ایک نظر میں
- کردار
- وزیر
- خطہ
- southeast-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
تن پیراک (وفات 1498ء) سلطنت ملاکا کے پانچویں اور سب سے مشہور بنداہارا — وزیر اعظم کے مساوی عہدہ — تھے؛ انھوں نے 1456ء سے 1498ء تک چار سلطانوں — مظفر شاہ، منصور شاہ، علاء الدین رعایہ شاہ اور محمود شاہ — کی خدمت کی۔ 1 جن مصادر کا مطالعہ کیا گیا ان میں سے کوئی بھی ان کی پیدائش کا سال نہیں دیتا: عجائب گھر کی فہرست کا 1410ء کا عدد کہیں موثق نہیں، ملائی مضمون کا اطلاع خانہ بغیر ماخذ کے 1426ء دیتا ہے، اور ان کے وکی ڈیٹا مدخل میں پیدائش کی ناممکن قدر 1500ء درج ہے، جو خود ان کی وفات کے بعد کی ہے۔ 2 3 ان کے والد کے نام میں ایک ہی روایت کے اندر اختلاف ہے: ملائی ایڈیشن انھیں تن پرباتیہ سیدانگ، بنداہارا سری واک راجا، کا بیٹا بتاتا ہے، جبکہ انگریزی مضمون ان کے والد کو پہلے بنداہارا سری واک راجا تن پرباتیہ بیسار کہتا ہے۔ 1 2
عروج اور سیامی جنگیں
ابتدائی زندگی میں تن پیراک ملاکا کے حکمرانوں کے سپاہی اور مدبر تھے۔ 1445ء میں وہ کلانگ میں ملاکا کے نمائندے اور سردار مقرر ہوئے اور کلانگ کے لوگوں کو — عورتوں سمیت، تاکہ مرد ان کی حفاظت کے لیے زیادہ شدت سے لڑیں — دارالحکومت کے دفاع کے لیے لائے۔ 1 2 1445ء میں ایک سیامی حملہ شروع ہوا جو 1446ء تک جاری رہا؛ جب 1456ء میں دوسرا سیامی حملہ ہوا تو تن پیراک بنداہارا تھے اور انھوں نے اسے پسپا کرنے والے دفاع کی قیادت کی — اس میں ملاکا کی پہلی بحری لڑائی بھی شامل تھی جو باتو پاہٹ کے مقام پر ہوئی، جہاں ان کے زیر قیادت بیڑے نے سیامیوں کو سنگاپور تک دھکیل دیا۔ 1
سلطنت کے وزیر
بنداہارا کی حیثیت سے انھوں نے پہانگ، ترینگانو، جوہر، ریاؤ، لنگا، بنگکالیس، کریمون، روکان، سیاک، کمبار، جامبی، اندراگیری اور آرو پر ملاکا کا اثر بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیا، اور ان علاقوں کے حکمرانوں نے ملاکائی اثر سے اسلام قبول کیا۔ 1 وہ 1456ء میں تن علی کے جانشین کے طور پر بنداہارا بنے اور منصور شاہ و علاء الدین رعایہ شاہ کے عہدوں سے ہوتے ہوئے کم عمر محمود شاہ کے عہد تک اس عہدے پر رہے، جن کے ابتدائی برسوں میں وہ عملی طور پر ان کے اتالیق تھے۔ 1 2
وفاداری اور وفات
تن پیراک سلطنت سے وفاداری کے لیے مشہور تھے؛ جب سلطان محمود شاہ کے بیٹے شہزادے راجا محمد نے غلط فہمی میں ان کے بیٹے تن بیسار کو قتل کر دیا تو انھوں نے سلطان سے انتقام نہیں مانگا، بلکہ درخواست کی کہ راجا محمد کو کہیں اور تاج پوش کیا جائے، اور سلطان نے یہ درخواست مان کر شہزادے کو پہانگ کا سلطان بنا دیا۔ 1 1498ء میں ان کی وفات ہوئی اور ان کے چھوٹے بھائی تن پرباتیہ پوتیح بنداہارا کے عہدے پر ان کے جانشین ہوئے۔ 1 3 ان کی وفات کو عموماً ملاکا کی سلطنت کے زوال کی ابتدا سمجھا جاتا ہے؛ آج ملائیشیا بھر میں سڑکیں، اسکول اور کالج ان کے نام پر ہیں، جن میں کوالالمپور کی جالان تن پیراک اور تن پیراک ٹاور شامل ہیں۔ 1
پیشہ ورانہ سفر
ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔
- وزیر · اصل پیشہ · بغیر تاریخ
ماخذ
- Tun Perak — English Wikipedia
- Tun Perak — Malay Wikipedia
- Tun Perak — Wikidata (Q7852773)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “تن پیراک”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/tun-perak/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.