استاد احمد لاہوری

الأستاذ أحمد لاهوري

1580 عیسوی · 988 ھ† – 1649 عیسوی · 1059 ھ† †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

استاد احمد لاہوری (تقریباً 1580ء – 1649ء)، جنھیں احمد معمار بھی کہا جاتا ہے، مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے معمار اور انجینئر تھے۔ شاہ جہاں کی سرکاری تواریخ انھیں استاد حمید کے ساتھ دہلی کے لال قلعے (1639ء–1648ء) کے معماروں میں شمار کرتی ہیں۔ انھیں عموماً آگرہ کے تاج محل کا معمار بیان کیا جاتا ہے، لیکن تاج محل کے معمار کی شناخت یقینی طور پر معلوم نہیں؛ اس نسبت کا واحد صریح ثبوت ان کے بیٹے لطف اللہ مہندس کی ایک نظم ہے جو احمد کی وفات کے بعد لکھی گئی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
معمار · engineer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1525عیسوی1550عیسوی1575عیسوی1600عیسوی1625عیسوی1650عیسوی1675عیسوی1700عیسوی
إمبراطوريات البارود ہم عصر: پانمباہان راتو · محمد دیپاتوان کدرات · ملا شاہ بدخشی · صفي الدين القشاشي · عبد الحق أمانت خان

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    استاد احمد لاہوری (تقریباً 1580ء – 1649ء)، جنھیں احمد معمار بھی کہا جاتا ہے، مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے معمار اور انجینئر تھے 1۔ انھیں عموماً آگرہ کے تاج محل کا معمار بیان کیا جاتا ہے، لیکن تاج محل کے معمار کی شناخت یقینی طور پر معلوم نہیں؛ ریکارڈ اس نسبت کو ویسا ہی رکھتا ہے جیسا مآخذ پیش کرتے ہیں 2.

    شاہ جہاں کے معمار

    احمد معماروں اور انجینئروں کے خاندان سے تھے اور جیومیٹری، ریاضی اور فلکیات میں ماہر؛ ان کے بیٹے لطف اللہ کے مطابق وہ اقلیدس کے اصول اور بطلیموس کی المجسطی سے واقف تھے 1۔ شاہ جہاں نے انھیں «نادر العصر» کا خطاب دیا 3۔ جب شہنشاہ نے دہلی میں نئی راجدھانی بنائی تو سرکاری تاریخ نے — بیگلے اور دیسائی کے ترجمے میں — «ماہر انجینئروں اور بڑے معماروں، استاد احمد اور استاد حمید» کو لال قلعے کے نقشے کے خالق قرار دیا، جو 1639ء میں شروع اور 1648ء میں مکمل ہوا 2۔ احمد 1649ء میں وفات پا گئے، دہلی کی جامع مسجد کے آغاز سے ایک سال پہلے؛ اس مسجد کے وقف نامے پر ان کے بیٹے نور اللہ کے دستخط ہیں 2.

    تاج محل کی نسبت

    شاہ جہاں کی درباری تواریخ نے شہنشاہ کو خود اس کا معمار پیش کیا، اور تاج محل کے بارے میں سرکاری تواریخ صرف کام کے نگرانوں مکرمت خان اور میر عبد الکریم کا نام لیتی ہیں 2۔ احمد سے نسبت کی بنیاد ان کے بیٹے لطف اللہ کی «دیوانِ مہندس» کی ایک نظم ہے، جو احمد کی وفات کے بعد لکھی گئی اور انھیں ممتاز محل کے مقبرے اور پھر دہلی کے قلعے کا معمار کہتی ہے 2۔ بیگلے اور دیسائی کا موقف ہے کہ چونکہ نظم کا قلعے والا دعویٰ سرکاری تاریخ سے ثابت ہے، اس لیے مقبرے والا دعویٰ بھی سنجیدگی سے لینا چاہیے، جبکہ کوخ لکھتی ہیں کہ اس عمارت کے معمار یا معماروں کی شناخت یقینی طور پر معلوم نہیں 2۔ عربی اور اردو مضامین انھیں تاج محل کا معمار اس تحفظ کے بغیر قرار دیتے ہیں 3 1.

    پیشہ ورانہ سفر

    ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔

    • معمار · ایک اور پیشہ · بغیر تاریخ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Parent of
    لطف اللہ مہندس

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    لطف اللہ مہندس

    ماخذ

    1. Ustad Ahmad Lahori — Urdu Wikipedia
    2. Ustad Ahmad Lahori — English Wikipedia
    3. Ustad Ahmad Lahori — Arabic Wikipedia
    • Ahmad Lahori (Q2551253)
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “استاد احمد لاہوری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ustad-ahmad-lahori/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    لطف اللہ مہندس

    سترھویں صدی کے مغل دور کے ریاضی دان، مؤرخ اور انجینئر، جو استاد احمد لاہوری کے دوسرے بیٹے تھے۔ ان کے «دیوانِ مہندس» میں ان کے والد کے تعمیراتی کارناموں پر اشعار محفوظ ہیں — انہی میں تاج محل کی احمد لاہوری سے واحد صریح نسبت ملتی ہے — اور انھوں نے ہندسی اشکال پر ایک عملی رسالہ لکھا اور مانڈو و پشاور میں منصوبے اور دارا شکوہ کے لیے کام مکمل کیے۔