سید مراتب علی

سيد مراتب علي

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

لاهور

لاہور کے تاجر و ٹھیکیدار (1882ء–1961ء) جنہوں نے اپنے والد سید وزیر علی کا کاروبار آگے بڑھایا: برطانوی ہندی فوج کی رجمنٹوں کو رسد کی فراہمی، لاہور کے اندرون شہر میں دکانیں اور پنجاب میں زمینوں کی خرید؛ انہی کے گھرانے سے ان کے مشہور بیٹے آئے: سید امجد علی، پاکستان کے وزیر خزانہ و سفیر، سید واجد علی، ٹیلی وژن کے بانیوں میں سے، اور سید بابر علی، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے بانی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
تاجر
خطہ
south-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد الحمید خان بھاشانی · احمد لطفی سید · علاؤالدین خان · علی المیرغنی

مکان میں

لاهور

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سید مراتب علی (1882ء–1961ء) لاہور کے تاجر و ٹھیکیدار تھے جن کی فرم برطانوی ہندی فوج کی رجمنٹوں کو رسد مہیا کرتی تھی، اور وہ پاکستان کی تین معروف شخصیات کے والد تھے: سید امجد علی، وزیر خزانہ و سفیر؛ سید واجد علی، صنعت کار اور ٹیلی وژن کے بانیوں میں سے؛ اور سید بابر علی، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے بانی۔ ان پر کسی زبان میں ویکیپیڈیا کا اپنا کوئی مضمون نہیں اور نہ وکی ڈیٹا میں ان کا کوئی اندراج ہے؛ یہ خاکہ ان کے تینوں بیٹوں پر انگریزی مضامین اور بابر علی کی خود نوشت کے سرکاری موقع سے لکھا گیا ہے، اور ان کے سن صرف اسی موقع پر ملتے ہیں۔ 1 2 3

    خاندانی کاروبار

    ان کے بیٹوں کے مضامین اس کاروبار کی تفصیل دیتے ہیں جس کے وہ سربراہ تھے۔ بابر علی کے مضمون کے مطابق ان کے والد کی لاہور کے اندرون شہر میں دکانیں تھیں اور وہ برطانوی ہندی فوج کے بڑے ٹھیکیدار تھے، رجمنٹوں کو لاجسٹکس اور ہر طرح کا سازوسامان مہیا کرتے تھے، اور کمائی ہوئی رقم زمینوں کی خرید میں لگائی جاتی تھی۔ خود نوشت کا موقع اسی کام کو برطانوی فوج کی رجمنٹوں کے لیے خاندانی پرویژن اسٹور کہتا ہے۔ امجد علی کا مضمون فرم کا نام «اے اینڈ ایم وزیر علی» بتاتا ہے، جس میں کراچی میں فورڈ موٹر کمپنی کا اسمبلی پلانٹ بھی شامل تھا، اور کہتا ہے کہ برطانوی راج کے آخری ایام میں مراتب علی کے مسلم، ہندو، سکھ اور برطانوی حلقوں میں سماجی و سیاسی روابط تھے۔ 1 3 4

    پھلوں کی کمپنی مچلز پر انگریزی مضمون میں لکھا ہے کہ 1958ء میں فرانسس مچل نے اپنے حصص کی اکثریت سید مراتب کو فروخت کر دی۔ خود مضمون اس بات پر حوالے کی طلب کا نشان لگاتا ہے، اس لیے یہ بات یہاں ثابت شدہ واقعے کے طور پر نہیں بلکہ روایت کے طور پر درج ہے۔ 5

    خاندان

    ان کی شادی سیدہ مبارک بیگم (1888ء–1969ء) سے ہوئی، جو انڈین پولیٹیکل سروس کے فقیر سید افتخار الدین کی بیٹی تھیں، اور ان کے دس بچے تھے: چار بیٹے اور چھ بیٹیاں۔ امجد علی کا مضمون انہیں بڑا بیٹا بتاتا ہے؛ واجد علی کا مضمون، استعماری دور کے تاجروں پر کلود مارکووٹس کی کتاب کے حوالے سے، واجد کو دوسرا بیٹا کہتا ہے۔ 3 4 2

    ان کا اپنا مسلک کسی مأخذ میں درج نہیں۔ تمام مآخذ میں واحد دینی عبارت بابر علی کے مضمون میں ہے، جو 2018ء کے «پاکستان ٹوڈے» کے خاکے کے حوالے سے خاندان کے بارے میں کہتی ہے کہ «ان کا خاندان شیعہ اسلام پر عمل کرتا ہے»۔ یہ عبارت خاندان کے عمل کے بارے میں ہے اور یہاں اسی صورت میں محفوظ ہے؛ یہ مراتب علی کی ذاتی نسبت نہیں بتاتی، اور کوئی دوسرا مأخذ ان کی نسبت کی گواہی نہیں دیتا۔ 1

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہو اور ہر واقعے کو بدلنے والے مأخذ کا نام دے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Parent of
    سید امجد علی
    Lived in
    لاهور

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    سید امجد علی· لاهور· مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· عبد الرحمٰن چغتائی· عبد السلام· ابو الاعلیٰ مودودی· اعصام الحق قریشی

    ماخذ

    1. Syed Babar Ali — English Wikipedia
    2. Syed Wajid Ali — English Wikipedia
    3. Learning From Others — Syed Babar Ali biography page
    4. Syed Amjad Ali — English Wikipedia
    5. Mitchell's — English Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سید مراتب علی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/syed-maratib-ali/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    سید امجد علی

    پاکستانی سرکاری ملازم و سیاست دان (1907ء–1997ء)، لاہور کے تاجر سید مراتب علی کے بڑے بیٹے، جو آزادی سے قبل پنجاب قانون ساز اسمبلی اور مجلس دستور ساز میں رہے، پھر امریکا میں پاکستان کے سفیر (1953ء–1955ء)، تیسرے وزیر خزانہ (1956ء–1958ء) اور اقوام متحدہ میں مستقل نمائندہ (1964ء–1967ء) رہے؛ ان کی کتابوں میں خود نوشت «جھلکیاں» (Glimpses) شامل ہے۔