نواب سکندر بیگم

سكندر بيگم

–

وسط ہندوستان کی ریاست بھوپال کی بیگم: 1844 سے اپنی بیٹی شاہ جہاں بیگم کی نائب السلطنت رہیں اور 1860 میں باقاعدہ نواب تسلیم کی گئیں، 1868 میں وفات تک حکمران رہیں۔ انہوں نے 1857 میں بھوپال کو برطانوی صف میں رکھا، 1863 میں حج کیا — انگریزی مقالے کے مطابق یہ فریضہ ادا کرنے والی وہ پہلی ہندوستانی حکمران تھیں — اور اس کی یادداشتیں لکھیں، ریاست کا قرض ادا کیا، اور ٹکسال، سیکرٹریٹ، مجلس اور جدید عدلیہ قائم کیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1780عیسوی1790عیسوی1800عیسوی1810عیسوی1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: عبد الغفار الأخرس · عبد الغني الميداني · عبد القادر الجزائري · أحمد الأكنصوسي · أحمد علي السهارنفوري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    نواب سکندر بیگم (10 ستمبر 1817ء – 30 اکتوبر 1868ء) وسط ہندوستان کی ریاست بھوپال کی بیگم تھیں: 1844 سے اپنی کم عمر بیٹی شاہ جہاں بیگم کی نائب السلطنت رہیں، 1860 میں باقاعدہ نواب تسلیم کی گئیں اور وفات تک حکمران رہیں۔ انہوں نے 1857 کی بغاوت میں بھوپال کو برطانوی صف میں رکھا، 1863 میں حج کیا اور اس کی یادداشتیں لکھیں، اور ریاست کے مالیات، انتظام اور عدلیہ کی اصلاح کی۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور نیابت

    وہ بھوپال کے گوہر محل میں پیدا ہوئیں؛ والد ناصر محمد خان اور والدہ نواب قدسیہ بیگم تھیں، جو خود بھوپال کی حکمران رہ چکی تھیں۔ 18 اپریل 1835 کو ان کی شادی نواب جہانگیر محمد خان سے ہوئی، جن سے ان کی واحد اولاد شاہ جہاں بیگم پیدا ہوئیں۔ دسمبر 1844 میں شوہر کے انتقال پر تخت باقاعدہ نو سالہ بیٹی کو منتقل ہوا اور سکندر بیگم نے نائب السلطنت کی حیثیت سے حکومت سنبھالی۔ 1 3

    حکومت

    1857 کی بغاوت میں انہوں نے برطانوی موقف اپنایا: برطانوی مخالف اشتہارات پر پابندی لگائی، جاسوسی کا نظام مضبوط کیا اور ناراض سپاہیوں کو تنخواہوں کے وعدے پر پراکندہ کیا، اگرچہ ان کے اس طرز عمل سے ریاست میں ناراضی پھیلی اور دسمبر میں سپاہیوں نے ان کے محل کا محاصرہ بھی کیا۔ یکم نومبر 1861 کو انہیں انیس توپوں کی سلامی کا فرمان ملا اور 30 اپریل 1860 کو وہ باقاعدہ تخت نشیں ہو چکی تھیں۔ انہوں نے ریاست کا تیس لاکھ روپے کا قرض ادا کیا، ٹکسال، سیکرٹریٹ، محصول اور ڈاک کا نظام، اپیل کی عدالت سمیت جدید عدلیہ اور مجلس شورا (1847) قائم کیں؛ 1862 میں فارسی کی جگہ اردو کو درباری زبان بنایا، لڑکیوں کے لیے وکٹوریہ اسکول کھولا، اور موتی مسجد، موتی محل اور شوکت محل تعمیر کرائے۔ 1 3

    حج اور وفات

    1863 میں انہوں نے تقریباً ایک ہزار ساتھیوں، بیشتر خواتین، کے ہمراہ حج کیا — انگریزی مقالے کے مطابق وہ یہ فریضہ ادا کرنے والی پہلی ہندوستانی حکمران تھیں — اور اردو میں اس سفر کی یادداشتیں لکھیں جو 1870 میں انگریزی ترجمے میں شائع ہوئیں، اور جن میں انہوں نے مکہ اور جدہ کے حالات پر سخت تنقید کی۔ انگریزی مقالہ انہیں ایک دیندار مسلمان خاتون بتاتا ہے جو پردہ نہیں کرتی تھیں، شیر کا شکار کرتیں، پولو کھیلتیں اور خود عدالتوں، دفاتر، ٹکسال اور خزانے کا معائنہ کرتی تھیں۔ ان کا انتقال عارضۂ گردہ سے 30 اکتوبر 1868 کو بھوپال میں ہوا اور ان کی جگہ ان کی بیٹی حکمران بنیں۔ 3 1

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Parent of
    سلطان شاہ جہاں بیگم
    Predecessor of
    سلطان شاہ جہاں بیگم

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    محمد صديق حسن خان القنوجي· سلطان شاہ جہاں بیگم

    ماخذ

    1. Sikandar Begum — Urdu Wikipedia
    2. Sikandar Begum — Wikidata Q2285532
    3. Sikandar Begum — English Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “نواب سکندر بیگم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sikandar-begum/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    محمد صديق حسن خان القنوجي

    Muhammad Siddiq Khan ibn Hasan ibn Ali, Abu al-Tayyib, of the Husayni family, al-Bukhari, al-Qannawji, a scholar and prince who worked in many fields and wrote some sixty works in Arabic, Persian and Hindi. He studied at Delhi, moved to Bhopal to earn a living, grew wealthy, married the ruler of Bhopal and held the title of Nawwab. His works include Husn al-Uswa, Fath al-Bayan fi maqasid al-Qur'an, Nayl al-Maram fi tafsir ayat al-ahkam, al-Rawda al-nadiyya, and 'Awn al-Bari.