ایک نظر میں
- کردار
- حکمران · writer
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
نواب سکندر بیگم (10 ستمبر 1817ء – 30 اکتوبر 1868ء) وسط ہندوستان کی ریاست بھوپال کی بیگم تھیں: 1844 سے اپنی کم عمر بیٹی شاہ جہاں بیگم کی نائب السلطنت رہیں، 1860 میں باقاعدہ نواب تسلیم کی گئیں اور وفات تک حکمران رہیں۔ انہوں نے 1857 کی بغاوت میں بھوپال کو برطانوی صف میں رکھا، 1863 میں حج کیا اور اس کی یادداشتیں لکھیں، اور ریاست کے مالیات، انتظام اور عدلیہ کی اصلاح کی۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور نیابت
وہ بھوپال کے گوہر محل میں پیدا ہوئیں؛ والد ناصر محمد خان اور والدہ نواب قدسیہ بیگم تھیں، جو خود بھوپال کی حکمران رہ چکی تھیں۔ 18 اپریل 1835 کو ان کی شادی نواب جہانگیر محمد خان سے ہوئی، جن سے ان کی واحد اولاد شاہ جہاں بیگم پیدا ہوئیں۔ دسمبر 1844 میں شوہر کے انتقال پر تخت باقاعدہ نو سالہ بیٹی کو منتقل ہوا اور سکندر بیگم نے نائب السلطنت کی حیثیت سے حکومت سنبھالی۔ 1 3
حکومت
1857 کی بغاوت میں انہوں نے برطانوی موقف اپنایا: برطانوی مخالف اشتہارات پر پابندی لگائی، جاسوسی کا نظام مضبوط کیا اور ناراض سپاہیوں کو تنخواہوں کے وعدے پر پراکندہ کیا، اگرچہ ان کے اس طرز عمل سے ریاست میں ناراضی پھیلی اور دسمبر میں سپاہیوں نے ان کے محل کا محاصرہ بھی کیا۔ یکم نومبر 1861 کو انہیں انیس توپوں کی سلامی کا فرمان ملا اور 30 اپریل 1860 کو وہ باقاعدہ تخت نشیں ہو چکی تھیں۔ انہوں نے ریاست کا تیس لاکھ روپے کا قرض ادا کیا، ٹکسال، سیکرٹریٹ، محصول اور ڈاک کا نظام، اپیل کی عدالت سمیت جدید عدلیہ اور مجلس شورا (1847) قائم کیں؛ 1862 میں فارسی کی جگہ اردو کو درباری زبان بنایا، لڑکیوں کے لیے وکٹوریہ اسکول کھولا، اور موتی مسجد، موتی محل اور شوکت محل تعمیر کرائے۔ 1 3
حج اور وفات
1863 میں انہوں نے تقریباً ایک ہزار ساتھیوں، بیشتر خواتین، کے ہمراہ حج کیا — انگریزی مقالے کے مطابق وہ یہ فریضہ ادا کرنے والی پہلی ہندوستانی حکمران تھیں — اور اردو میں اس سفر کی یادداشتیں لکھیں جو 1870 میں انگریزی ترجمے میں شائع ہوئیں، اور جن میں انہوں نے مکہ اور جدہ کے حالات پر سخت تنقید کی۔ انگریزی مقالہ انہیں ایک دیندار مسلمان خاتون بتاتا ہے جو پردہ نہیں کرتی تھیں، شیر کا شکار کرتیں، پولو کھیلتیں اور خود عدالتوں، دفاتر، ٹکسال اور خزانے کا معائنہ کرتی تھیں۔ ان کا انتقال عارضۂ گردہ سے 30 اکتوبر 1868 کو بھوپال میں ہوا اور ان کی جگہ ان کی بیٹی حکمران بنیں۔ 3 1
تعلقات
- Parent of
- سلطان شاہ جہاں بیگم
- Predecessor of
- سلطان شاہ جہاں بیگم
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Sikandar Begum — Urdu Wikipedia
- Sikandar Begum — Wikidata Q2285532
- Sikandar Begum — English Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “نواب سکندر بیگم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sikandar-begum/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.