ایک نظر میں
- کردار
- حکمران · writer · مصلح
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
موجز
سلطان جہاں (9 جولائی 1858 – 12 مئی 1930) وسط ہندوستان کی مسلم ریاست بھوپال کی حکمران تھیں (1901–1926)؛ ان کا پورا نام سلطان کائی خسرو جہاں بیگم تھا۔ 1 2
وہ اپنی والدہ سلطان شاہ جہاں بیگم کی جانشین بنیں اور بھوپال کی حکمران بیگمات کی روایت آگے بڑھائی؛ تعلیم، صحت اور انتظام میں ان کی اصلاحات نے انہیں اپنے عہد میں اصلاح پسند مسلم حکمران کی مثال بنا دیا۔ 1
زندگی اور حکومت
وہ بھوپال میں پیدا ہوئیں، سلطان شاہ جہاں بیگم اور باقی محمد خان بہادر کی اکلوتی زندہ اولاد تھیں، اور 1868 میں بھوپال کی ولی عہد قرار پائیں۔ 1
1901 میں تخت نشین ہو کر انہوں نے تعلیمِ نسواں پر خاص توجہ دی، کئی تعلیمی ادارے قائم کیے، اور 1918 میں ابتدائی تعلیم مفت اور لازمی قرار دی۔ 1
1920 سے وفات تک وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بانی چانسلر رہیں — اس منصب پر فائز ہونے والی واحد خاتون — اور 1922 میں ریاست کی انتظامی و قانون ساز کونسل قائم کی اور بلدیاتی انتخابات شروع کرائے۔ 1
ان کا سب سے بڑا کارنامہ صحتِ عامہ تھا: وسیع پیمانے پر ٹیکہ کاری کی مہمات، پانی کی فراہمی اور صفائی کے معیار میں بہتری۔ 1
1926 میں وہ اپنے سب سے چھوٹے بیٹے حمید اللہ خان کے حق میں دستبردار ہو گئیں اور چار برس بعد وفات پائیں۔ 1
تصانیف
انہوں نے تعلیم و صحت پر کئی کتابیں لکھیں، جن میں «گوہرِ اقبال» (1912، اپنے دورِ حکومت کے پہلے سات برس کی داستان)، «اخترِ اقبال» اور «عفة المسلمات» (1918) شامل ہیں۔ 1
المراجع
- انگریزی ویکیپیڈیا کی سلطان جہاں پر مقالہ (نظرثانی 1373471307) اور ویکی ڈیٹا مد Q2364774۔ عربی ویکیپیڈیا میں ان پر کوئی مقالہ نہیں؛ کوئی ماخذ ان کا مسلک بیان نہیں کرتا، ویکی ڈیٹا صرف اسلام درج کرتا ہے۔
ماخذ
- Sultan Jahan, Begum of Bhopal — English Wikipedia
- Sultan Jahan — Wikidata Q2364774
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “سلطان جہاں، بیگم بھوپال”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sultan-jahan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.