وزیر

الوزير

وزیر اسلامی ریاستوں میں حکمران کے بعد سب سے بڑا منتظم تھا۔ عباسی دور میں یہ منصب باقاعدہ ادارہ بنا، اور تفویض کا وزیر خلیفہ کی طرف سے سونپے گئے امور میں اس کا نائب تھا۔ عثمانی ریاست میں وزراء دیوانِ ہمایوں کے رکن تھے جن کا سربراہ صدرِ اعظم ہوتا تھا، اور اصلاحات کے بعد یہ لقب ایک پروٹوکول رتبہ رہ گیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر الأموي · العصر العباسي المبكر · عصر تفكك الخلافة العباسية · إمبراطوريات البارود
خطہ
levant-iraq · persia-central-asia · anatolia-balkans
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

خلاصہ

وزیر اسلامی ریاستوں میں حکمران کے بعد ریاست کا سب سے بڑا منتظم تھا، ترک انسائیکلوپیڈیا کی یہی تعریف ہے۔ 1 عباسی دور میں وزیرِ تفویض خلیفہ کی طرف سے سونپے گئے امور میں اس کا نائب تھا۔ 1 عثمانی ریاست میں وزراء دیوانِ ہمایوں کے رکن تھے جن کا سربراہ وزیرِ اول، یعنی صدرِ اعظم، ہوتا تھا۔ 1 انیسویں صدی کی اصلاحات کے بعد یہ لقب ایک پروٹوکول رتبہ بن گیا۔ 1

آغاز

لفظ کی اصل پر اختلاف ہے: کچھ محققین اسے فارسی الاصل مانتے ہیں جو عربی بنا، اور کچھ عربی الاصل۔ 1 ادارے کی اصل ساسانی سمجھی جاتی ہے، اور فارسی اثر امویوں سے عباسیوں کو خلافت منتقل ہونے کے بعد نمایاں ہوا۔ 1

اموی دور

اموی دور میں باقاعدہ وزارت نہیں تھی۔ خلفاء کاتب رکھتے تھے جن سے مشورہ لیا جاتا، اور انہیں باقاعدہ وزیر کا لقب نہیں دیا جاتا تھا۔ 1 زیاد بن ابیہ اور روح بن زنباع جیسے کچھ لوگوں کو یہ لقب ملا، لیکن انسائیکلوپیڈیا اسے ادارے کے قائم ہونے کی دلیل نہیں مانتا۔ 1

عباسی وزارت

انسائیکلوپیڈیا کے مطابق عباسیوں میں پہلا وزیر ابو سلمہ خلال تھا، جو پہلے عباسی خلیفہ السفاح کا وزیر رہا۔ 1 مہدی (775–785) کے دور میں وزارت ایک منظم منصب بن گئی۔ 1 السفاح اور المنصور کے دور میں، ایک کے سوا، وزارت پانے والے سب کو موت کی سزا ہوئی۔ 1

ہارون الرشید کے زمانے میں وزیر کے اختیارات انتہا کو پہنچے۔ یحییٰ بن خالد برمکی گورنر مقرر اور معزول کرتا، خراج طے اور جمع کرتا، اور جیش پر بھی اختیار رکھتا تھا۔ 1 بعد میں برامکہ کو سخت سزا ملی۔ 1

عباسی دور کے آخری حصے میں وزارت کی حیثیت گھٹ گئی۔ 324 ہجری (936) میں امیر الامراء کا منصب آیا، اور وزارت زیادہ تر ایک رسمی عہدہ بن گئی۔ 1 بویہی (334–447 ہجری) اور سلجوقی (447–530 ہجری) ادوار میں وزراء کو وسیع اختیار حاصل رہا۔ 1

تفویض، تنفیذ اور تقرری

ماوردی نے دو قسم کے وزیر بتائے: وزیرِ تفویض، جو خلیفہ کے نائب کے طور پر ریاست کے تمام امور چلاتا تھا، اور وزیرِ تنفیذ، جس کے اختیارات محدود تھے۔ 1 یہ تقسیم انسائیکلوپیڈیا نے ماوردی کی «الاحکام السلطانیہ» سے لی ہے، اور یہ کتاب اس سجل کے لیے نہیں پڑھی گئی۔ 1

عثمانی ریاست میں وزیر

انسائیکلوپیڈیا کے مطابق عثمانی مآخذ میں پاشا، صاحب، آصف، وکیل، ناظر اور لالا کے الفاظ وزیر کے ہم معنی استعمال ہوئے۔ 1 وزیرِ اول کو سلطان کی مہر دی جاتی تھی، اور باقی وزراء اس کے مشیر کے طور پر کام کرتے تھے۔ 1 سلطان وزیر کو خطِ ہمایوں سے مقرر کرتا تھا۔ 1

857 ہجری (1453) میں محمد فاتح نے صدرِ اعظم چندرلی خلیل کو گرفتار کر کے قتل کرایا، اور اس کی جگہ کُل نظام سے فوجی الاصل لوگ لائے گئے۔ 1 کلاسیکی دور (1453–1600) کے زیادہ تر وزراء فوجی پس منظر کے تھے۔ 1

سولہویں صدی میں دیوانِ ہمایوں میں وزراء کی تعداد سات ہو گئی، جب مصر، بغداد، حبشہ، یمن اور بودا جیسے دور دراز صوبوں کے گورنروں کو وزیر کا رتبہ دیا گیا۔ 1 1578 میں قبہ کے وزراء نو اور خارج کے وزراء سولہ کیے گئے۔ 1

محمد کوپرولو کو 1066 ہجری (1656) میں وسیع اختیارات دیے گئے، اور یہ اختیار اس کے خاندان کے پاس تقریباً نصف صدی رہا۔ 1

کارلووِٹز کے معاہدے (1699) کے بعد وزراء کی اصل بدل گئی، اور اٹھارہویں صدی میں زیادہ تر وزراء رئیس الکتاب میں سے چنے گئے۔ 1 1795 میں وزارت کو صرف والیوں تک محدود کیا گیا۔ 1 1836 میں نظارتیں قائم ہوئیں، اور صدرِ اعظم نے زیادہ تر اختیارات کھو کر «باش وکیل» کا لقب لیا۔ 1

صدارتِ عظمیٰ

صدرِ اعظم وزیرِ اول تھا، جس کے ہاتھ میں ریاست کے اختیارات براہِ راست رہتے تھے۔ 1 عملاً وہ دیوانِ ہمایوں کی صدارت کرتا تھا، اور کسی وزیر کی رپورٹ اس کے واسطے کے بغیر سلطان تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔ 1

یہ منصب کہاں گیا

انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں وزارت کی حیثیت بدلی، اور اصلاحات کے بعد وزیر کا لقب وزراء کے لیے محض پروٹوکول کا لقب رہ گیا۔ 1

الأعلام عبر العصور

  • ابو سلمہ خلال، انسائیکلوپیڈیا کے مطابق عباسیوں میں یہ لقب پانے والا پہلا شخص۔ 1
  • محمد امین پاشا قبرصی، 29 مئی 1854 سے 23 نومبر 1854 تک صدرِ اعظم، اور پھر 18 اکتوبر 1859 سے۔ 2
  • سعید حلیم پاشا، 11 جون 1913 کو وزیر کا رتبہ اور قائم مقام صدارت، اگلے دن صدرِ اعظم، اور 17 جون 1913 کو حکومت بنائی جس کے ساتھ وزارتِ خارجہ بھی سنبھالی۔ 3

حوالہ جات

  • TDV İslâm Ansiklopedisi، «VEZİR»، جلد 43، صفحات 79–82۔ 1
  • TDV İslâm Ansiklopedisi، «MEHMED EMİN PAŞA, Kıbrıslı»، کمال چیچک، جلد 28، صفحات 463–464۔ 2
  • TDV İslâm Ansiklopedisi، «SAİD HALİM PAŞA»، جلد 35، صفحات 557–560۔ 3

یہ پیشہ کس نے اختیار کیا

العصر الاستعماري

  • محمد أمين باشا القبرصي اصل پیشہ إسطنبول 29 مئی 1854 عیسوی · 2 رمضان 1270 ھ† – 23 نومبر 1854 عیسوی · 2 ربیع الاول 1271 ھ† ایک سے زیادہ بار یہ منصب سنبھالا First grand vizierate, from 29 May to 23 November 1854, on the proposal of Mustafa Reşid Pasha. The vizier rank given in 1848 before his London post is a rank and not an office, and is not recorded here. Recorded under vizier as the person's roles state (sadrazam).
  • محمد أمين باشا القبرصي اصل پیشہ إسطنبول 18 اکتوبر 1859 عیسوی · 21 ربیع الاول 1276 ھ† ایک سے زیادہ بار یہ منصب سنبھالا Second grand vizierate, from 18 October 1859. The end of this stint is not set here, because the entry's account beyond that date was not read for this record.
  • سعید حلیم پاشا ایک اور پیشہ إسطنبول 12 جون 1913 عیسوی · 8 رجب 1331 ھ† Given the rank of vizier and made deputy grand vizier on 11 June 1913, and grand vizier the next day, the entry says; the government was formed on 17 June 1913 with the foreign ministry. Recorded here under vizier as the person's roles state; the grand vizierate is a separate job and the end of this office is not set here.

بغیر تاریخ کے

ابھی تحریر نہیں ہوا

اسی مدخل کے قراخانی، ایوبی، فاطمی، ایلخانی اور مملوک ادوار کے حصے اس سجل کے لیے نہیں پڑھے گئے، اس لیے یہاں نہیں لکھے گئے۔ صدارت کا الگ مدخل بھی نہیں پڑھا گیا۔ جغرافیہ، کام کی جگہ، آلات، پیداوار، اجتماعات، اسفار اور تصویر کے حصے ابھی نہیں لکھے گئے۔

حوالہ جات

  1. الوزير — موسوعة TDV الإسلامية (فاتح يحيى أياز وآخرون) , p.79-82
  2. محمد أمين باشا القبرصي — موسوعة TDV الإسلامية (كمال تشيتشك) , p.463-464
  3. Said Halim Pasha — TDV İslâm Ansiklopedisi , p.557-560
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “وزیر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/job/vizier/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔