شہزیہ سکندر

شهزية سكندر

لاهور

پاکستانی-امریکی بصری فنکارہ، 1969 میں لاہور میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے ہند-فارسی منی ایچر مصوری کو زندہ کیا جسے ان کی نسل کے فنکار ترک کر چکے تھے: اسے لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس میں استاد بشیر احمد سے سیکھا، اور ان کے تھیسس کام «دی اسکرول» (1989ء–1990ء) نے انھیں شہرت دی اور نو-منی ایچر کی بنیاد رکھی۔ انھوں نے 1995 میں رہوڈ آئی لینڈ اسکول آف ڈیزائن سے ایم ایف اے کیا اور نیویارک میں رہتی ہیں؛ ان کا کام اینیمیشن، مجسمہ سازی اور تنصیب تک پھیل گیا، جس میں مجسمے «ناؤ» اور «وٹنس» (2023) شامل ہیں۔ انھیں 2006 میں میک آرتھر فیلوشپ ملی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
فنکار
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود

مکان میں

لاهور

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شہزیہ سکندر لاہور میں پیدا ہونے والی پاکستانی-امریکی بصری فنکارہ ہیں، جو روایتی ہندوستانی منی ایچر مصوری کو زندہ کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں۔ 1 2 ان کا کام — ڈرائنگ، مصوری، پرنٹ سازی، اینیمیشن، تنصیب، پرفارمنس، ویڈیو اور مجسمہ — تاریخی بیانیوں کو نسل، صنف، مابعد نوآبادیاتی شناخت اور مہاجر تجربے جیسے عصری مسائل سے مکالمے میں لاتا ہے۔ 2 دو مآخذ انھیں مسلم خاتون بتاتے ہیں؛ کوئی بھی ان کے لیے مسلک نہیں بتاتا، اس لیے ان کے ڈیٹا میں عقیدہ نامعلوم درج ہے اور ثبوت وہیں بیان ہے۔ 1 2

    تربیت اور «دی اسکرول»

    وہ 6 مارچ 1969 کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ 2 لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس میں، جہاں وہ 1987 میں داخل ہوئیں، منی ایچر مصوری نوجوان پاکستانی فنکاروں میں غیر مقبول تھی اور خطے کے مخطوطاتی ورثے کا بڑا حصہ سامراجی دور میں مغربی مجموعوں میں منتقل ہو چکا تھا؛ اس کے باوجود انھوں نے استاد منی ایچر ساز بشیر احمد سے روایتی فن سیکھا۔ 2 1 انھوں نے 1991 میں بی ایف اے کیا اور کالج کے منی ایچر شعبے میں پڑھانے والی پہلی خاتون بنیں۔ 1 ان کا تھیسس کام «دی اسکرول» (1989ء–1990ء) — چائے سے رنگے وصلی کاغذ پر پانچ فٹ لمبی واٹر کلر و گواش مصوری، جس میں ان کی بھوت نما، بے چہرہ صورت اپنے خاندانی گھر کے کمروں میں گھومتی ہے — ان کی شہرت کا آغاز اور نو-منی ایچر کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ 2 1

    امریکہ کی طرف منتقلی

    1993 میں وہ رہوڈ آئی لینڈ اسکول آف ڈیزائن کے ایم ایف اے پروگرام کے لیے امریکہ گئیں اور 1995 میں مصوری و پرنٹ سازی میں ڈگری لی، اور ایک ایسی فن دنیا میں — جو بریطانیکا کے بقول کثیر الثقافتی کو بیک وقت پرکشش بھی بناتی اور خارج بھی کرتی تھی — مہاجر اور مسلم خاتون ہونے کے چیلنجوں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے اپنی بصری زبان کو پروان چڑھایا۔ 2 1 اس کے بعد ہیوسٹن کے گلاسل اسکول آف آرٹ میں دو سالہ فیلوشپ ملی، اور 1997 میں وہ نیویارک آ گئیں جہاں انھیں وٹنی بینالے میں نمائش کی دعوت ملی تھی۔ 2

    علامات، حجاب اور اینیمیشن

    ان کی ابتدائی مصوریاں مغل (اسلامی) اور راجپوت (ہندو) صورتوں کو یکجا کرتی ہیں، جن میں گوپی — کرشن کی گوالن عقیدت مندیں — شامل ہیں، جو منی ایچر کے اندر ایسی صورتوں کی تلاش کے لیے استعمال ہوئیں جو متعدد معانی پیدا کر سکیں۔ 1 حجاب ان کے کام میں مذہب اور نسوانیت دونوں کی علامت کے طور پر بار بار آتا ہے؛ ایک پرفارمنس میں انھوں نے کئی ہفتے ایک نفیس لیس کا حجاب پہنا اور ساتھیوں کے ردِّعمل کو دستاویز کیا، اور اس میں مکمل تحفظ و اختیار کا احساس پایا۔ 1 2001 سے وہ ڈیجیٹل اینیمیشن کی طرف بڑھیں — ان کے بقول ڈرائنگ ان کے عمل کا بنیادی عنصر ہے — جیسے «اسپن» (2003)، جس میں گوپیوں کا ہجوم سترھویں صدی کے مغل دربار میں داخل ہو جاتا ہے۔ 1

    مجسمہ اور «وٹنس»

    2017 میں نیویارک سٹی کی میئرل ایڈوائزری کمیشن برائے شہری فن و یادگاروں کی رکنیت نے انھیں مجسمہ سازی اور عوامی یادگاروں کی متنازع تاریخوں کی طرف کھینچا۔ 2 ان کا منصوبہ «ہواء... سانس، ہوا، زندگی» (2023) — میڈیسن اسکوائر پارک اور قریبی عدالت کی عمارت کے لیے — مجسموں «ناؤ» اور «وٹنس» اور ایک ویڈیو اینیمیشن پر مشتمل ہے؛ دونوں صورتوں کے چہرے ان سے ملتے ہیں اور بال سینگوں جیسی گندھی ہوئی لٹوں میں ہیں۔ 2 جب «وٹنس» 2024 میں یونیورسٹی آف ہیوسٹن میں نصب ہوئی تو اسقاط مخالف مسیحی گروہ ٹیکساس رائٹ ٹو لائف نے اس پر احتجاج کر کے اسے «شیطانی» کہا، اور چند ماہ بعد ایک تخریب کار نے اس کا سر کاٹ دیا؛ سکندر نے اسے مرمت نہ کرنے کا انتخاب کیا اور لکھا کہ یہ کام اب «ہمارے ملک کی دراڑوں کی گواہ» ہے۔ 2 1

    اعزازات

    انھیں 2006 میں میک آرتھر فیلوشپ، 2012 میں امریکی محکمۂ خارجہ کا میڈل آف آرٹ اور 2015 میں ایشیا سوسائٹی کا عصری فن میں نمایاں خدمات کا ایوارڈ ملا۔ 2 ان کے کیریئر کے پہلے پندرہ برسوں کی ماضی بین نمائش «غیر معمولی حقائق» 2021 میں نیویارک کی مورگن لائبریری و میوزیم میں کھلی اور رہوڈ آئی لینڈ و میوزیم آف فائن آرٹس ہیوسٹن تک گئی۔ 2

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترامیم مؤرخہ ہونی چاہئیں اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    لاهور

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· عبد الرحمٰن چغتائی· عبد السلام· ابو الاعلیٰ مودودی· اعصام الحق قریشی· الطاف حسین حالی· امین احسن اصلاحی

    ماخذ

    1. Shahzia Sikander — English Wikipedia
    2. Shahzia Sikander — Encyclopaedia Britannica
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “شہزیہ سکندر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shahzia-sikander/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مسجد بادشاهي

    A mosque in Lahore, dated to 1671 CE.