سلیمان البستانی

سليمان البستاني

–

القاهرة

لبنانی ادیب، شاعر اور سیاست دان (1856–1925)، بطرس البستانی کے بھتیجے؛ انہوں نے تدریس کی، «الجنان» اور «دائرة المعارف» میں لکھا، دس سے زائد زبانیں سیکھیں، اور ہومر کی «ایلیاڈ» کے عربی منظوم ترجمے (قاہرہ، 1904) سے شہرت پائی؛ وہ آخری عثمانی حکومت میں وزیرِ خزانہ رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · شاعر · سیاست دان · teacher
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: أحمد الحملاوي · علی حاجی اکوشا · اللہ دیا خان · احمد بمبا · بدرالدین الحسنی

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سلیمان خطار البستانی (22 مئی 1856 – 1 جون 1925) لبنانی ادیب، شاعر اور سیاست دان تھے، اور معلم بطرس البستانی کے بھتیجے۔ انہوں نے تدریس کی، «الجنان» اور «دائرة المعارف» میں لکھا، دس سے زائد زندہ زبانیں سیکھیں، اور ہومر کی «ایلیاڈ» کے عربی منظوم ترجمے سے، جو 1904 میں قاہرہ سے شائع ہوا، پورے عرب دنیا میں شہرت پائی؛ اپنی سیاسی زندگی کے آخر میں وہ آخری عثمانی حکومت کے وزیرِ خزانہ رہے۔ 1 2

    پرورش اور کام

    وہ لبنان کے قضاء الشوف کے علاقے إقليم الخروب کے گاؤں بکشتین میں پیدا ہوئے، اور عربی و سریانی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد کے چچا مطران عبد اللہ سے حاصل کی۔ سات برس کی عمر میں وہ بیروت کے نیشنل اسکول میں داخل ہوئے — جو ان کے چچا بطرس کا قائم کردہ تھا — اور آٹھ سال وہاں گزار کر 1871 میں سند مکمل کی۔ انہوں نے تدریس کی اور ساتھ ہی «الجنان»، «الجنة» اور «الجنينة» میں مضامین لکھے اور بطرس البستانی کی شروع کردہ «دائرة المعارف» کی تالیف میں حصہ لیا۔ پھر وہ بیروت میں امریکی قونصل خانے کے ترجمان مقرر ہوئے، لیکن انہوں نے مطالعے کو ترجیح دی اور دس سے زائد زندہ زبانوں پر عبور حاصل کیا، نیز ریاضی، کیمیا، قانون، زراعت، تجارت، معدنات، عمرانیات اور تاریخ میں بھی مہارت پائی؛ روایت ہے کہ 1908 میں استنبول کے دورے پر انہوں نے عربی، ترکی، انگریزی اور فرانسیسی میں روانی سے خطاب کیا۔ 1

    ایلیاڈ کا ترجمہ

    «ایلیاڈ» کے ترجمے کی ترغیب انہیں ڈاکٹر یعقوب صروف نے دی، 1887 میں قاہرہ میں «المقتطف» کے دفتر کے دورے کے موقع پر؛ انہوں نے پہلے انگریزی، فرانسیسی اور اطالوی ترجمے پڑھے، پھر اس مہاکاوی کو عربی شعر میں منتقل کیا۔ دار الہلال نے اسے 1904 میں قاہرہ سے ایک ہزار سے زائد صفحات میں شائع کیا، لغت، ملحقات اور ایک طویل مقدمے کے ساتھ جو بذاتِ خود ایک کتاب ہے، اور مصر کے اہلِ ادب نے 14 جون 1904 کو شیفرڈ ہوٹل میں ان کے اعزاز میں تقریب منعقد کی۔ وہ 1908 تک مصر میں رہے، حصص و اراضی کے کاروبار کے ساتھ علم و ادب سے وابستہ رہے؛ وہیں انہوں نے عثمانی آئینی انقلاب پر اپنی کتاب «عبرة وذكرى» لکھی، جمعیت الکتاب کی صدارت کی اور مصری یونیورسٹی کی مجلس کے رکن منتخب ہوئے۔ 1 2

    آخری ایام

    آخری برسوں میں ان کی صحت خراب ہوئی اور وہ علاج کے لیے امریکہ گئے، جہاں 1 جون 1925 کو نیویارک میں انتقال ہوا؛ ان کی میت ان کے آبائی گاؤں بکشتین لے جا کر دفن کی گئی۔ میوزیم یہاں ایک تصحیح درج کرتا ہے: جس فہرست سے یہ ریکارڈ بنوایا گیا تھا اس میں ان کی وفات کا سال 1913 درج تھا، لیکن انگریزی مضمون، عربی مضمون اور وکی ڈیٹا تینوں 1925 پر متفق ہیں، اور یہی یہاں درج ہے۔ 1 2 3

    ان کے مذہب پر نوٹ

    انگریزی مضمون ان کے بارے میں ذاتی طور پر کہتا ہے: «وہ مارونی کیتھولک تھے۔» عربی مضمون کا متن ان کے لیے کوئی مذہب نام نہیں لیتا: اس میں صرف یہ درج ہے کہ انہوں نے عربی و سریانی اپنے والد کے چچا، ایک مطران، سے سیکھی — جو خاندانی پس منظر اور تعلیم ہے — اور اس کے زمرے انہیں «لبنانی مارونی» میں رکھتے ہیں، جو ایک انتظامی درجہ بندی ہے، گواہی نہیں؛ وکی ڈیٹا میں ایک ہی ساختی قدر «مسیحیت» ہے۔ یوں نتیجہ ایک ذاتی نصّی گواہی ہے جس کی پشت پر صرف درجہ بندیاں ہیں — یہی صورت می زیادۃ کی تھی — اور میوزیم کے اصول کے مطابق، کہ مذہب اسی وقت درج ہوتا ہے جب دو آزاد ماخذ اسے شخص کے لیے نام لیں، یہ «نامعلوم» ہی رہتا ہے۔ اسی لیے ان کا مذہب ان کے ریکارڈ میں «نامعلوم» درج ہے، دونوں قراءتیں محفوظ ہیں اور مسئلہ بانی کے فیصلے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ 2 1 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Suleyman al-Boustani — Arabic Wikipedia
    2. Suleyman al-Boustani — English Wikipedia
    3. Suleyman al-Boustani — Wikidata Q4119737
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سلیمان البستانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sulaiman-al-boustani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.