پروفیسر سید محمد سلیم

سيد محمد سليم (المؤرخ الباكستاني)

پاکستانی ماہرِ تعلیم اور مؤرخ، 22 ستمبر 1922ء کو ریاست الور کے قصبے تجارہ میں پیدا ہوئے، علی گڑھ میں عربی پڑھی، سندھ کے کالجوں میں پڑھایا اور «تاریخِ خط و خطاطین» لکھی جو 2001ء میں ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی 1۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
مؤرخ · teacher · عالم
دور
العصر المعاصر
خطہ
south-asia

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبادی بانو بیگم · عباس حلمی ثانی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

arts-of-the-book

خلاصہ

کتاب میں «تعارفِ مؤلف» کے مطابق سید محمد سلیم 28 محرم 1341ھ مطابق 22 ستمبر 1922ء کو ریاست الور کے قصبے تجارہ میں پیدا ہوئے؛ والد کا نام عبد الوحید اور دادا کا عبد الحمید تھا۔ شریف گھرانوں کے دستور کے مطابق تعلیم قرآن سے شروع کی، پھر اسکول میں داخل ہوئے، پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل (1938) اور مولوی فاضل (1939) کے امتحان پاس کیے، عربک کالج دہلی میں پڑھا، اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے عربی میں امتیازی نمبروں سے ایم اے کیا، یونیورسٹی میں تیسری پوزیشن تھی، اور ساتھ ایل ایل بی بھی۔ ان کے اساتذہ میں مولوی امتیاز علی، مولانا عبد العزیز میمن اور مرزا محمود بیگ شامل ہیں۔ 1

پاکستان میں

قیامِ پاکستان کے اعلان کے بعد وہ بحری راستے سے بمبئی ہوتے ہوئے 29 نومبر 1947ء کو کراچی پہنچے، محکمہ ریونیو اور پھر ایک اسکول میں ملازمت کی، گورنمنٹ کالج حیدرآباد میں لیکچرر ہوئے، اور شکارپور، میرپور خاص اور نواب شاہ کے کالجوں میں پڑھاتے رہے۔ کتاب کے مطابق انہوں نے جماعتِ اسلامی سے اپنی فکری وابستگی پر اصرار کرتے ہوئے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیا، پھر شاہ ولی اللہ اورینٹل کالج منصورہ، حیدرآباد کے پرنسپل ہوئے، یہاں تک کہ نجی تعلیمی ادارے قومیائے گئے اور ان کا تبادلہ شکارپور ہوا جہاں سے وہ ریٹائر ہوئے؛ بعد میں ادارۂ تعلیمی تحقیق لاہور اور اس کے رسالے «افکارِ معلم» کے نگران رہے۔ 1

ان کی کتاب

ان کے شاگرد سید عزیز الرحمن نے ان کی «تاریخِ خط و خطاطین» مرتب کی جو ان کے نام کی اکیڈمی نے 2001ء میں کراچی سے شائع کی۔ مصنف کتاب کا آغاز اس بات سے کرتے ہیں کہ خطاطی مسلمانوں کا خاص فن ہے جس کا تعلق قرآن سے ہے: جیسے اس کی تلاوت نے تجوید کو جنم دیا، اس کی کتابت نے خوش نویسی کو؛ اور ان کے نزدیک اس کا زوال یورپی اقوام کے غلبے اور ٹائپ کی طباعت سے شروع ہوا، جبکہ لیتھو کی طباعت نے کاتبوں کی ضرورت کی وجہ سے اسے زندہ رکھا۔ 2 3 4

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Authored
تاریخِ خط و خطاطین

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

خطِ نستعلیق· تاریخِ خط و خطاطین· عباسی قلعی دار لعاب والے ظروف· احمد نگر کی مصوری· خطِ منسوب اور اقلامِ ستہ· الأرابيسك (الزخرفة الإسلامية)· بیجاپور کی مصوری· شکستہ رواں خط (نیا اسلوب)

ماخذ

  1. سيد محمد سليم، تاريخ خط وخطاطين، ترتيب سيد عزيز الرحمن (كراتشي: زوار أكاديمي پبليكيشنز، 1422هـ/2001م) , p. 14
  2. سيد محمد سليم، تاريخ خط وخطاطين، ترتيب سيد عزيز الرحمن (كراتشي: زوار أكاديمي پبليكيشنز، 1422هـ/2001م) , p. 7
  3. سيد محمد سليم، تاريخ خط وخطاطين، ترتيب سيد عزيز الرحمن (كراتشي: زوار أكاديمي پبليكيشنز، 1422هـ/2001م) , p. 15
  4. سيد محمد سليم، تاريخ خط وخطاطين، ترتيب سيد عزيز الرحمن (كراتشي: زوار أكاديمي پبليكيشنز، 1422هـ/2001م) , p. 16
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “پروفیسر سید محمد سلیم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/syed-muhammad-salim/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
متعلقہ

خطِ نستعلیق

ایک نفیس فارسی خط جو چودہویں صدی کے دوسرے نصف میں شیراز اور تبریز میں نسخ و تعلیق کے امتزاج سے بنا؛ «عروس الخطوط» کہلایا، فارسی شاعری کا خط بنا اور مغل ہند اور عثمانی ترکی تک پھیلا ۔