سموئیل فیضی رحمین

سامويل فيضي رحيمين

–

ہندی، بعد ازاں پاکستانی، مصور اور مصنف (1880ء–1964ء)، جدید ہندی مصوری کے بانیوں میں سے ایک۔ وہ پونے میں بنی اسرائیل یہودی خاندان میں س۔ رحیمین سموئیل تلکر کے نام سے پیدا ہوئے، بمبئی اور لندن کی رائل اکیڈمی میں تعلیم پائی، 1912ء میں مصنفہ و مفکرہ عطیہ فیضی سے شادی پر اسلام قبول کر کے فیضی رحیمین نام اختیار کیا، نئی دہلی کی امپیریل سیکرٹریٹ کی دیوار تصویریں بنائیں، 1948ء میں کراچی آ گئے اور وہیں غربت میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
فنکار · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحمید خان بھاشانی · علی المیرغنی · عطیہ فیضی · دا بوشينغ · حسن تقی زادہ

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سموئیل فیضی رحمین (19 دسمبر 1880ء – 1 جنوری 1964ء) ہندی، بعد ازاں پاکستانی، مصور و مصنف تھے، جنھیں جدید ہندی مصوری کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ پونے میں س۔ رحیمین سموئیل تلکر کے نام سے بنی اسرائیل یہودی خاندان میں پیدا ہوئے، 1912ء میں مصنفہ و مفکرہ عطیہ فیضی سے شادی پر اسلام قبول کر کے فیضی رحیمین نام اختیار کیا، بڑودہ کے درباری مصور رہے، نئی دہلی کی امپیریل سیکرٹریٹ کی دیوار تصویریں بنائیں، 1948ء میں کراچی آ گئے اور وہیں غربت میں وفات پائی۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ پونے (بمبئی پریزیڈنسی) میں بنی اسرائیل یہودی برادری کے خاندان میں پیدا ہوئے اور بمبئی کے سر جے جے اسکول آف آرٹ اور لندن کی رائل اکیڈمی میں فن کی تعلیم پائی۔ 1 3

    قبولِ اسلام اور شادی

    1912ء میں انھوں نے ہندی مسلم مصنفہ و مفکرہ عطیہ بیگم (عطیہ فیضی) سے شادی کے لیے اسلام قبول کیا اور فیضی رحیمین نام اختیار کیا۔ انگریزی مقالہ اس قبولِ اسلام کے لیے «بزنس اسٹینڈرڈ» کی 2014ء کی کتاب پر تبصرہ اور «فرنٹ لائن» کے 2014ء کے مضمون کا حوالہ دیتا ہے، اور «آرٹ یو کے» کے مطابق انھیں «ٹیٹ کلیکشن کے پہلے مسلم فنکار» کہا گیا ہے۔ کوئی ماخذ اسلام کے اندر ان کا کوئی مکتب نہیں بتاتا، اس لیے ان کا انتماء غیر مصنف درج ہے اور قبولِ اسلام یہاں درجِ سند ہے؛ اردو کا مختصر مقالہ متن میں صرف یہ کہتا ہے کہ وہ عطیہ فیضی کے شوہر تھے، اور اس کا «یہودیت سے اسلام قبول کرنے والوں» کا زمرہ درجہ بندی ہے، متنی شہادت نہیں۔ 1 2

    فنّی زندگی

    وہ 1908ء سے 1918ء تک ریاست بڑودہ کے درباری مصور رہے اور 1918ء میں لندن جا کر امپیریل فورسز کی نمائش میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ واپسی پر بمبئی میں قدیم اشیاء کی دکان چلائی، پھر نئی دہلی کی امپیریل سیکرٹریٹ کی دیوار تصویریں بنانے کی ذمہ داری ملی، جو انھوں نے 1926ء سے 1929ء کے درمیان مکمل کیں اور جو ہندی فن کی تاریخ میں سنگِ میل سمجھی جاتی ہیں؛ ان کی تصاویر ٹیٹ میوزیم و آرٹ گیلری میں نمائش کے لیے موجود ہیں۔ ان کی تحریروں میں اہلیہ عطیہ فیضی کے ساتھ مل کر لکھی گئی کتاب «انڈین آرٹ» (1940ء) شامل ہے۔ 1

    آخری ایام اور وفات

    1947ء میں آزادی کے بعد وہ اور ان کی اہلیہ 1948ء میں کراچی آ گئے، جہاں انھوں نے انتہائی غربت میں زندگی گزاری۔ انگریزی مقالے کے مطابق وہ کراچی میں 1 جنوری 1964ء کو وفات پا گئے؛ وکی ڈیٹا میں 22 اکتوبر 1964ء اور غیر مستند اردو مختصر مقالے میں 22 اکتوبر 1967ء ہے، اس لیے انگریزی مقالے کی تاریخ اپنائی گئی اور وفات متنازع درج کی گئی۔ ان کی تصویر «سیار موسیقار» کو سرپیندرا انعام کے لیے بھیجا گیا اور اس نے پہلا انعام جیتا۔ 1 2 3

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرفہ ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرنا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Spouse of
    عطیہ فیضی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    إسطنبول· عطیہ فیضی

    ماخذ

    1. Samuel Fyzee-Rahamin — English Wikipedia
    2. Samuel Fyzee-Rahamin — Urdu Wikipedia
    3. Samuel Fyzee-Rahamin — Wikidata Q26203730
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سموئیل فیضی رحمین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/samuel-fyzee-rahamin/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    إسطنبول

    City formerly known as Constantinople, conquered by Mehmed II in 1453 and capital of the Ottoman Empire.