ملک کی طویل مدتی دولت کے لیے خطرہ سمجھتے تھے؛ خلیج ایئر ان کے دور میں زمینی قانون کی 1914ء کی ایک شق کی بنیاد پر قائم ہوئی جس کی طرف انھوں نے توجہ دلائی تھی۔ 1948ء میں انھوں نے جنگ سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے بار بار عطیات کی مہمیں چلائیں — ایک کمیٹی نے 66,000 روپے جمع کیے، تاجروں کی ایک کانفرنس نے پندرہ دن سے کم میں 77,000 روپے اکٹھے کیے، اور انھوں نے ذاتی طور پر UNRWA کو 100,000 روپے دیے۔ ان کے چچا عبداللہ بن عیسیٰ آل خلیفہ نے متوازی مہم کی قیادت کی۔ 3
وفات اور جانشینی
سلمان بڑھاپے تک بھی عوامی شیڈول کی سختی برداشت کرتے رہے، صبح سویرے اٹھ کر باب البحرین میں اپنے دفتر میں شہریوں کی درخواستیں سنتے اور پھر ملاقاتوں، اجلاسوں اور خط کتابت میں لگ جاتے، اور ڈاکٹروں کے آرام کے مشورے سے انکار کرتے رہے۔ وہ تقریباً دو سال کی بیماری کے بعد 2 نومبر 1961ء کو اپنی سافرہ رہائش گاہ میں وفات پا گئے، اور دسمبر 1961ء میں ان کے بیٹے عیسیٰ بن سلمان آل خلیفہ ان کے جانشین بنے۔ ان کی بنوت ان کے اپنے ڈیٹا ریکارڈ میں ایک ہی بار درج ہے، حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے بیٹے کے طور پر، جن کا ریکارڈ اس میوزیم نے اسی موج میں بنایا۔ 1 3
مآخذ
- اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام لینا چاہیے۔
تعلقات
- Child of
- حمد بن عیسیٰ بن علی آل خلیفہ
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Salman bin Hamad Al Khalifa — Arabic Wikipedia
- Salman bin Hamad Al Khalifa — Wikidata Q2469483
- Salman bin Hamad Al Khalifa — English Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “سلمان بن حمد آل خلیفہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/salman-bin-hamad-al-khalifa/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-31.