سید امیر الدین قدوائی

سيد أمير الدين كيدواي

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

لاهور

پاکستانی وکیل اور کارکن (تقریباً 1901ء–1973ء)، تحریکِ پاکستان کی شخصیت اور پاکستان کے قومی پرچم کے خالق۔ انھوں نے تحریکِ خلافت سے آغاز کیا، علی گڑھ کے ساتھیوں کے ساتھ «پاکستان اسکیم» کا مسودہ تیار کیا، 1947ء میں لاہور ہجرت کی، وکالت کی اور جامعہ پنجاب کے لا کالج میں تدریس کی، اور جمعیت علمائے پاکستان کے بانی ارکان میں سے تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
activist · سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحي عارفي · عبد الحمید خان بھاشانی · عبد الماجد دریابادی · شیخ عبد المجید سندھی · عبد الله الموسوي الشيرازي

مکان میں

لاهور

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سید امیر الدین قدوائی (تقریباً 1901ء – 21 اگست 1973ء) پاکستانی وکیل، سیاست دان اور تحریکِ پاکستان کے کارکن تھے، جو پاکستان کے قومی پرچم کے خالق کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے تحریکِ خلافت سے سیاسی زندگی شروع کی، علی گڑھ میں «پاکستان اسکیم» کا مسودہ تیار کرنے میں حصہ لیا، 1947ء میں لاہور ہجرت کی، وہاں وکالت اور جامعہ پنجاب کے لا کالج میں تدریس کی، اور جمعیت علمائے پاکستان کے بانی ارکان میں سے تھے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 1901ء میں برطانوی ہندوستان کے شمال مغربی صوبوں کے شہر بارہ بنکی میں پیدا ہوئے اور علی گڑھ یونیورسٹی سے ایل ایل بی مکمل کیا۔ 1 2

    سیاسی زندگی

    وہ خلافت کمیٹی کے رکن تھے اور بعد میں اس کے مرکزی رہنما بنائے گئے؛ مولانا شوکت علی انھیں «میرا لیفٹیننٹ» کہا کرتے تھے۔ 1922ء میں آل انڈیا مسلم یوتھ لیگ بنی جس کے وہ سیکرٹری جنرل تھے۔ 1936ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور 1938ء میں اس کی کونسل کے رکن بنے؛ علی گڑھ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر «پاکستان اسکیم» کا مسودہ تیار کیا جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے 1940ء میں قراردادِ لاہور پیش کی۔ 1 2

    پرچم اور پاکستان میں زندگی

    پاکستان کے قومی پرچم کا ڈیزائن انھی سے منسوب ہے۔ 1947ء میں وہ پاکستان ہجرت کر گئے اور لاہور میں سکونت اختیار کی؛ پنجاب یونیورسٹی لا کالج کے فیکلٹی ممبر رہے اور سینئر وکیل کے طور پر قانون کی پریکٹس کی۔ لاہور میں ایک میڈیکل کالج ان کے نام پر ہے جس کا نام «امیرالدین میڈیکل کالج» ہے۔ انگریزی مقالے کے مطابق لاہور میں حضرت داتا علی ہجویری سے ان کی روحانی وابستگی تھی اور اسی بنا پر وہ لاہور ہی میں قیام پذیر رہے؛ یہ ذاتی عقیدت کا بیان ہے، کسی مکتب سے انتماء کا اندراج نہیں۔ 1 2

    وفات اور اعزاز

    وہ 21 اگست 1973ء کو لاہور میں وفات پا گئے۔ تحریکِ پاکستان میں ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 1991ء میں انھیں بعد از مرگ «پاکستان موومنٹ گولڈ میڈل» سے نوازا۔ 1 3

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرفہ ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرنا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    لاهور
    Died in
    لاهور

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· عبد الرحمٰن چغتائی· عبد السلام· ابو الاعلیٰ مودودی· اعصام الحق قریشی· الطاف حسین حالی· امین احسن اصلاحی

    ماخذ

    1. Syed Amir-uddin Kedwaii — English Wikipedia
    2. Syed Amir-uddin Kedwaii — Urdu Wikipedia
    3. Syed Amir-uddin Kedwaii — Arabic Wikipedia
    • Syed Amir-uddin Kedwaii — Wikidata Q7660302
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سید امیر الدین قدوائی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/syed-amiruddin-kedwaii/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مسجد بادشاهي

    A mosque in Lahore, dated to 1671 CE.