صبغت اللہ مجددی

صبغت الله مجددي

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

كابل

افغان سیاست دان اور مجاہد رہنما، کابل کے مجددی علمی خاندان سے۔ جامعہ ازہر میں شریعت کی تعلیم پائی اور جامعہ کابل میں تدریس کی، 1979ء میں افغان نیشنل لبریشن فرنٹ قائم کیا اور کمیونسٹ حکومت کے خلاف جہاد کی پہلی آواز اٹھائی، پھر نجیب اللہ حکومت کے خاتمے کے بعد اپریل تا جون 1992ء افغانستان کے عبوری صدر رہے۔ 2003ء کے لویا جرگے کی صدارت کی اور بعد میں ایوانِ بالا کے سربراہ رہے، اور 2019ء میں کابل میں انتقال کر گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · معزز علمیے چغ · مفتي عبد الرزاق · ایکا تجپتا ودجاجا · علی حسن موینی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات2019

    خلاصہ

    صبغت اللہ مجددی (وفات 11 فروری 2019ء) افغان سیاست دان اور مجاہد رہنما تھے، کابل کے مجددی علمی خاندان سے۔ جامعہ ازہر میں شریعت کی تعلیم پائی، 1979ء میں افغان نیشنل لبریشن فرنٹ قائم کیا اور کمیونسٹ حکومت کے خلاف ملک گیر جہاد کی پہلی آواز اٹھائی۔ محمد نجیب اللہ حکومت کے خاتمے کے بعد اپریل تا جون 1992ء افغانستان کے عبوری صدر رہے، بعد میں 2003ء کے لویا جرگے اور ایوانِ بالا کی صدارت کی۔ ان کی تاریخِ پیدائش متنازع ہے: ویکی ڈیٹا 21 اپریل 1925ء دیتا ہے، انگریزی مضمون 27 ستمبر 1926ء۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ کابل میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان، مجددی، کابل کے پشتون علمائے دین کا معروف خاندان ہے جو اپنا نسب سولہویں صدی کے عالم اور نقشبندی صوفی احمد سرہندی تک پہنچاتا ہے۔ انھوں نے قاہرہ کی جامعہ ازہر میں شریعت و فقہ کی تعلیم پائی، 1952ء میں افغانستان واپس آئے اور اسکولوں اور جامعہ کابل میں تدریس کی، جہاں وہ افغانستان کی سیاسی آزادی کے حامی کے طور پر معروف ہوئے۔ 1959ء میں سوویت رہنما نکیتا خروشچیف کے خلاف سازش کے الزام میں بغیر مقدمے 1964ء تک قید رہے؛ رہائی کے بعد جلاوطنی پر مجبور ہوئے جو ڈنمارک و پاکستان سمیت کئی ملکوں میں گزری۔ 1

    مزاحمت

    1978ء کے ثور انقلاب کے بعد کمیونسٹ خلق حکومت نے مجددی کے بھائی اور کئی رشتہ داروں کو قتل کر دیا۔ پشاور میں جلاوطنی کے دوران انھوں نے جبہِ نجاتِ ملی (افغان نیشنل لبریشن فرنٹ) قائم کی، اور 13 مارچ 1979ء کو جمہوریہ افغانستان کے خلاف ملک گیر جہاد کی دعوت دینے والے پہلے شخص بنے۔ ان کی ملیشیا خاص طور پر صوبہ کنڑ میں نمایاں تھی۔ ان کی سوچ ایک اسلامی جمہوریہ تھی، ممکنہ طور پر بحال شدہ بادشاہت کے ساتھ؛ وہ اسلامی بنیاد پرستی کے مخالف اور مغرب کے بارے میں خوش گمان تھے، اور 1988ء میں پشاور میں قائم افغان عبوری حکومت کے سربراہ منتخب ہوئے۔ 1

    عبوری صدارت، 1992ء

    اپریل 1992ء میں وہ سوویت بعد کی حکومت بنانے کے لیے قائم اسلامی جہاد کونسل کے صدر منتخب ہوئے۔ 28 اپریل 1992ء کو ایک بڑے مجمعے کے درمیان کابل میں داخل ہوئے، نئی اسلامی جمہوریہ کی صدارت سنبھالی اور نجیب اللہ کے سوا تمام افغانوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا۔ انھیں کابل لانے والا آریانا طیارہ لینڈنگ کے وقت راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ سے ٹکرایا، مگر کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ ان کی صدارت تقریباً دو سے تین ماہ رہی؛ جون 1992ء میں انھوں نے اقتدار برہان الدین ربانی کی نئی قیادت کونسل کے حوالے کر دیا۔ 1

    بعد کی زندگی اور وفات

    2001ء میں طالبان کے خاتمے کے بعد وہ پاکستان سے واپس آئے اور 2003ء کے لویا جرگے کی صدارت کی جس نے افغانستان کا نیا آئین منظور کیا۔ 2005ء میں مشرانو جرگے (ایوانِ بالا) کے سربراہ بنے اور 2011ء میں دوبارہ رکن مقرر ہوئے؛ افغان ہائی پیس کونسل میں بھی خدمات انجام دیں۔ 12 مارچ 2006ء کو کابل میں دو خودکش بمباروں نے ان کی گاڑی پر حملہ کیا، چار راہگیر جاں بحق ہوئے اور وہ معمولی زخمی ہوئے۔ اگست 2015ء میں انھوں نے ایک نیا اتحاد، کونسل آف جہاد اینڈ نیشنل پولیٹیکل پارٹیز، قائم کیا۔ فروری 2016ء میں ان کی وفات کی خبر غلط نکلی؛ وہ 11 فروری 2019ء کو کابل میں 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ 1

    مذہبی ریکارڈ

    مجددی کا خاندان نقشبندی صوفی علمائے دین کا تھا اور وہ اپنے خاندان کی موروثی دینی قیادت میں کھڑے تھے — لیکن نسب، خاندان اور موروثی سربراہی ذاتی شہادت نہیں۔ ایک حوالہ شدہ تعزیتی سرخی انھیں «صوفی شیخ» کہتی ہے، جو ایک متن ہے؛ مضامین کے زمرے انھیں «افغان صوفی» اور «افغان سنی مسلمان» میں درج کرتے ہیں، جو درجہ بندیاں ہیں؛ انگریزی مضمون کی «سنی اسلام» سطر ان کی جماعت کے معلوماتی خانے کی ہے، ان کے اپنے خانے کی نہیں؛ اور ویکی ڈیٹا عمومی «اسلام» دیتا ہے۔ کوئی دو آزاد ذرائع کسی مکتب یا سلسلے کو موروثی منصب سے ہٹ کر ان کے ذاتی عزم کے طور پر ثابت نہیں کرتے، اس لیے ان کا ایمان «نامعلوم» درج ہے اور بانی کے لیے نشان زد ہے، اور دونوں قراءتیں ڈیٹا فائل میں محفوظ ہیں۔ 1 3 4 2

    ماخذ

    • اوپر جن متعین ماخذوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہوگی اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے گی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    كابل
    Died in
    كابل

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    باغِ وفا ⁦(کابل)⁩· فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون· نكث أهل كابل ومقتل يزيد بن زياد· إذعان كابل شاه للمأمون· سيرة ابن سمرة إلى كابل· حرب رتبيل والربيع بن زياد· عبد اللہ عبد اللہ· احمد شاہ مسعود

    ماخذ

    1. Sibghatullah Mojaddedi — English Wikipedia
    2. Sibghatullah Mojaddedi — Wikidata Q380474
    3. Sibghatullah Mojaddedi — Arabic Wikipedia
    4. Sibghatullah Mojaddedi — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “صبغت اللہ مجددی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sibghatullah-mojaddedi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-07.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    باغِ وفا ⁦(کابل)⁩

    A four-part garden laid out by Babur at Kabul in 1504 and described in his memoirs, on rising ground facing south, with oranges, citrons, pomegranates and a ten-by-ten tank.