محمد طاہر جلال الدین

محمد طاهر جلال الدين

–

مینانگکاباؤ نژاد عالم (1869ء–1956ء) جو اسلامی فلکیات کے لیے مشہور ہوئے، مکہ میں اپنے چچا زاد بھائی احمد خطیب المنانگکباوی سے پڑھا، پھر الازہر میں تعلیم حاصل کی، ملایا میں آباد ہوئے، سید شیخ الہادی کے ساتھ سنگاپور میں اصلاحی مجلہ «الامام» (1906ء–1908ء) جاری کیا، پیراک اور جوہر میں دینی عہدوں اور تدریس کی خدمت کی اور ہجری تقویم، نماز کے اوقات اور قبلہ کی سمت پر معیاری کتابیں لکھیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · teacher · ماہرِ فلکیات · writer
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · احمد لطفی سید · علی المیرغنی · ابو القاسم فضل الحق

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد طاہر جلال الدین (8 دسمبر 1869ء – 26 اکتوبر 1956ء) مینانگکاباؤ کے عالم تھے جو اسلامی فلکیات کے لیے مشہور ہوئے اور عالمِ ملائی کے ممتاز اصلاحی علماء میں شمار ہوئے۔ انہوں نے مکہ میں اپنے چچا زاد بھائی احمد خطیب المنانگکباوی سے اور قاہرہ کے الازہر میں تعلیم حاصل کی، ملایا میں آباد ہوئے، سید شیخ الہادی کے ساتھ سنگاپور میں مجلہ «الامام» جاری کیا اور ہجری تقویم، نماز کے اوقات اور قبلہ کی سمت پر معیاری کتابیں لکھیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ سوماترا مغربی کے اگام میں امپیک انگکیک میں پیدا ہوئے؛ ملائی مضمون ان کی پیدائش کو 5 رمضان 1286ھ اور انڈونیشی مضمون 4 رمضان سے جوڑتا ہے۔ ان کے والد شیخ محمد سوماترا کے معروف عالم تھے۔ بچپن میں یتیم ہو کر تقریباً بارہ برس کی عمر میں مکہ بھیجے گئے اور وہاں بارہ سال سے زیادہ تعلیم پائی۔ ملائی مضمون ان کے استاد کے طور پر ان کے چچا زاد بھائی شیخ احمد خطیب المنانگکباوی کا نام لیتا ہے، جو اس وقت مسجد الحرام میں شافعی مذہب کے مفتی تھے، اسی لیے ان کے ریکارڈ میں احمد خطیب سے تلمذ کا تعلق درج ہے۔ انڈونیشی مضمون ان کے دیگر مکی اساتذہ کے نام لیتا ہے اور بتاتا ہے کہ الازہر میں چار سال (1893ء–1897ء) کے بعد، جہاں وہ افغانی اور محمد عبدہ کے افکار سے متاثر ہوئے، وہ مکہ واپس آئے اور احمد خطیب کی تدریس میں مدد کی، خصوصاً فلکیات میں۔ 1 2

    اصلاحی تحریک اور اشاعت

    ملایا میں وہ «کاوم مودا» اصلاحی تحریک کے رہنما کے طور پر جانے گئے، جو «کاوم توا» قدامت پسندوں کے مقابل تھی۔ 1906ء میں انہوں نے سید شیخ الہادی اور دیگر کے ساتھ سنگاپور میں مجلہ «الامام» جاری کیا، جو رشید رضا کے «المنار» کی طرز پر تھا، 1908ء تک نکلا اور جزیرہ نما کی صحافت میں پہلا اسلامی عوامی ذریعہ بنا۔ انہوں نے «الاخوان» اور «سعودارا» سمیت دیگر اصلاحی رسالوں میں بھی لکھا۔ 3 2

    پیراک اور جوہر میں خدمت

    ملائی مضمون کے مطابق وہ تائپنگ کی شرعی عدالت کے قاضی القضاۃ رہے اور سلطان ادریس شاہ اول کے دور میں تین سال پیراک کے مفتی رہے، جن کے فتووں کو کاوم توا نے رد کیا؛ انڈونیشی مضمون مزید بتاتا ہے کہ سلطان نے 1900ء میں انہیں پیراک کے اعیان و علماء کی مجلس میں مقرر کیا، ریاست کی مساجد کے قبلے درست کرنے کی ذمہ داری دی اور 1911ء میں جارج پنجم کی تاجپوشی کے لیے لندن ساتھ لے گئے۔ وہ جوہر میں دینی مدارس کے استاد و ناظر رہے، پینانگ کی مدرسہ المشہور میں پڑھایا (1920ء–1923ء) اور 1929ء سے کوالا کانگسار میں مقیم ہو کر وفات تک پڑھاتے اور لکھتے رہے۔ 1927ء میں ڈچ حکام نے سوماترا میں انہیں چھ ماہ قید رکھا، جس الزام کو ملائی مضمون جھوٹا کہتا ہے۔ 1 2

    فلکیات اور تصانیف

    ان کی شہرت اسلامی فلکیات پر ہے۔ ان کی کتاب «نتیجۃ الأمور» (1936ء) ہجری تقویم، اس کے میلادی مقابل، قبلہ کی سمت اور نماز کے اوقات کا دائمی حساب دیتی ہے؛ «کتاب جدول پاتی کیران» (1941ء) اوقات و قبلہ کے حساب کے لوگارتم فراہم کرتی ہے۔ وہ رمضان کے آغاز کے لیے رویت کے بجائے فلکی حساب (حساب) کے نمایاں داعی تھے، جس پر مینانگکاباؤ اور ملایا کے قدامت پسند علماء سے ان کا اختلاف ہوا۔ پینانگ کا شیخ طاہر فلکیاتی مرکز ان کے نام پر ہے۔ 3 2

    مذہب

    کسی ماخذ نے ان کا اپنا مذہب نہیں بتایا۔ مضامین انہیں افغانی اور عبدہ کے افکار سے تشکیل پانے والا کاوم مودا مصلح بتاتے ہیں، جو ایک تحریک ہے مذہب نہیں؛ انڈونیشی مضمون کے زمرے انہیں «شافعی مذہب» میں رکھتے ہیں، مگر زمرہ بندی شہادت نہیں، اور استاد کا مذہب شاگرد کا مذہب نہیں ہوتا۔ ویکی ڈیٹا ان کا دین صرف «اسلام» بتاتا ہے۔ اس لیے ان کے ریکارڈ میں مذہب نامعلوم درج ہے، بانی کے لیے نشاندہی کے ساتھ۔ 1 2 4

    وفات

    ان کا انتقال 26 اکتوبر 1956ء کو ہوا اور کوالا کانگسار، پیراک کی جالان بارو قبرستان میں دفن ہوئے، جہاں ان کا مقبرہ تاریخی قرار دیا گیا ہے۔ انڈونیشی مضمون وفات کو 22 ربیع الاول 1376ھ سے جوڑتا ہے؛ ملائی مضمون کی ہجری سال (1377ھ) اس سے مختلف ہے، اس لیے انڈونیشی قراءت اختیار کی گئی ہے۔ ان کے بیٹے حمدان پینانگ کے گورنر بنے (1989ء–2001ء)۔ 1 2 3

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ ادارے، data/source/ میں درج ہیں۔
    • ان کی کوئی عربی یا اردو ویکیپیڈیا مضمون نہیں ہے؛ یہ صفحہ اور عربی صفحہ اوپر مذکور انگریزی، ملائی اور انڈونیشی مضامین اور ویکی ڈیٹا آئٹم سے لکھے گئے ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم کی تاریخ درج ہونی چاہیے اور ہر حقیقت بدلنے والے ماخذ کا نام آنا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Studied under
    احمد خطیب المنانگکباوی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبد الکریم امر اللہ· آغوس سالم· مكة المكرمة· احمد خطیب المنانگکباوی

    ماخذ

    1. Tahir Jalaluddin — Malay Wikipedia
    2. Tahir Jalaluddin — Indonesian Wikipedia
    3. Tahir Jalaluddin — English Wikipedia
    4. Tahir Jalaluddin — Wikidata Q2649246
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد طاہر جلال الدین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/tahir-jalaluddin/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبد الکریم امر اللہ

    مینانگکاباؤ عالم اور مصلح (1879ء–1945ء)، جو حاجی رسول کے نام سے مشہور ہوئے: مکہ میں شیخ احمد خطیب المنانگکباوی سے تعلیم حاصل کی، پھر سنگائی باتانگ اور پاڈانگ پانجانگ سے طوالب مدارس کے ذریعے تعلیمی تجدید کی قیادت کی جن میں دینی اور عام علوم جمع تھے؛ انہوں نے رواجی رسوم، مادری نسبی نظام اور استعماری ٹیکسوں کی مخالفت کی، جکارتہ میں وفات پائی اور حمکا کے والد تھے۔