سید امجد علی

سيد أمجد علي

–

لاهور

پاکستانی سرکاری ملازم و سیاست دان (1907ء–1997ء)، لاہور کے تاجر سید مراتب علی کے بڑے بیٹے، جو آزادی سے قبل پنجاب قانون ساز اسمبلی اور مجلس دستور ساز میں رہے، پھر امریکا میں پاکستان کے سفیر (1953ء–1955ء)، تیسرے وزیر خزانہ (1956ء–1958ء) اور اقوام متحدہ میں مستقل نمائندہ (1964ء–1967ء) رہے؛ ان کی کتابوں میں خود نوشت «جھلکیاں» (Glimpses) شامل ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: الأكوع محمد بن علي · امین احسن اصلاحی · حبیب بورقیبہ · لیوپولڈ سیدار سینگور · منظور نعمانی

مکان میں

لاهور

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سید امجد علی (5 جولائی 1907ء – 5 مارچ 1997ء) برطانوی راج کے دور کے پاکستانی سرکاری ملازم اور سیاست دان تھے۔ وہ امریکا میں پاکستان کے سفیر (1953ء–1955ء)، پاکستان کے تیسرے وزیر خزانہ (1956ء–1958ء) اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندہ (1964ء–1967ء) رہے۔ ان کا کوئی عربی ویکیپیڈیا مقالہ نہیں؛ یہ تعارف انگریزی اور اردو مقالوں اور وکی ڈیٹا سے لکھا گیا ہے۔ 1 2 3

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ لاہور میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد سر سید مراتب علی پنجاب کے ممتاز مسلم تاجر تھے، اور سید بابر علی اور سید واجد علی ان کے چھوٹے بھائی تھے۔ انہوں نے لکھنؤ اور لاہور میں تعلیم پائی؛ 1927 میں بی اے کے بعد لندن میں مڈل ٹیمپل میں قانون پڑھا، جہاں انہوں نے پہلی گول میز کانفرنس میں مسلم وفود کے اعزازی سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انگریزی مقالہ ان کی تاریخ پیدائش کی ایک اور صورت، 7 مئی، بھی محفوظ کرتا ہے، جو ان کی واشنگٹن سفری دستاویز پر لکھی تھی؛ یہاں معتبر تاریخ 5 جولائی 1907 ہے، جیسا کہ دونوں مقالے اور وکی ڈیٹا دیتے ہیں۔ 1 2

    عملی زندگی

    انہوں نے اپنے والد کی کمپنی کے لیے کام کیا؛ 1936 میں او بی ای اور 1944 میں سی آئی ای بنائے گئے۔ وہ 1937 سے 1945 تک پنجاب قانون ساز اسمبلی اور 1946 میں مجلس دستور ساز کے رکن رہے۔ آزادی کے بعد وہ امریکا میں سفیر (1953ء–1955ء)، وزیر خزانہ (1956ء–1958ء) اور اقوام متحدہ میں مستقل نمائندہ (1964ء–1967ء) رہے۔ ان کی کتابوں میں خود نوشت «جھلکیاں» (Glimpses، 1992) شامل ہے۔ 1 2

    وفات

    ان کی وفات 5 مارچ 1997 کو لاہور میں ہوئی؛ عمر 89 برس تھی۔ 1 3

    حوالہ جات

    • اوپر جن تعریف شدہ ماخذوں کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام ہونا چاہیے جس نے ہر واقعہ بدلا۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    سید مراتب علی
    Born in
    لاهور
    Died in
    لاهور

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    سید مراتب علی· لاهور· مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· عبد الرحمٰن چغتائی· عبد السلام· ابو الاعلیٰ مودودی· اعصام الحق قریشی

    ماخذ

    1. Syed Amjad Ali — English Wikipedia
    2. Syed Amjad Ali — Urdu Wikipedia
    3. Syed Amjad Ali — Wikidata Q4747016
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سید امجد علی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/syed-amjad-ali/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    سید مراتب علی

    لاہور کے تاجر و ٹھیکیدار (1882ء–1961ء) جنہوں نے اپنے والد سید وزیر علی کا کاروبار آگے بڑھایا: برطانوی ہندی فوج کی رجمنٹوں کو رسد کی فراہمی، لاہور کے اندرون شہر میں دکانیں اور پنجاب میں زمینوں کی خرید؛ انہی کے گھرانے سے ان کے مشہور بیٹے آئے: سید امجد علی، پاکستان کے وزیر خزانہ و سفیر، سید واجد علی، ٹیلی وژن کے بانیوں میں سے، اور سید بابر علی، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے بانی۔