ایک نظر میں
- کردار
- حکمران · writer
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سلطان شاہ جہاں بیگم (1838ء – 16 جون 1901ء) وسط ہندوستان کی ریاست بھوپال کی بیگم تھیں: 1844 میں کم عمری میں والد کی جانشین قرار پائیں اور والدہ سکندر بیگم نائب السلطنت اور پھر باقاعدہ حکمران رہیں، اور 1868 سے وفات تک خود حکمران رہیں۔ اردو مقالہ ان کی تاریخ پیدائش 30 جولائی 1838 (6 جمادی الاول 1254ھ) دیتا ہے، جبکہ انگریزی اور عربی مقالے اور ویکیداتا 29 جولائی دیتے ہیں؛ وفات پر تمام ماخذ 16 جون 1901 پر متفق ہیں، صرف انگریزی مقالے کا آخری پیرا اسے 6 جون لکھتا ہے۔ 1 2 3
دو ادوار حکومت
وہ اسلام نگر، بھوپال میں پیدا ہوئیں؛ والد نواب جہانگیر محمد خان اور والدہ سکندر بیگم تھیں۔ دسمبر 1844 میں والد کے انتقال پر چھ سال کی عمر میں بیگم قرار پائیں اور حکومت والدہ کے سپرد ہوئی۔ 1855 میں بخشی باقی محمد خان سے شادی ہوئی؛ اس موقع پر وہ خود اقتدار سنبھال سکتی تھیں مگر انہوں نے فراخدلی سے یہ حق والدہ کے پاس رہنے دیا، جنہیں 1860 میں باقاعدہ نواب تسلیم کر لیا گیا۔ باقی محمد خان 1867 میں فوت ہوئے، اور والدہ کے انتقال کے بعد 16 نومبر 1868 کو وہ باقاعدہ تخت نشیں ہوئیں۔ 1871 میں انہوں نے مولوی صدیق حسن خان سے نکاح کیا، جو ان کے مشیر رہے اور 1890 میں وفات تک اعلیٰ عہدوں پر رہے۔ 1
حکومت، تعمیرات اور کتب
انہوں نے «تنظیمات شاہجہانی» کے نام سے مستقل محکمہ قائم کر کے قوانین کو جدید طرز پر منضبط کیا، عدالتی اختیارات تقسیم کیے، ہر تحصیل میں سرکاری طبیب مقرر کیا، خواتین کے لیے مخصوص شفاخانوں سمیت اسپتال بنائے اور چیچک کے ٹیکے کا باقاعدہ انتظام کرایا۔ دینی امور کا جدید محکمہ قائم کیا، ریاست کی مساجد میں امام و مؤذن مقرر کرائے، حرمین کے غرباء کے وظائف میں وسعت کی، اور اپنے مطبع شاہجہانی سے قرآن مجید اور «فتح الباری» جیسی نادر کتب طبع کروا کر تقسیم کیں۔ انہوں نے بھوپال میں تاج المساجد کی بنیاد رکھوائی — ایشیا کی بڑی مساجد میں سے ایک، جو بیسویں صدی میں مکمل ہوا — ووکنگ، انگلستان کی شاہ جہاں مسجد (1889) کی جزوی مالی مدد کی، بھوپال کا تاج محل تعمیر کرایا اور علی گڑھ کی محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی سرپرستی کی۔ ان کی تصانیف میں «تہذیب النسواں» اور «خزینۃ اللغات» شامل ہیں اور وہ شیریں و تاجور تخلص سے فارسی شعر کہتی تھیں۔ 1900 میں سرطان لاحق ہوا اور 16 جون 1901 کو بھوپال میں انتقال ہوا؛ ان کی جانشین ان کی بیٹی سلطان جہاں ہوئیں۔ 1 2 4
تعلقات
- Child of
- نواب سکندر بیگم
- Successor of
- نواب سکندر بیگم
- Spouse of
- محمد صديق حسن خان القنوجي
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Shah Jahan Begum of Bhopal — Urdu Wikipedia
- Shah Jahan Begum of Bhopal — English Wikipedia
- Shah Jahan Begum of Bhopal — Wikidata Q2364796
- Shah Jahan Begum of Bhopal — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “سلطان شاہ جہاں بیگم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shah-jahan-begum/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.