سلطان مجید افندیف

سلطان مجيد أفندييف

–

آذربائیجانی طبیب، انقلابی اور سیاست دان (1887–1938)، آذربائیجان کے اولین مارکسیوں اور آذربائیجان کی کمیونسٹ پارٹی کے بانیوں میں سے ایک، اور مسلم سوشل ڈیموکریٹک جماعت «ہمّت» کے منتظمین میں شامل۔ وہ آذربائیجان سوویت جمہوریہ کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے صدر رہے (1931–1937)، عظیم دہشت گردی میں مارے گئے اور بعد از مرگ بحالِ عزت ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
طبیب · سیاست دان
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد القادر المغربي · عبد الرحمٰن الشہبندر · محمد بن عبد الکریم ختابی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سلطان مجید افندیف (26 مئی 1887 – 21 اپریل 1938) آذربائیجانی طبیب، انقلابی اور سیاست دان تھے، آذربائیجان کے اولین مارکسیوں اور آذربائیجان کی کمیونسٹ پارٹی کے بانیوں میں سے ایک، اور «ہمّت» جماعت کے منتظمین میں شامل، جو مسلم مزدوروں کو سوشل ڈیموکریٹک تحریک میں لانے کے لیے بنائی گئی تھی۔ 1 2 وہ آذربائیجان سوویت جمہوریہ کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے صدر رہے (1931–1937)، عظیم دہشت گردی میں گرفتار اور باکو میں قتل کیے گئے، اور 1956 میں بعد از مرگ بحالِ عزت ہوئے۔ 1 3

    ابتدائی زندگی

    وہ شماخی میں پیدا ہوئے — آذربائیجانی اور روسی مضامین 14 [26] مئی 1887 دیتے ہیں، پرانے اور نئے تقویمی انداز میں، اور انگریزی و عربی 26 مئی — ایک تاجر کے بیٹے اور ماورائے قفقاز کے مفتی کے پوتے تھے۔ 1902 کے شماخی زلزلے کے بعد والد کی تجارت ڈوبنے پر خاندان باکو منتقل ہوا۔ 1 3 باکو کے اسکول میں انہیں مارکسیت سے واقفیت ہوئی اور 1904 میں وہ روسی سوشل ڈیموکریٹک لیبر پارٹی کے رکن بنے۔ بعد میں انہوں نے قازان یونیورسٹی میں طب پڑھا، طلبہ احتجاج میں شرکت پر قید ہوئے، 1915 میں طبیب کے اہل ہوئے اور طبی نگرانی کے مراکز میں کام کیا۔ 1

    انقلابی سرگرمی اور «ہمّت»

    1904 میں وہ «ہمّت» کے منتظمین میں شامل ہوئے، جو مسلم مزدوروں کو سوشل ڈیموکریٹک تحریک میں لانے کے لیے بنائی گئی تھی، اور اس میں مبلغ، منتظم اور خفیہ اخبارات کے چھاپنے والے کے فرائض انجام دیے۔ 1 باکو کے مزدوروں کی 1904 کی عام ہڑتال میں وہ تیل کے مالکان سے مذاکرات کے وفد میں شامل تھے، جو 30 دسمبر 1904 کو روسی مزدور تحریک کے پہلے اجتماعی معاہدے پر ختم ہوئی۔ 1906 میں انہوں نے زین العابدین تقییف کی فیکٹری کے نساجی مزدوروں کی ہڑتال میں تقریریں کیں، جو مزدوروں کے مطالبات کی منظوری پر ختم ہوئی۔ 1

    سوویت عہدے، گرفتاری اور بحالی

    فروری 1917 کے انقلاب کے بعد وہ باکو کونسل، «ہمّت» کمیٹی اور بالشویک کمیٹی کے رکن بنے اور خانہ جنگی میں آستراخان کے دفاع میں شریک ہوئے۔ 1 1918 سے 1931 تک وہ کئی عہدوں پر رہے: ماورائے قفقاز کے مسلم امور کے کمیسر، گنجہ صوبے کے خصوصی کمیسر، آذربائیجان سوویت جمہوریہ کے اراضی کے عوامی کمیسر (1921–1924) اور پھر مزدور و کسان بازرسی کے کمیسر (1924–1927)، اور 1931 سے مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے صدر۔ 1 3 4 مئی 1937 میں ان پر سوویت اقتدار کے دشمنوں کو پناہ دینے کا الزام لگا؛ انہوں نے الزامات رد کیے، لیکن 24 جون 1937 کو گرفتار ہوئے۔ مقدمے میں انہوں نے جرم سے انکار کیا اور اپنے بیانات کو جھوٹا کہہ کر واپس لیا، پھر بھی 21 اپریل 1938 کو فوجی عدالتی ہیئت نے سزائے موت سنائی اور اسی دن باکو میں فیصلہ نافذ ہوا۔ نومبر 1955 میں پراسیکیوٹر جنرل کی تجویز پر ان کی بحالی کا عمل شروع ہوا اور 1956 میں وہ رسمی طور پر بے گناہ قرار پائے۔ 1

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔

    ان کا مذہب۔ کوئی ماخذ سلطان مجید افندیف کے لیے کوئی مکتب بیان نہیں کرتا، اور کوئی ماخذ ان کے لیے ذاتی الحاد کی گواہی بھی نہیں دیتا۔ ماخذ عیناً یہ دیتے ہیں: انگریزی مضمون انہیں تاجر کا بیٹا اور ماورائے قفقاز کے مفتی کا پوتا کہتا ہے — خاندانی پس منظر، جس کی تصدیق ان کے حزبی مستعار نام «مفتی زادہ» سے بھی ہوتی ہے جو روسی مضمون درج کرتا ہے؛ مضامین ان کے عہدے درج کرتے ہیں، جن میں «ہمّت» کی تنظیم اور مسلم امور کی کمیساری بھی ہے، اور یہ عہدے ہیں، گواہیاں نہیں؛ اور آذربائیجانی و روسی مضامین انہیں آذربائیجان کے اولین مارکسیوں میں شمار کرتے ہیں، جو ایک سیاسی نظریہ ہے اور عجائب گھر کے اصول کے تحت بذاتِ خود ذاتی بے دینی کی گواہی نہیں بنتا۔ ویکی ڈیٹا میں ان کے دین کی کوئی قیمت درج نہیں۔ 1 3 5 اس لیے ان کا مذہب «نامعلوم» درج کیا گیا ہے۔

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Sultan Majid Afandiyev — English Wikipedia
    2. Sultan Majid Afandiyev — Azerbaijani Wikipedia
    3. Sultan Majid Afandiyev — Russian Wikipedia
    4. Sultan Majid Afandiyev — Arabic Wikipedia
    5. Sultan Majid Afandiyev — Wikidata Q2030881
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سلطان مجید افندیف”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sultan-majid-afandiyev/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔